آپ آف لائن ہیں
اتوار5؍رمضان المبارک 1442ھ 18؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ضمنی انتخابات نے ثابت کردیا کہ عوام موجودہ جمہوری عمل کو ہی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ اور وہ کبھی صراطِ مستقیم سے نہیں بھٹکتے۔ البتہ وہ جن کو ووٹ دیتے ہیں جنہیں آج کل Electable کہا جاتا ہے۔ وہ جب اکیلے ہوتے ہیں تو ضرور پھسل جاتے ہیں۔

انتخابی نتائج مسلم لیگ(ن) کی فتح ہیں۔ لیکن ان کے بیانیے کی شکست ہیں۔ عوام نے یہ واضح طور پر پیغام دیا ہے کہ وہ جمہوری تسلسل چاہتے ہیں۔ انتخابات میں حصّہ لیں۔ اسمبلیوں میں بیٹھیں۔ قانون سازی میں شریک ہوں۔ وہ سڑکوں پر اس بھاری تعداد میں آنے کو تیار نہیں ہیں۔ جتنی کثرت سے وہ پولنگ اسٹیشنوں میں آتے ہیں۔ تاریخ یہ بھی تسلیم کررہی ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز کی محنت اور جدو جہد رنگ لے آئی ہے۔یہ پیغام بھی عوام نے دے دیا کہ وہ اسمبلیوں سے با جماعت استعفوں کے حق میں نہیں ہیں۔ نہ ہی وہ عمران خان سے استعفے پر زور دینا چاہتے ہیں۔نوشہرہ اور پنجاب کے انتخابی حلقوں میں سب جگہ پاکستانیوں کے تمتماتے چہرےاور دمکتی پیشانیاں یہ مشورہ دے رہی تھیں کہ مسلم لیگ(ن) ایک قومی سیاسی جماعت کی حیثیت سے اگر اپنے آپ کو منظّم کرے گی اور موجودہ جمہوری راستوں پر چلے گی ۔ اپنے عہدیداروں اور کارکنوں کو عزت دیگی تو اس کا نتیجہ فوری برآمد ہوگا۔

ان ساری سیٹوں پر پی ڈی ایم کی نہیں مسلم لیگ(ن) کی اپنی محنت تھی۔ یہاں پی پی پی ۔ جے یو آئی کا اپنا کوئی حلقۂ اثر تھا بھی نہیں۔ ملک کی فضائیں خاص طور پر وسطی پنجاب کے گلی کوچے زبان حال سے کہہ رہے ہیں کہ اب مسلم لیگ کے سنبھلنے کا وقت ہے کہ وہ اپنی تنظیم،اپنے کارکنوں اور عہدیداروں پر بھرپور توجہ دیں۔ مستقبل کے لیے کوئی اقتصادی، سماجی، زرعی، صنعتی اور تکنیکی پروگرام مرتب کرے۔ صرف لفاظی اور شعلہ بیانی پر انحصار نہ کرے۔ پاکستان کا ماضی گواہ ہے کہ سیاسی اتحادوں نے ملکی پیشرفت، قومی سیاست اور سیاسی پارٹیوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ پارٹیوں کی اپنی نمو رک جاتی ہے۔ تنظیمی پھیلائو محدود ہوجاتا ہے۔

ضمنی انتخاب میں سندھ میں سیٹیں پی پی پی کی تھیں۔ انہیں مل گئیں۔ یہاں مسلم لیگ(ن)، جے یو آئی یا پی ڈی ایم کی کسی پارٹی کا کوئی اثر ہے ہی نہیں۔ لیکن پی پی پی کو یہ غور ضرور کرنا چاہئے کہ اب سندھ میں بھی اسے سیاسی چیلنج کا سامنا ہے۔ پی پی پی نے اپنی تنظیم اور سندھ کے مسائل کے حل کیلئے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کیے تو جیسے پاکستان تحریک انصاف کی پنجاب اور کے پی میں مقبولیت کم ہورہی ہے تو پی پی پی کو بھی سندھ میں ان مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ملیر، سانگھڑ اور تھر میں پی پی پی کی فتح، امیدواروں کی ذاتی فتح بھی ہے اور سندھ میں کسی سیاسی چیلنج کا نہ ہونا بھی ہے۔ یہ انتخابی فتح پی پی پی کی پالیسیوں کی حمایت نہیں ہے۔ کیونکہ وہ تو ہیں ہی نہیں۔ سندھ میں عام آدمی کی زندگی بہت اجیرن ہے۔ معیشت، زراعت، بلدیاتی سہولتوں، زندگی کی آسانیوں کسی بھی شعبے میں پی پی پی کی کارکردگی مثالی نہیں ہے۔2008 سے تسلسل سے اور بلا شرکت غیرے پی پی پی کو حکومت کرنے کا موقع ملا ہے۔پہلے 5سال اپنی پارٹی وفاق میںتھی۔ پھر مسلم لیگ(ن) پانچ سال میں وفاق میں تھی۔ مرکز کی طرف سے کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔ جیسے اب ہے۔

