آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍رمضان المبارک 1442ھ21؍ اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

افغانستان: پُرتشدد واقعات اور امن مذاکرات کا مستقبل

امریکا کے دفاعی ادارہ پینٹاگون نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم کر کے صرف ڈھائی ہزار فوجی افغانستان میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قائم مقام وزیر دفاع کرسٹوفر ملر نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ امریکانے گزشتہ بیس برسوں سے افغانستان کی سیکورٹی کے لیے جو اقدام کئے اس کی ایک طویل فہرست ہے جبکہ اب امریکاچاہتا ہے کہ افغانستان اپنی حفاظت کے لئے اقدام کرے۔ 

افغانستان کے تمام دھڑوں کو امن مذاکرات کامیاب بنانے کی ہرممکن کوشش کرنی چاہئے کیونکہ پائیدار امن اور فائربندی کے بغیر ترقّی اور خوشحالی ممکن نہیں ہو سکتی، مگر المیہ یہ ہے کہ گزشتہ چند ماہ سے افغانستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکااور طالبان کے امن مذاکرات تاحال ثمرآور ثابت نہیں ہو سکے کوئی نہ کوئی رُکاوٹ دَر آتی رہی۔

امریکاکی دونوں بڑی جماعتوں کے رہنمائوں نے افغانستان میں محض ڈھائی ہزار فوجیوں کی تعیناتی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پینٹاگون کے ذرائع کے مطابق گزشتہ سال بجٹ میں کٹوتی کی وجہ سے بھی افغانستان میں فوجیوں کی تعداد میں کمی کی جا رہی ہے۔ بیشتر امریکی مبصرین کی رائے میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کی اتنی کم تعداد کے پڑوسی ممالک پر بھی اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں، مگر بعض مبصرین کہتے ہیں کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی زائد تعداد امریکاکے لئے مناسب نہیں ہے۔ پینٹاگون کے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی کانگریس کے تحفظات کے باوجود افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں نمایاں کمی کا فیصلہ کیوں کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ صدر ٹرمپ نے کیا تھا۔

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیصلہ صادر کیا کہ افغانستان میں امریکی فوجی کم سے کم رکھے جائیں،مگر بیشتر امریکی سیاسی رہنمائوں کا استدلال یہ ہے کہ افغانستان میں جس طرح کے حالات ہیں اس کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اتنی کم تعداد کس طرح افغانستان کو درپیش معرکوں کا سامنا کر سکتی ہے جبکہ دہشت گردی کے واقعات میں بھی بتدریج اضافہ عمل میں آ رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکااور طالبان کے مابین ہونے والے مذاکرات میں امریکاکا نقطۂ نظر یہ تھا کہ افغان طالبان بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں جیسے القاعدہ گروپ اور داعش سے کوئی رابطہ نہیں رکھیں گے۔ تاہم امریکی ترجمان زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ طالبان کو اس اہم مسئلے پر امریکا کو مطمئن کرنا ہوگا اس کے بغیر بات کیسے آگے بڑھے گی۔

القاعدہ گروپ کے نائن الیون جیسے دہشت گرد حملے کے بعد القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو امریکاکے حوالے سے انکار پر امریکانے ناچار افغانستان پر حملہ کیا۔ اس طرح امریکاافغان جنگ کا آغاز ہوا جبکہ پینٹاگون کے ترجمان کرسٹوفر ملر کا بیان ہے کہ افغانستان میں ڈھائی ہزار فوجیوں کی موجودگی مناسب ہے کیونکہ آئندہ اگر ضرورت محسوس ہوتی ہے تو یہ تعداد امریکاکی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے افغانستان میں فوجیوں کو روانہ کیا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ افغانستان میں امریکی فوجی جدیدترین اسلحہ، جدید مواصلاتی نظام سے دُوسرے دفاعی مراکز جڑے ہوئے ہیں، مگر طالبان رہنمائوں کا استدلال یہ کہ مذاکرات کے شروع سے اب تک ہمارا امریکاسے مطالبہ ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کا مکمل انخلاء ہونا چاہیے۔

افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد صفر کے مساوی ہو، مگر امریکیوں کی رائے اس کے برعکس ہے۔ نئی بات یہ ہے کہ امریکامیں صدر کے عہدے پر تبدیلی کےبعد افغان پالیسی میں کیا تبدیلی رُونما ہو سکتی ہے ؟اس حوالے سے محض قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں، مگر حتمی رائے صدر جوبائیڈن کی ہوگی۔ 

