• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تقریب حلف برداری میں خواتین نے جامنی رنگ کا انتخاب ہی کیوں کیا؟

امریکی صدر اور نائب صدر کی تقریب حلف برداری میں زیادہ تر خواتین نے جامنی رنگ پہننے کو ترجیح دی۔

نائب صدر کملا ہیرس، سابق صدر اوباما کی اہلیہ مشیل اوباما، ہیلری کلنٹن سمیت تقریب میں موجود دیگر خواتین نے بھی جامنی لباس زیب تن کر رکھا تھا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں کہا جارہا ہے کہ حلف برداری کی تقریب میں شریک خواتین کی جانب سے خواتین کو انتخابات میں حقِ رائے دہی استعمال کرنے کیلئے تقریباً ایک دہائی تک چلائی جانے والی تحریک ’سفریج موومنٹ‘ کی یاد میں جامنی لباس کا انتخاب کیا گیا۔

کہا جارہا ہے کہ اس تحریک کا جھنڈہ بھی جامنی کے شیڈ کا ہی تھا جیسے رنگ کا انتخاب خواتین کی جانب سے کیا گیا ہے۔

سفریج موومنٹ  انیسویں صدی کے آخیر میں امریکا اور یورپ میں شروع ہوئی تھی، یہ عورتوں کے حقوق کی تحریک کی ایک ذیلی تحریک ہے جو عورتوں کو ووٹ کا حق دلوانے کےلیے لڑی جانے والی تاریخ میں سب سے طاقتور اور نمایاں ہے۔


 دوسری جانب ہیلری کلنٹن نے کہا کہ میں نے جامنی رنگ کا انتخاب اس لیے کیا ہے کہ میں امریکیوں کو اتحاد کا درس دینا چاہتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ جوبائیڈن کی تقریب کی تھیم کا اصل مقصد ’اتحاد‘ پر مبنی تھا، انہوں نے کہا کہ ملک میں جس طرح ہم سیاسی طور پر تقسیم ہوچکے ہیں تو اگر لال اور نیلے کو باہم ملایا جائے تو جامنی بنے گا لہذا میں نے یہ رنگ اتحاد کا درس دینے کے لیے پہنا۔

خیال رہے کہ یہاں کلنٹن کا لال اور نیلے رنگ سے مراد ڈیموکریٹک اور رپبلکن کے جھنڈے کا رنگ ہے، اگر دونوں جماعتوں کے رنگوں کو ملایا جائے تو جامنی کا شیڈ بنے گا۔

خاص رپورٹ سے مزید