• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’احفاظ الرحمٰن‘‘ حقوقِ انسانی اور اظہارِ رائے کے محافظ

گزشتہ برس ہم نے جن عظیم لوگوں کو کھویا، اُن میں احفاظ الرحمٰن صاحب کا نام سرِ فہرست ہے۔وہ اظہارِ رائے کی آزادی ہی کے مجاہد نہیں تھے، بلکہ صحافیوں کی اُس صف سے تعلق رکھتے تھے، جو بے خوف، مستعد اور نڈر ہونے کے ساتھ، دوسروں کا خیال رکھنے میں بھی نمایاں تھی۔یہاں اُنھیں یاد کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ اُن کے حالاتِ زندگی دُہرائے جائیں، تاہم اُن کی چند ایسی خصوصیات کا ذکر کرنا چاہتے ہیں، جو آج کل کے صحافیوں میں ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔ 

احفاظ صاحب مجھ سے تقریباً بیس برس بڑے تھے، اس لیے مَیں اُن کا قریبی دوست ہونے کا دعویٰ تو نہیں کرسکتا، مگر یہ بات ناممکن تھی کہ کوئی کراچی کی محدود ترقّی پسند اور جمہوری سیاست کا حصّہ ہوتے ہوئے اُن سے دور رہ سکے۔ ہم ایک دوسرے کو جانتے تھے، نیز ہمارے بہت سے دوست اور خیالات بھی مشترک تھے۔ 

خاص طور پر جب وہ جنگ گروپ کے ساتھ وابستہ تھے، تو اُس دَوران اکثر اُن کے دفتر میں ملاقات ہوا کرتی تھی۔ جب بھی اُنہیں اپنا کوئی مضمون اشاعت کے لیے پیش کیا، تو وہ نہ صرف اس پر گفتگو کرتے، بلکہ اپنی بے مثال ادارتی صلاحیتیں بروئے کار لا کر اُسے بہتر بنا دیتے۔ لگ بھگ بیس سال پہلے جب مَیں نے کراچی چھوڑا، تو اُن سے رابطہ بھی کم ہوتا گیا۔

البتہ، جب کبھی پریس کلب جاتا، تو احفاظ صاحب سے بھی ملاقات ہو ہی جاتی۔ وہ ہمیشہ کُھلے دل سے خوش آمدید کہتے اور اپنی گرتی صحت کے باوجود مستعد نظر آتے۔ وہ مستعدی، جو اب بہت سے نوجوان صحافیوں میں بھی نظر نہیں آتی۔ وہ مُلکی اور بین الاقوامی حالات سے باخبر رہتے، جب کہ ملاقاتوں میں انسانی حقوق کی بگڑتی صُورتِ حال اور جمہوری بحران پر بھی فکر مندی کا اظہار کرتے۔ اُنہیں اپنے ساتھی کارکنان کے مسائل کا بخوبی اندازہ تھا اور اُن کے حقوق کے لیے لڑنے پر بھی تیار رہتے۔ اُنہیں معاشرے میں اظہارِ رائے پر بڑھتی پابندیوں پر غصّہ تھا، تو وہ صحافت کے گرتے معیار پر بھی شاکی تھے۔

احفاظ صاحب نے کبھی بھاری بھر کم تن خواہوں یا اعلیٰ عُہدوں کی دوڑ میں شامل ہو کر اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا۔اُن کا عوام سے تعلق تھا اور اُن ہی کے روز مرّہ مسائل میں دل چسپی رکھتے تھے۔ جمہوریت پر پختہ یقین تھا، جسے وہ پاکستان میں مسلسل خطرات میں گِھرا دیکھتے آئے تھے۔ اُن کی صحافتی زندگی پچاس سال سے بھی طویل تھی اور اُنہوں نے چین کے ثقافتی انقلاب کو اپنے چین میں قیام کے دَوران قریب سے دیکھا، جب وہ وہاں ایک صحافی کے طور پر کام کررہے تھے۔ احفاظ صاحب بظاہر اپنے متناسب سے وجود میں ایک مہان کردار رکھتے تھے، جو جنرل ایّوب خان سے لے کر جنرل ضیاء الحق تک ہر آمر کو للکار سکتا تھا۔وہ جنرل ضیاء الحق کے خلاف چلنے والی صحافیوں کی تحریک کے قائدین میں شامل تھے۔

