آپ آف لائن ہیں
پیر16؍ رجب المرجب 1442ھ یکم مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مہنگائی بمقابلہ کورونا

ہم ہندسوں کے مارے، وعدہ پرست بیچارے مہنگائی کے مارے اٹھیں بھی تو اٹھ نہیں سکتے؎

جسے کورونا نے نہ پوچھا

اسے مہنگائی نے ہے مارا

چھٹی والے دن ہم پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے سوا کیا تحفہ پیش کر سکتے ہیں وہی دیں گے جو پاس ہو گا، جو قلم کبھی ستارے توڑ لاتا تھا اب زمین کے تاروں کی بدحالی کے سوا کیا لکھ سکتا ہے؟ اچھا ہے کہ ہانڈی بیچ چوراہے پھوٹ گئی کہ چولہوں میں آگ نہیں، ہر غریب چار پانچ تیلیاں تو کم از کم گیس کو دکھاتا ہے، اس طرح ماچس انڈسٹری کو خاصا فائدہ ہوا ہے، وہ عوام جو اب تک کتنے ہی سروں پر تاج رکھ کر بھی تاراج ہے، پھر کسی کے ڈبے میں پرچی ڈالیں گے اور ڈبہ بند ہو جائے گا، ہم تو بس یہی تلقین کر سکتے ہیں کہ یہ پرچی بھی گویا پرچہ ہے جو بندہ مفلس کے خلاف نہ جانے کب تک کٹتا رہے گا، کنواریاں کہتی ہیں ’’کاٹے نہ کٹیں رتیاں‘‘ اور کنوارے ’’سی ویز‘‘ اس طرح دَر دَر پھینکتے ہیں جیسے ڈاکیا خط اور ہاکر اخبار۔ کورونا وائرس نے پھر بھی پاکستان پر ہتھ ہولا رکھا مگر حکمرانوں نے فرمایا مہنگائی کی لے تیز کرو غریب بہت بھوکا ہے، جو اکثریت گنی چنی آمدنی پر گزارا کرتی ہے وہ کیا کرے، بقول مولانا پچھلے چوروں کو بلانا پڑے گا، کہ موجودہ متقیوں نے نوافل ہی ادا کئے، محکمے کام کے نہیں رہے اس لئے کام نہیں کرتے، کیا لاہور صاف ہو چکا ہے؟ میرے ساتھ والے پلاٹ میں اب بھی بھینسیں بندھی ہیں‘ ہوا چلتی ہے تو پورا محلہ معطر ہو جاتا ہے۔ لیسکو ہو یا کوئی اور ادارہ، یہ سب مرے آزمائے ہوئے ہیں۔ ہم سے تھوڑی تھوڑی دیر بعد کہا جاتا ہے کہ کورونا سے بچائو کی تدابیر اختیار کرو، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں، الحمدللہ اعدادوشمار ٹھیک ہیں، زمین پر کچھ ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

٭٭٭٭

مرنا کتنا سستا ہو گیا؟

ہمارے نامور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے، پاکستان میں کتا ویکسین نہیں کورونا ویکسین کی کیا بات کریں۔ اب وہی پروین شاکر کا مصرع؎ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی، کیا کریں حالات بدلتے تو ہمارا اندازِ بیان بھی بدلتا، جو ہمارا گزرا کل ہے وہی ہمارا آج، ہم نے کتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا ہے وہ بیچارے بھوکے ننگے پیاسے بائولے نہ ہوں تو کیا کریں؟ اور بھی کئی مخلوقات کاٹتی ہیں، ان کی ویکسین پر کوئی توجہ نہیں، اسپتالوں میں کتا ویکسین دستیاب ہونا یا فراہم کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ ایک کتا مار سیل بھی ہے وہ کبھی کبھی بے گھر کتوں کو گولی مار دیتا ہے جب کہ دنیا بھر میں کتے کو یوں مارنا غیر قانونی ہے، انسان جب انسان کو کاٹتا ہے تو پھر واقعی وطن عزیز میں کتا ویکسین کیسے مل سکتا ہے؎