البتہ صدر جوبائیڈن اپنے گزشتہ بیان میں یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ افغانستان میں کئی ہزار امریکی فوجی ہونے چاہئے۔ آگے دیکھیں نئی انتظامیہ کیا پالیسی اختیار کرتی ہے۔ افغانستان کے معاملات پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ بنیادی بات یہ ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن قائم ہو، ترقیاتی منصوبوں پر سنجیدگی سے کام کیا جائے اس حوالے سے افغانستان کے ڈونرز مدد کرنے پر راضی ہیں تا کہ عوام کوامن اور خوشحالی میسّر آئے۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان کے جاری حالات میں ان کی مدد کریں۔ صدر اشرف غنی نے کووڈ۔19کی وجہ سے جو اقتصادی مسائل میں اضافہ ہوا ہے اس ضمن میں ان کا کہنا ہے کہ ڈونرز ہماری امداد میں کٹوتی نہ کریں کیونکہ افغان عوام کو بھی کووڈ۔19کی وجہ سے گونا گوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ واضح رہے کہ سال 2020ء کی ڈونرز کانفرنس جو جنیوا میں منعقد ہوئی تھی اس میں افغانستان کی امداد میں کچھ کمی کر دی گئی تھی جب کہ صرف 15.2 بلین ڈالر کی امداد کی منظور دی گئی۔

سب اب اہم بات یہ ہے کہ ماہ مئی میں دوحہ میں امریکااور طالبان کے مابین مذاکرات کا دور ہوگا، جس کے لئے طالبان کا مطالبہ ہے کہ اس وقت امریکااپنے تمام فوجی افغانستان سے واپس بلا لے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ ابھی صدر بائیڈن نے اپنا عہدہ سنبھالا ہے اس لئے نئی افغان پالیسی کیا ہوگی ،واضح نہیں ہے جبکہ صدر بائیڈن نے کچھ عرصہ قبل افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کے حوالے سے کہا تھا کہ وہاں چند ہزار فوجی نہیں بلکہ مزید فوجی درکار ہیں، ایسے میں جبکہ ٹرمپ نے وہاں صرف ڈھائی ہزار فوجی تعینات کرنے کا حکم دیا تھا کیا اس میں تبدیلی ہوگی،اگر تبدیلی ہوئی ،صدر بائیڈن افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کی بات کرتے ہیں تو پھر مئی میں دوحہ میں ہونے والے مذاکرات خطرے میں پڑ سکتے ہیں ،کیونکہ طالبان اپنے مؤقف سے ہٹنے کے لئے راضی نہیں دکھائی دیتے۔ وہ افغانستان سے امریکی فوجوں کا مکمل انخلاء چاہتے ہیں۔ وہ اشرف غنی کی حکومت اور افغانستان کے آئین دونوں کو تسلیم نہیں کرتے۔

ایک اور بڑا مسئلہ یہ درپیش ہے کہ چند ماہ سے افغانستان میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ بم دھماکے، درجنوں افراد کی ہلاکتیں، سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے اور املاک کو زبردست نقصان پہنچنے کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں امن مذاکرات کی کامیابی مشکوک ہے۔ ان پرتشدد واقعات میں حالیہ کابل یونیورسٹی میں ہونے والا حملہ بہت شدید تھا۔ مگر طالبان نے اس واقعہ سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کوئی ذمہ داری قبول نہیں کی جبکہ ذرائع کے مطابق یہ حملہ داعش نے کیا ہے۔ 

داعش نے ٹیلی گرام کے ذریعے پیغام میں کہا کہ کابل یونیورسٹی کے کلیہ قانون میں بیشتر ججز، اعلیٰ سیکورٹی عہدیداران اور ایجنسی کے اہلکاروں کا اجلاس ہو رہا تھا جس میں داعش کے خلاف کارروائی کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی اس لئے یہ قدم اُٹھانا پڑا۔ چند روز قبل ہلمند شہر میں سیکورٹی اہلکاروں نے شہر کو انتہاپسندوں سے خالی کر کے دوبارہ قبضہ میں لے لیا ہے۔ اس نوعیت کے پرتشدد واقعات کا تسلسل جاری ہے بہرحال امریکانے اعلان کیا ہے کہ افغان پالیسی پر نظرثانی ہو سکتی ہے۔