اسی لیے جنرل ضیاء الحق کی ظالمانہ کارروائیوں اور اظہارِ رائے کی آزادی کے تحفّظ کے لیے جو جدوجہد کی گئی، اُس داستان کو اپنی کتاب’’ سب سے بڑی جنگ‘‘ میں تفصیل سے قلم بند کیا۔ یہ وہ دَور تھا، جب صحافتی حلقے جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف متحد تھے، مگر بعدازاں اُن میں پھوٹ ڈال دی گئی۔ احفاظ صاحب کسی بھی ایسی بالا دست قوّت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں تھے، جو اُن کے اصولوں سے متصادم ہو۔ وہ صحافی، جنہوں نے آزادیٔ صحافت کے لیے جیلیں کاٹیں، تشدّد برداشت کیا اور کوڑے بھی کھائے، اُن میں منہاج برنا، ناصر زیدی، نثار عثمانی، خاور نعیم ہاشمی اور اقبال جعفری کے ساتھ احفاظ صاحب بھی پیش پیش تھے۔

احفاظ صاحب اپنی انتہائی سخت زندگی کے باوجود اپنی ذات میں انجمن رہے اور اپنی شخصیت کی ترو تازگی بھی برقرار رکھی۔ سماج کو بہتر بنانے کے لیے اُن کا جوش وجذبہ کبھی ماند نہیں پڑا اور وہ یہ بہتری صرف مادّی حالات ہی میں نہیں چاہتے تھے، بلکہ ایک لبرل اور ترقّی پسند انسان کی حیثیت سے بھی عوام کی بہتر ذہنی صلاحیتوں کے خواہاں تھے۔ احفاظ صاحب کی خود اپنی دانش ورانہ صلاحیتیں بے مثل تھیں۔ اُنھیں بیک وقت کئی شعبوں پر عبور تھا اور جونیئر صحافیوں سے بھی اسی کی توقّع رکھتے تھے۔ حالاتِ حاضرہ کے علاوہ تاریخ، بین الاقوامی تعلقات، سیاست، مذاہبِ عالم اور ادب کے میدان میں بھی وسیع معلومات کے حامل تھے۔ 

ایک بار مَیں نے اُن سے پوچھا کہ’’ وہ کیسے اِتنے وسیع مطالعے کے حامل بنے؟‘‘ تو اُن کا جواب تھا کہ’’ ہر اچھے جرنلسٹ کو’’ جنرلسٹ‘‘ ہونا چاہیے۔ یعنی اس کی جنرل نالج یا معلوماتِ عامّہ بھی وسیع ہونی چاہیے۔‘‘ پھر ہنستے ہوئے وضاحت کی’’ جنرلسٹ کا مطلب پاکستان میں اکثر لوگ ’’ جنرل‘‘ کا پروردہ ہونا سمجھتے ہیں۔‘‘ احفاظ صاحب نے اچھے صحافیوں کی ایک پوری کھیپ تیار کی، جن میں سے کئی ایک آج پاکستانی صحافت کے بڑے نام ہیں۔

بلاشبہ، آج ہمیں احفاظ صاحب جیسے مثالی کردار کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ اُنھوں نے آمروں کے خلاف جدوجہد کی، مگر آج یہ جدوجہد ایک غیر مرئی ہاتھ کے خلاف ہے، مگر افسوس! اب ہمیں نہ تو اِتنے اچھے اور درد مند رفقائے کار ملتے ہیں اور نہ ہی بے غرض صحافی۔ احفاظ صاحب کی کہانی اُن کی شریکِ حیات، مہناز رحمٰن کے ذکر کے بغیر ادھوری رہے گی۔ 

مہناز اپنے شوہر کے ساتھ ہر مشکل میں کھڑی رہیں۔ تمام مشکلات اور زندگی کے نشیب وفراز میں اُن کا ثابت قدمی سے ساتھ دیا۔نیز، مہناز خود بھی اپنی ذات میں ہمّت و استقامت کا نمونہ ہیں۔ اُنھوں نے بھی انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے مثالی جدوجہد کی ہے۔