• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحقیق، تدوین وتالیف: محمود عالم صدیقی

صفحات: 293، قیمت: 1000 روپے

ناشر: زیک بُکس، کراچی۔

ایسے دَور میں جب ایک سُپرپاور کی پُشت پناہی اور مقامی حکومتوں کے تعاون سے’’ مذہب فرد کا ذاتی معاملہ ہے اور اس کا زندگی کے باقی شعبوں سے کوئی لینا دینا نہیں‘‘ کے عنوان سے مہم زوروں پر تھی اور جس کا ہدف تعلیم یافتہ بالخصوص نوجوان تھے، ایسے میں برّ صغیر پاک وہند میں اس مذہب بیزار تحریک کے خلاف اُٹھنے والی سب سے مؤثر آواز مولانا سیّد ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی تھی۔ 

اُنھوں نے نہ صرف محکم دلائل سے اسلام کو مکمل ضابطۂ حیات کے طور پر پیش کیا، بلکہ تعلیم یافتہ اور منظّم افراد پر مشتمل ایک ایسی جماعت کی بھی تشکیل کی، جو اسلامی نظامِ حیات کی مدعی تھی۔ تاہم، افسوس ناک اَمر یہ ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ مولانا موودیؒ کو بھی عام سیاست دانوں کی صف میں شمار کرلیا گیا، جس سے اُن کی اصل فکر اور تجدیدی کارنامے پس منظر میں چلے گئے۔ 

معروف صحافی اور دانش ور، شاہنواز فاروقی کے الفاظ میں’’ بدقسمتی سے برّصغیر میں مولانا(موددویؒ) پر اعتراض کرنے والوں کی سطح بلند ہوسکی اور نہ مولانا سے اظہارِ عقیدت کرنے والے اُن کی فکر اور شخصیت سے انصاف کر سکے۔ ہمارے یہاں مولانا پر جو کام ہوا ، اُس میں مولانا کو ریزہ ریزہ کرکے دیکھا گیا ہے۔ چناں چہ اُن کی شخصیت اور فکر کی کلیت ابھی تک عالمانہ شان کے ساتھ ہمارے سامنے نہیں آسکی۔‘‘ 

محمود عالم صدیقی نے مولانا مودودیؒ کی ہمہ جہت شخصیت کو سامنے لانے کے لیے اِس کتاب میں بڑی محنت اور عرق ریزی سے اُن مضامین کا انتخاب کیا ہے، جو اِس سے پہلے بھی مختلف مقامات پر شایع ہو چُکے ہیں، مگر اُن کی افادیت اب بھی برقرار ہے۔اِن مضامین میں مولانا مودودیؒ کی شخصیت اور فکر دونوں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جن سے فکرِ مودودیؒ کی وسعت اور اثر انگیزی کے ادراک کے ساتھ اس کی تفہیم میں بھی مدد ملتی ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید