آپ آف لائن ہیں
منگل7؍رمضان المبارک 1442ھ 20؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مجھے ایسے راستوں پر سفر کرنا بہت پسند ہے جو تا حد نگا ہ سنسان ہوں، آس پاس کوئی آبادی نہ ہو،سڑک کے دونوں جانب صحرا یا جنگل ہو،دور دور تک جدید زندگی سے رابطے کو کوئی وسیلہ نہ ہواور پھر کئی میل کی مسافت کے بعد اچانک ایک چھوٹا سا ڈھابہ آ جائے جہاں چائے پی جا سکے، اسی کے ساتھ ایک ٹوٹی پھوٹی سی دکا ن ہوجہاں فوری ضرورت کی دو چار چیزیں ملتی ہوں،وہیں پاس کوئی ایک آدھ کچا مکان ہوجس میں کوئی موجود نہ ہو،اور ذرا پرے سرکاری انداز تحریر میں قریب ترین پولیس چوکی کا پتہ لکھا ہو جو وہاں سے کم از کم دس میل کے فاصلے پرہو۔یہ سب کچھ ہو مگر ساتھ ہی اپنی گاڑی میں پٹرول پورا ہو، گرمیوں میں اے سی اچانک کام کرنا نہ چھوڑدے اور گاڑی چلتے چلتے اس سنسان علاقے میں بند نہ ہو جائے جہاں موبائل فون کے سگنل بھی مفقود ہوں۔اپنے بلوچستان میں بے شمار راستے ہیں جہاں دور دور تک انسانی آبادی نہیں ملتی اور پھر کئی میل کے بعد جب کسی ڈھابے میں زندگی کی جھلک دکھائی دیتی ہے تو بندہ جیسے دوبارہ جی اٹھتا ہے۔میری زندگی کی چند خواہشات میں سے ایک خواہش بلوچستان کے انہی سنسان راستوں کا سفر کرنا بھی ہے۔لیکن فی الحال پنجاب میں واپس آتے ہیں۔پنجاب میں ایسی سنسان جگہیں خال خال ہی ملتی ہیں، اگر بظاہر ویران سڑک مل بھی جائے تو آبادی مسلسل نظر آتی رہتی ہے، کہیں گاؤں کے کچے پکے مکانات کی شکل میں اور کہیں خستہ حال سرکاری اسکولوں کی صورت میں۔محبی حبیب اکرم کو جب میں نے اپنی جملہ خواہشات کی فہرست سے آگاہ کیا تو انہوں نے کچھ دیر توفون پر اداکار طلعت حسین کی طرح توقف کیا اور پھر فرمایا کہ فلم ’ڈرنا منع ہے ‘ والا مکمل پراسرار اور سنسان ماحول فراہم کرنا تو شاید ’فقیر ‘ کے لیے ممکن نہ ہو البتہ اگر آپ نور پور تھل کے راستے سے ہوتے ہوئے جائیں گے تو کسی حد تک آپ کی نا آسودہ خواہشات کی تکمیل ہو سکتی ہے۔مگرافسوس کہ ہم راستے سے بھٹک گئے۔

