آپ آف لائن ہیں
جمعہ20؍ رجب المرجب 1442ھ 5؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تعلیم و تربیت میں مسلم معاشرے کی کمزوریوں کا جائزہ

تحریر :… غلام عباس بلوچ

ریسرچ اسکالر جامعہ کراچی

آج کے معاشرے میں جو انتشار و انارکی پھیلی ہوئی ہے اس کا سبب یہی ہے کہ تعلیم و تربیت کے درمیان فرق پیدا کردیا گیا ہے، تعلیم کو ترقی دی جارہی ہے اور تربیت کے پہلو کو نظرانداز کیا جارہا ہے، مزید یہ کہ تعلیم اور تربیت کا جومقصد ہے وہ نظروں سے بالکل اوجھل ہوگیا ہے۔ آج کے انتہائی متمدن و ترقی یافتہ معاشرہ کے کسی فرد سے اگر یہ سوال کیا جائے کہ موجودہ صورتحال سے وہ مطمئن ہے؟ تو جواب میں وہ شخص معاشرتی، اخلاقی، خاندانی اور نفسیاتی مشکلات اور الجھنوں کی ایک طویل فہرست پیش کردے گا۔ خودکشی کی جو لہر ان معاشروں میں اٹھی ہے وہی اس صورتحال کی ترجمانی کے لیے کافی ہے۔

ہندوستان کی صورتحال پر نظرڈالی جائے تو یہاں کا نقشہ بھی حوصلہ شکن نظر آئے گا۔ کسی بھی روزنامہ کواٹھاکر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کس طرح انسان کے جسم، مال و دولت اور عزت و آبرو سے کھیلا جا رہا ہے اور کس طرح ہر انسان اپنے وطن اور گھر میں اپنے آپ کو غیرمحفوظ محسوس کر رہا ہے جرائم کا ایک سیلاب ہے جو انسانی آبادی کو اپنی طرف بہائے لیے جا رہا ہے! کیا یہ صورتحال دانشوروں کے لیے چیلنج نہیں؟ کیا اب بھی کسی کو اس بات میں شبہ ہوگا کہ اخلاقی وعملی تربیت کے بغیر امن و سکون کی زندگی کا حصول ممکن نہیں؟

عصر حاضر میں سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی پر توجہ ہے حالات کے دباؤ میں آکر لوگ طرح طرح کے ہنر سیکھتے ہیں تاکہ اس طرح دنیا میں کامیاب زندگی بسر کرسکیں اور دوسروں کی نظر میں انہیں معزز مقام حاصل ہو لیکن اخلاقی و عملی تربیت کے پہلو پر ان کی توجہ اتنی نہیں ہے اور یہی بات افسوسناک ہے، کیونکہ اسلام کی نظر میں زندگی کا روحانی پہلو ہر طرح توجہ کا مستحق ہے اور مادی پہلو کی جو بھی اہمیت ہے وہ محض اس لیے ہے کہ وہ روحانی زندگی کو سدھار نے کا ذریعہ ہے۔ قرآن کریم نے نبی کریم ﷺ کا یہ منصب بیان فرمایا ہے کہ آپ لوگوں کے روحانی تزکیہ و تطہیر کے لیے مبعوث فرمائے گئے ہیں۔ خود آپ ﷺ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا ہے کہ میری بعثت کا اہم مقصد اچھے اخلاق کی تکمیل ہے۔

تربیت سے متعلق اصول و نظریات پر اگر تقابلی نظر ڈالی جائے تو اسلامی و غیر اسلامی اصولوں کے مابین ایک واضح فرق نظرآتا ہے جس کی وجہ سے غیر اسلامی اصولوں میں ایک بھیانک خلا پیدا ہوگیا ہے، اسلامی نظریہ یہ کہتا ہے کہ انسان صرف جسم یا عقل یا روح کا نام نہیں بلکہ ان تینوں کے مجموعہ سے انسان کا وجود قائم ہوتا ہے، ان اجزاء کو باہم منفصل نہیں کیا جاسکتا اگر جسم کو روح وعقل سے یا عقل کو جسم و روح سے علیحدہ کر دیا جائے تو اس وجود کی کوئی حقیقت باقی نہیں رہ سکتی۔ ان اجزاء یا ان طاقتوں کو ایک ساتھ کام لگانے سے ہی انسان اور زندگی دونوں میں توازن پیدا ہوگا اور اس طرح نیک انسان وجود پذیر ہوگا۔

لیکن جدید تربیتی نظریات میں جسم و عقل کو تسلیم کیا گیا ہے اور روح کو مطلق نظرانداز کردیا گیا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ نظریات جس فلسفہ پرمبنی ہیں وہ الحادی فلسفہ ہے اس میں دین یا معبود (اللہ) کا کوئی تصور نہیں ہے۔

ڈاکٹر الکسیس کا رلائل کہتا ہے کہ انسان سے متعلق اب تک جس قدربھی تحقیقات ہوئی ہیں یہ ناکافی ہیں نفوس سے متعلق ہماری معلومات اب تک ابتدائی مراحل میں ہیں۔

