آپ آف لائن ہیں
جمعہ20؍ رجب المرجب 1442ھ 5؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جوبائیڈن کا دور صدارت یورپ و امریکا کے تعلقات کیلئے نئے باب کا آغاز ہوگا، یورپی رہنما

برسلز( حافظ انیب راشد ) یورپین لیڈرز نے نئے امریکی صدر جو بائڈن کا عہدہ سنبھالنے پر سکون کا سانس لیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ان کا دور صدارت یورپ اور امریکہ کے تعلقات کیلئے ایک نئے باب کا آغاز ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار یورپین کمیشن کی صدر ارسلا واندر لین اور یورپین کونسل کے صدر چارلس مشل نے آج یورپین پارلیمنٹ برسلز میں خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ یورپین کمیشن کی صدر ارسلا واندر لین نے کہا کہ آج کا دن اچھی خبر لایا ہے، امریکہ ʼواپس آگیا ہے اور یورپ اپنے پرانے اور بااعتماد اتحادی کے ساتھ ایک نئی زندگی کا آغاز کرنے کیلئے بالکل تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج واشنگٹن میں امریکن ایڈمنسٹریشن میں تبدیلی آنے سے ہم میں سے اکثر جو سکون محسوس کر رہے ہیں، یہ ہماری نظروں سے اس بات کو اوجھل نہیں ہونے دے گی کہ سابق صدر شائد تاریخ بن جائیں لیکن ان کی تحریک نہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس الیکشن میں انہیں 70 ملین سے زائد امریکیوں نے ووٹ دیا ہے ۔ جن میں سے سینکڑوں نے امریکی جمہوریت کے دل

واشنگٹن کے کیپیٹل ہل پر چند دن قبل ہی پتھراؤ کیا ہے۔ ٹیلیویژن پر دکھائے جانے والے ان مناظر نے ہم سب کو چونکا کے رکھ دیا ۔ یورپین کمیشن کی صدر ارسلا واندر لین نے مزید کہا کہ اپنی گہری جڑیں رکھنے والی یورپین جمہوریت پر اعتماد کے باوجود ہم اس طرح کے واقعات کے عادی نہیں ۔ دوسری جانب یورپین کونسل کے صدر چارلس مشل نے یورپین پارلیمنٹ میں اسی حوالے سے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کا دن انتقال اقتدار سے کچھ بڑھ کر ہے۔ 46 ویں امریکی صدر کی حیثیت سے جو بائڈن کا حلف آج ان ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کی دوبارہ بحالی کا موقع ہے، جنہیں گذشتہ 4 سال میں بہت نقصان پہنچا ہے ۔ انہوں نے اس موقع پر 5 ترجیحات کا ذکر کیا جن پر یورپ اور امریکہ ملکر کام کر سکتے ہیں ۔ ان ترجیحات میں ترتیب کے لحاظ سے کثیرالجہتی تعاون میں اضافہ، کروناوائرس کے اثرات سے نمٹنے کی جنگ، ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنا، اپنی معیشتوں کی دوبارہ تعمیر، اور سیکیورٹی اور امن کیلئے ملکر کام کرنا شامل ہیں ۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ آسان نہیں ہوگا لیکن اکٹھے ملکر ہم اس چیلنج پر قابو پا سکتے ہیں ۔ اپنے خطاب میں انہوں نے مزید تسلیم کیا کہ یورپ اور امریکہ میں اختلافات ہیں اور یہ اچانک معجزاتی طور پر ختم نہیں ہو جائیں گے ۔ اس موقع پر دیگر ممبران پارلیمنٹ نے بھی بحث میں حصہ لیا اور تقاریر کیں ۔

یورپ سے سے مزید