آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍رمضان المبارک 1442ھ21؍ اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

حنا بنت شاہد لطیف

پیارے بچو! درخت تو آپ نے بہت دیکھے ہوں، ہوسکتا ہے آپ کے اپنے گھر میں بھی کوئی پیڑ ہو۔کراچی کے بعض علاقوں میں سیکڑوں سال قدیم درخت بھی موجود ہیں ، لیکن آسٹریلیا کے شہر’’ وینڈھیم‘‘ کے جنوب میں کنگ روڈ پرکئی سو کلومیٹر کے فاصلے پرصدیوں پرانا، عجیب و غریب درخت ہےجس کی ہیئت دیکھ کر لوگ حیرت زدہ ہوتے ہیں۔ 

باؤبیب ( baobab ) نامی اس درخت کا پھلاؤ بہت زیادہ ہے، دور سے دیکھنے والوں کو یہ کارٹون کیریکٹر لگتا ہے۔ آسٹریلیا کی سیر کے لیے آنے والے زیادہ تر سیاح اس درخت کو دیکھنے کے لیے ہینڈھیم ضرور آتے ہیں۔ درخت کا تنا درمیان میں سے پھولا ہونے کی وجہ سے بوتل کی طرح لگتا ہے۔ اسی لیے یہ ’’بوٹل ٹری ‘‘ کے نام سے بھی معروف ہے لیکن علاقے کےلوگ اسے’’ پھولے ہوئے پیٹ کے درخت‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ براعظم آسٹریلیا میں اس جیسا کوئی دوسرا درخت موجود نہیں ہے۔

باؤبیب پیڑ کا گھیر یا قطر تقریباً 15میٹر ہے جب کہ اس کا تنا دیگر درختوں کی طرح ٹھوس نہیں بلکہ اندر سے بالکل کھوکھلا ہے۔ چند صدی قبل کسی مسافر نے اسے شب بسری کے لیے استعمال کرنے کے لیے کھوکھلے تنے میں شگاف کرکے تنگ سادروازہ بنایا۔ دروازے کی وجہ سے سیاحوں کی رسائی تنےکے اندر تک ہوگئی۔ باؤبیب ٹری دیکھنے آنے والے سیاح جب شگاف کے ذریعے تنے میںاتر کر اندر داخل ہوتے ہیں تو انہیں یہاں کشادہ کمرے جتنی جگہ نظر آتی ہے۔

باؤبیب ٹری کا کچھ روز تک ’’منی جیل ‘‘ کے طور پر بھی استعمال کیا گیا۔کہا جاتا ہے کہ 1890ء میں پولیس کا قافلہ ایک بڑی وین میں قیدیوں کو لے کر ڈربی شہر کی طرف جارہا تھا، جن کا مقدمہ وہاں کی عدالت میں زیرسماعت تھا۔ جب وہ باؤبیب ٹری کے مقام سے گزرے تو وین میں کوئی خرابی ہوگئی جس کی وجہ سے پورے قافلے کو اسی جگہ قیام کرنا پڑا۔ ڈرائیور نے گاڑی اسٹارٹ کرنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ رات کا اندھیرا پھیل گیا جس کے بعد قیدیوں کی نگرانی کا مسئلہ پیدا ہوا۔ 

اسی اثناء میں قافلےکے سربراہ کی نظر مذکورہ درخت کے شگاف پر پڑی ۔ وہ اس میں اتر کرجب اندر گیا تو اسے یہاں کافی کشادہ جگہ نظر آئی جو قیدیوں کو رکھنے کا کام دے سکتی تھی۔ اس نے قیدیوں کو شگاف کے ذریعے اندر منتقل کیا ۔باقی بچنے والے قیدیوں کو درخت کےتنے کے ساتھ زنجیروں سے باندھ دیا گیا۔ صبح ایک اہل کار کو وہاں سے گزرنے والی لاری پر بٹھا کر وینڈھم شہر روانہ کیا گیا۔ تین روز کے بعد پولیس ہیڈکوارٹر سے مکینک بھیجا گیا جس نے وین صحیح کی اور چوتھے روز قیدیوں کو لے کر پولیس ٹیم ڈربی کی طرف روانہ ہوئی۔اس واقعے کے بعد باؤبیب ٹری’’ منی جیل‘‘ کے نام سے بھی مشہور ہوگیا۔