غیراسلامی نظریات تربیتِ اپنا مقصد یہ قرار دیتے ہیں کہ"اچھے وطن پرست انسان " تیار کیے جائیں۔ پھر وطن پرستی کا معیار ہر جگہ الگ الگ ہے، بہت لوگ خدا کے منکر افراد کو بھی اچھا وطن پرست مانتے ہیں، بہت سے لوگ نسل پرست متعصب کو بھی وطن پرست مانتے ہیں۔ ظلم و طغیان اور فسق و فجور کی بنیاد پر عام طور سے وطن پرستی کا فیصلہ نہیں ہوتا، نہ ہی اچھی منزل اس کا پیمانہ قرار پاتی ہیں۔

لیکن اسلام کا نقطہ نظر اس سلسلہ میں قطعی طور پر مختلف ہے وہ وطن یا نسل ورنگ کے دائرہ میں محدود ہوکر تربیت کے مقاصد کا تعین نہیں کرتا، بلکہ اس کا اولین تربیتی مقصد"اچھے انسان" کی تیاری ہے، جس کے دل میں ایمان، اصلاح و تقویٰ اور ایثار و قربانی کی شمع روشن ہو، وہ اپنے مفاد سے پہلے دوسروں کے مفاد کو اہمیت دے اور انسان کو غیراللہ کی بندشوں سے نکال کر ﷲ رب العالمین کی بارگاہ میں سربسجود کرے جو ہر طرح کی بندگی و ستائش کا تنہا سزاوار ہے۔

یورپ کے ماہرین تربیت نے تربیت کی بنیاد کھلی آزادی پر رکھی ہے، وہ کہتے ہیں کہ مذہبی یا اخلاقی ضوابط فرد کے لیے رکاوٹ کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے ان تمام قیود و ضوابط سے فرد کو آزاد رکھنا ضروری ہے۔

لیکن اسلام کی نظر میں ضوابط قید نہیں، بلکہ ان کی حیثیت ایک میزان و معیار کی ہے جس سے ہر فرد اپنے اور دوسروں کے حقوق و فرائض کو سمجھ سکتا ہے، ا ہل مغرب کا تصور ہے کہ دین و اخلاق کا کام"ضمیر" سے لیا جا سکتا ہے۔ لیکن اسلام کی نظر میں ضمیر کی حیثیت حکم ماننے والے کی ہے حاکم کی نہیں، اسے پورے طور پر اسلامی اخلاقی و آدب کا پابند ہونا ضروری ہے، دین نے فضائل کا جو معیار مقرر کیا ہے اسی کی روشنی میں ضمیر کے فیصلے کو دیکھا جائے گا۔

اسلامی تربیت کو ممتاز کرنے والی ایک بات یہ بھی ہے کہ اسلام زندگی کے ہر مرحلہ میں تربیت و توجہ کا قائل ہے یعنی تربیت کا عمل صرف تعلیمی زندگی تک محدود نہیں ہے، بلکہ انسان زندگی کے جس مرحلہ میں بھی ہوا سے تربیت کی ضرورت ہے، اس لیے اسلام نے امربالمعروف و نہی عن المنکر کا زریں اصول وضع کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہر فرد کو ہر جگہ اور ہروقت نیکیوں کو پھیلانے اور برائیوں کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، یہ ہر مسلمان کا فرض ہے اور اسی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تربیت کے لیے عمر کے کسی مرحلہ کی قید نہیں۔ انسان کی تربیت سے مراد انسان سازی ہے۔ انسان سازی عمارت سازی کی طرح نہیں ہے جس میں مختلف چیزوں کو جوڑ کر عمارت بنائی جاتی ہے بلکہ انسان سازی سے مراد یہ ہے کہ انسان کے اندر موجود صلاحیتوں کو پرورش کے ذریعے اجاگر کیا جائے۔

پس ذمہ دار لوگوں پر لازم ہے کہ انسان کی تمام ترصلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی خاطر اس تربیت اور پرورش میں کوئی تساہل اورکوتاہی نہ کریں۔ ممکن ہے کہ تربیت دینے والے ذمہ دار افراد کی معمولی غفلت بچوں کو انسان بنانے کے لیے بجائے حیوان بنا دے کیونکہ بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو ہر لحاظ سے جاہل ہوتا ہے۔ ثانیا ًوہ ایک حد اعتدال پر ہوتا ہے یعنی وہ نہ پست ہوتا ہے اور نہ بلند۔ اس میں صلاحیتں تو ہوتی ہیں مگربالفعل نہیں بلکہ"بالقوۃ" ہوتی ہیں۔ یعنی پیدا ہوتے ہی بچہ عملی، روحانی اور جسمانی کمالات کا مظاہرہ نہیں کرسکتا جبکہ سارے کمالات اس کے اندر موجود ہیں۔ مگر جوں جوں مواقع اور مناسب ماحول فراہم ہوتے جاتے ہیں وہ کمالات کا اظہار کرتا جاتا ہے۔

بہترین تربیت کے مواقع اور مناسب حالات فراہم کرنا تربیت دینے والوں کی ذمہ داری ہے۔ جس طرح وہ بہتر اور مناسب مواقع فراہم کرتے جائیں گے بچہ بھی بہتر استعداد اور صلاحیت کا مظاہرہ کرتا جائے گا۔

ملک بھر سے سے مزید