لاہور اسلام آباد موٹر وے پر چڑھنے کے بعد ہم بھیرہ سے باہر نکلے اور اپنی گاڑی شاہ پور کی جانب موڑ لی، یہ سڑک خاصی خراب ہے، ویسے تو خوشاب تک یہ راستہ چند کلومیٹر کا ہے مگر سڑک اِس قدر ٹوٹی پھوٹی ہے کہ ہمیں ایک گھنٹہ لگ گیا۔ آگے خوشاب میانوالی روڈ اچھی ہے، یہ ہمیں سیدھی دریائے جہلم تک لے گئی۔دریا کے کنارے کھانے پینے کے کئی مقامات بنے ہیں جہاں بیٹھ کر آپ پورے دریا کا نظارہ لے سکتے ہیں۔ اِس سے آگے ہم جوہر آباد سے تھل کی جانب مڑنے والا راستہ نظر انداز کرتے ہوئے سیدھا میانوالی کی جانب ہو لیے۔جب غلطی کا احساس ہوا تو دیر ہو چکی تھی۔ ہم نے گاڑی واپس موڑ کر وہ ’مسنگ لنک‘ تلاش کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے، سائنس دانوں کو آج تک وہ لنک نہیں مل سکا تو ہم کس کھیت کی مولی ہیں۔اب ہمارا رُخ میانوالی کی طرف تھا، وہا ں پہنچے تو معلوم ہوا کہ ڈیرہ جانے کے لیے ہمیں چشمہ بیراج والا راستہ لینا ہوگا۔ایک مرتبہ پھر ہم نے گاڑ ی واپس موڑی اور چشمہ کی جانب رُخ کر لیا۔یہ راستہ بہت خوبصورت تھا۔سڑک کے ساتھ ساتھ دائیں جانب چشمہ بیراج کی جھیل تھی، سامنے پہاڑتھے اور پہاڑ کے دامن میں سورج ڈوب رہا تھا۔یہ سڑک آگے بائیں جانب خیبر پختونخواہ کی طرف مڑ جاتی ہے،سویہاں سے ہم ڈیرہ اسماعیل خان روڈ پر آگئے۔یہ منظر بھی بہت دلفریب تھا، دائیں جانب چھوٹے چھوٹے دیہات تھے اوران سے پرے اونچی نیچی پہاڑیاں اور ان پہاڑیوں کے دامن میں ہرے بھرے کھیت۔یہ سڑک آگے چل کرجب ایک کھلکھلاتی نہر سے ملی تو یوں لگا جیسے حسن اور عشق کا ملاپ ہوگیا ہو۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں داخل ہوتے ہوئے رات ہو گئی۔ شہر کے درمیان سے گزرتے ہوئے جب ہم اپنے ہوٹل کی جانب مڑے تو اچانک ہمیں پتا چلا کہ آگے دریائے سندھ ہے۔ ایک لمحے کو یوں لگا جیسے سڑک دریا میں جا کر ختم ہو رہی ہے مگر اصل میں یہ سڑک دریا کے ساتھ ساتھ چلتی ہے، ہمارا ہوٹل دریا ئے سندھ کے سامنے تھا۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے سفر کی دعوت ہمیں عامر رانا صاحب نے دی تھی، فرمانے لگے، بہتر ہوگا کہ چند دن لاہور سے باہر گزار لیں، ڈیرہ اسماعیل خان میں خیبر پختونخواہ اور وزیرستان کے طلبا سے ملاقات بھی ہو جائے گی۔ میں نے فوراً ہامی بھر لی۔ دو دن کے قیام میں زیادہ تو نہیں جان سکا البتہ ایک بات جو میں نے نوٹ کی وہ اِن طلبا کی سیاسی بالغ نظری تھی۔ خوش مزاج اور بیباک صحافی سبوخ سید کے بقول دہشت گردی نے اِس خطے کو جہاں نا قابل تلافی نقصان پہنچایا وہاں اِن نوجوانوں کو شدت پسندی سے دور بھی کر دیا، انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ شدت پسندی کا نتیجہ کس شکل میں نکلتا ہے،اب ان نوجوانوں کو اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی ہے اور یہ اپنا حق اِسی زندگی میں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

واپس جانے کے لیے ہم نے بھکر والے راستے کا انتخاب کیا۔ دریائے سندھ کی ایک جانب ڈیرہ ہے تو دوسری جانب بھکر۔ ڈیرے سے نکلتے ہی ہم ایک پُل پر چڑھ گئے جو پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی گویا سرحد ہے۔ آگے ضلع بھکر تھا۔ بھکر سے ہم نے حیدر آباد تھل کی جانب گاڑی موڑ لی کہ ریگستان دیکھنے کی جو خواہش ہماری حماقت کی وجہ سے پوری نہ ہو سکی تھی وہ اب پوری ہو جائے۔ خواہش پوری تو ہوگئی مگر ہمیں وہ ریگستان نہ ملا جس کی تلاش تھی۔ اول تو اِس راستے میں مکمل آبادی تھی، کوئی بھی ایسی جگہ نہیں ملی جسے سنسان کہا جا سکے اور دوسرا، اِس میں صحرا والی کوئی بات نہیں تھی، کہیں کہیں ریتلے ٹیلے نظر آئے مگر مجموعی طور پر سبزہ ہی دکھائی دیا۔ البتہ رات کو سفر کرنے کے لیے یہ راستہ بے حد ’موزوں‘ ہے۔ یہاں ایک ٹیلے کے نیچے گاڑی کھڑی کرکے ہم باہر آئے، سگریٹ سلگایا، گاڑی کی روشنی بند کی اور ’میں کملی دا ڈھولا، ہائے رات دھمی لٹی جاندی ‘ لگا لیا۔یوں لگا جیسے کائنات سمٹ کر تھل میں سما گئی ہو۔

تازہ ترین