ضمنی انتخابات نے یہ بھی ثابت کیا کہ عوام ہمارے قومی سیاسی رہنمائوں سے زیادہ سیاسی شعور رکھتے ہیں۔ وہ جمہوری عمل میں رکاوٹ نہیں چاہتے۔ یہ بھی واضح ہوگیا کہ الیکشن کمیشن آزاد ہے، با اختیار ہے۔ اگر اسے انتظامیہ کا غیر جانبدارانہ تعاون حاصل ہوجائے تو انتخابی عمل اور زیادہ موثر اور شفاف ہوسکتا ہے۔ پہلے کبھی الیکشن کمیشن نے ایسی پریس ریلیز جاری نہیں کی جیسے این اے 75کیلئے جاری کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کی اس آزادی کو استحکام دینے سے ہی جمہوریت مضبوط ہوسکتی ہے۔ ان انتخابات سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے کہیں کوئی دخل نہیں دیا۔ اگر الزامات ہیں تو سول بیورو کریسی پر ہیں۔پاکستان کے عوام کی سوچ پختہ ہے۔ انہوں نے حکمران پارٹی، مسلم لیگ(ن)، پی پی پی اور میڈیا سب کو ایک مثبت پیغام دیا ہے کہ جمہوریت جیسی بھی ہے ،اس کو چلنے دیں۔ اپنی میعاد پوری کرنے دیں۔ سیاسی پارٹیاں اپنی تنظیم کو جمہوری بنیادوں پر استوار کریں۔ ایسی تگ و دو اور محنت کریں جس کا نتیجہ جلد برآمد ہو۔ اس میں عوام ساتھ دیں گے۔ ایسی کوششوں میں عوام ساتھ نہیں دیں گے جن میں نادیدہ قوتوں کی مداخلت کا انتظار ہو۔ میڈیا نے ان پارٹیوں کے موقف کو بڑھاوا دیا ہے۔ ان کے ترجمانوں کو ہی بار بار بلاکر اپنے اپنے دلائل کے اظہار کی سہولت دی ہے۔ میڈیا نے اس عرصے میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری پوری کرنے کیلئے خود کوئی تحقیق نہیں کی خاص طور پر این اے 75میں، اصل میں کیا ہوا۔ دونوں طرف سے ترجمان اور رہنما جو کہتے رہے وہ نشر کیا جاتا رہا۔

میرے خیال میں تو این اے 75میں بالکل نئے سرے سے الیکشن ہونا چاہئے۔ ورنہ یہ انتخاب متنازع رہے گا۔ اور یہ پورے سیاسی منظر پر غالب رہے گا۔ تشدد کو راہ دیتا رہے گا۔مسلم لیگ(ن) کی سیاسی کارکردگی عمران خان کو بھی یہ پیغام دے رہی ہے کہ وہ اپنی صفوں کا جائزہ لیں اور خود احتسابی کرتے ہوئے سوچیں کہ ان کا این آر اواور کرپشن کے خاتمے کا بیانیہ اب کمزور پڑ رہا ہے۔ وہ احتساب کو نیب، متعلقہ اداروں اور عدلیہ پر چھوڑ دیں۔ پاکستان دنیا میں آبادی کے حوالے سے پانچواں بڑا ملک ہے۔ اس کا محل وقوع بڑا حساس ۔ اس کے وزیر اعظم کو عالمی سطح پر۔ علاقائی تناظر میں۔ مسلم دنیا میں کوئی قائدانہ کردار ادا کرنا چاہئے۔ وہ اس وقت پورے 22کروڑ کی صحت، معیشت کے ذمہ دار ہیں۔ صرف تحریک انصاف کے وزیر اعظم نہیں ہیں۔اگلے سال پاکستان آزادی کے 75سال پورے کررہا ہے۔ عمران خان کو تاریخ یہ موقع دے رہی ہے کہ وہ پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی کی تقریبات کی سربراہی کریں۔ وہ چند کلیوں پر قناعت نہ کریں۔ گلشن میں جتنے مواقع موجود ہیں۔ ان سے فائدہ اٹھائیں۔

تازہ ترین