دعوے ہیں بس دعوے ہیں دعوئوں کا کیا

خالی خولی وعدے ہیں وعدوں کا کیا

کتا ویکسین کے لئے مختص فنڈ تو ہو گا، پھر کتے کے کاٹے کا علاج کیوں نہیں؟ ظاہر ہے خورد برد کا موسم سدا بہار ہے قائم رہے گا۔ لوگ خوش تھے کہ ایک تیسری پارٹی آ گئی اب پھر سے رو رہے ہیں کہ وہ بھی ٹی پارٹی نکلی، قوم کے احساس کو کیوں دیمک چاٹ گئی کہ ایک مرد صالح غازی کمپریسر لگا کر ہمسایوں کی گیس کھینچ کر اپنے وضو کے لئے پانی گرم کرتا ہے۔ اس بات کا مشاہدہ کر چکا ہوں کہ کورونا ہر قوم کی اپنی اپنی بے اعتدالیوں کے سبب پوری دنیا پر مسلط ہے، کیا دنیا میں جہاں جہاں ظلم ہو رہا ہے اس کے خلاف عالمی برادری نے کوئی آواز اٹھائی؟ محرومیاں اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ فیملی یونٹ قتل و غارت کے بعد تباہ ہو جاتے ہیں۔ وزرائے اطلاعات کا کام فقط جواب آں غزل رہ گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اسپتالوں کو کتا ویکسین فراہم کریں، فلائی اوورز سے بڑھ کر لوگوں کی فوری نوعیت کی تکالیف پر ان کے ٹیکس خرچ کئے جائیں، جزاک ﷲ ۔

٭٭٭٭

خالی پیٹ ہنسنا منع ہے

کوئی زمانہ تھا ہم کسی نہ کسی خبر پر مزاح کا رنگ چڑھاتے، قاری بھی خوش ہم بھی خوش۔ بچے بچیاں آئے دن زیادتی کے بعد قتل ہوتے ہیں، زینب کا باپ آج بھی کہتا ہے کہ اس کی بات مان لی جاتی تو مزید واقعات نہ ہوتے، ہنسنا مشکل غصہ کرنا آسان، ایک شخص حضور رسالت مآبؐ کے پاس آ کر پوچھنے لگا ’’جنت جانے کا کیا طریقہ ہے؟‘‘ آپؐ نے فرمایا غصہ چھوڑ دو، اس نے یہ سوال کئی بار دہرایا، آپؐ نے ہر بار فرمایا: ’’غصہ چھوڑ دو‘‘ ایک شخص سے کہا، ’’ذرا ہنس کے دکھائو۔‘‘ اس نے کہا مجھے ہنسنے سے ’’کڑول‘‘ پڑتے ہیں، جب ضروری ضرورتیں بھی پوری نہ ہوں تو قوتِ برداشت حیرت انگیز طور پر کم ہو جاتی ہے، اس لئے کورونا تو کیا ہنسنا بھی انسان سہہ نہیں سکتا۔ ایک سیانے سے پوچھا اب کوئی ہنستا بھی نہیں اور ایسا ہو بھی تو فلمی قہقہہ لگتا ہے، اس نے کہا ایسے شخص کو بھنگ کے پکوڑے کھلا کر ذرا سی ’’کُت کُتانی‘‘ کرو، اس کی ہنسی کی بریکیں فیل ہو جائیں گی، پھر دیکھئے کہاں جا کر رُکے۔ ادھار بند ہے اور سیاسی گفتگو کرنا منع ہے‘ اس طرح کے جملے بھی بعض جگہوں پر لکھے ہوتے ہیں، اگر ادھار بھی نہ ملے‘ سیاسی گفتگو کرنا بھی منع ہو تو اس طرح کے جملے بھی بعض جگہوں پر لکھے ہوتے ہیں، اگر آدھار بھی نہ ملے، سیاسی گفتگو کرنے کی اجازت بھی نہ ہو تو پھر کیا ہو؟ یہ بات تو کمرے میں بند ہو کر پنکھے پر کمند ڈالنے کی طرف لے جانے کی صورتحال پیدا کر سکتی ہے جن کے پاس پیسے کی کمی نہیں ہم ان کی نہیں تازہ رزق کمانے والوں کی بات کر رہے ہیں؎

روتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ہنسیں گے

کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

اور حاکم وقت کی نذر ہے؎

روتے ہیں چھم چھم نین اجڑ گیا چین

میں نے دیکھ لیا تیرا تبدیلی دور

٭٭٭٭

کمپریسرز، کھلا ڈاکہ

....Oاخباروں میں نشریاتی اداروں میں مچ گیا مہنگائی کا شور، خدشہ ہے کہ لوگ پڑھنا لکھنا ترک کردیں۔

....Oاسد عمر:گردشی قرضہ جلد ختم نہیں ہو گا۔ عمر ایوب کو کسی نے غلط بریفنگ دی۔

یہ ایک خبر ہی یہ کہنے کو کافی ہے کہ یہ ملک غلط بریفنگ پر چل رہا ہے۔

....O وزیر اعلیٰ پنجاب سے ایک گزارش ہے کہ وہ چھاپہ مار ٹیمیں تیار کر کے کمپریسرز بند کروائیں اور ذمہ داروں کو عبرتاک سزا دیں، یہ انسانی حقوق پر کھلا ڈاکہ ہے۔

تازہ ترین