آپ آف لائن ہیں
جمعرات19؍ رجب المرجب 1442ھ4؍مارچ 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بچوں کو جسمانی سزا دینے کی ممانعت کا بل، اہم نکات کیا ہیں؟



اسکولوں میں بچوں کو جسمانی سزا دینے کے خلاف قومی اسمبلی منظور کیے گئے بل کے اہم نکات سامنے آگئے ہیں۔

بچوں پر تشدد کے ممانعت کے بل میں کمسن کی تعریف واضح کردی گئی ہے اور کہا گیا کہ 18 سال سے کم عمر کے تمام افراد بچوں کی تعریف میں شامل ہوں گے۔

بل کے متن کے مطابق بچوں پر تمام قسم کے تعلیمی اداروں اور کام کرنے والی جگہوں پر تشدد کی ممانعت ہو گی، جسمانی سزا سے مراد ایسی سزا ہے جس میں طبعی قوت استعمال ہو۔


بل کے متن کے مطابق کسی نوعیت کی تکلیف یا درد پہنچانا سزا تصور ہو گا، بچوں کو تھپڑ مارنا، چابک، چھڑی، جوتے یا لکڑی یا چمچے سے پٹائی کرنا تشدد ہے۔

بل کے تحت بچے کو ٹھڈا مارنا، جھنجوڑنا، دانتوں سے کاٹنا، بالوں سے پکڑنا، کان کھینچنا تشدد ہے، بچوں کو تکلیف دہ حالتوں میں رکھنا، ابلتا پانی ڈالنا تشدد ہے۔

بل کے متن کے مطابق بچوں سے ہتک آمیز رویہ، اہانت، بدنام کرنا، دھمکانا اور خوفزدہ کرنا قابل سزا ہے، تعلیمی ادارے سے مراد بورڈنگ ہاوسز، کل یا جزوقتی مراکز مراد ہیں۔

بل کے تحت مقام کار سے مراد کوئی احاطہ یا کمرے ہے جہاں کوئی تنظیم یا آجر کام کرے، بچے کو یہ حق حاصل ہے کہ اس کی شخصیت اور انفرادیت کی تکریم کی جائے۔

بچوں پر تشدد کا مرتکب ملازمت میں تنزلی، معطلی و برخاستگی، جبری ریٹائر کیا جائے گا، بچوں پر تشدد کا مرتکب شخص مستقبل میں کسی ملازمت کا اہل تصور نہ ہو گا۔

بل کے تحت تعلیمی ادارے سے مراد ایسا ادارہ ہے جہاں کوئی بھی روایتی یا غیر روایتی تعلیم ہو۔

قومی خبریں سے مزید