آپ آف لائن ہیں
پیر6؍رمضان المبارک 1442ھ 19؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سینیٹ الیکشن، اعصاب شکن لمحات، جوڑتوڑ، بیشتر ارکان اسمبلی ہوٹلز میں مقیم، وزیراعظم کی درجنوں ارکان سے ملاقاتیں، تحفظات دور، مسائل حل کرنے کی یقین دہانی

سینیٹ الیکشن، اعصاب شکن لمحات، جوڑ توڑ


اسلام آباد / کراچی / لاہور (نمائندگان جنگ / نیوز ایجنسیز/ اسٹاف رپورٹر) سینیٹ الیکشن کل (بدھ کو) ہورہے ہیں اور انتخابی مہم کی مدت ختم ہونے کے بعد اعصاب شکن لمحات کا آغاز ہوگیا ہے جبکہ جوڑ توڑ اور ملاقاتیں عروج پر پہنچ گئیں، بیشتر ارکان اسمبلی ہوٹلز میں مقیم ہوگئے ہیں ۔ 

وزیراعظم عمران خان اپنی سرکاری مصروفیات ترک کرکے وزیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ کیلئے لابنگ کررہےہیں اور گزشتہ روز انہوںنے پارلیمنٹ ہاؤس میں اپنے چیمبر میں درجنوں ارکان اسمبلی سے ملاقاتیں کیں اور انہیں تحفظات دور کرنے اور مسائل حل کرنے کی یقین دہائی کرائی ۔ 

حکومت کی اتحادی جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان اور گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس (جی ڈی اے) نے سینیٹ انتخابات میں وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی حمایت کا اعلان کردیا۔ 

تحریک انصاف کے 2؍ ارکان سندھ اسمبلی نے پارٹی رہنما خرم شیر زمان کے انہیں اغوا کرنے کی دعوے کی تردید کرتے ہوئے پارٹی پالیسی کے بر خلاف اپنی پارٹی کو سینیٹ انتخابات میں ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کر لیا۔ تمام سیاسی جماعتوں کی مرکزی قیادتوں نے اسلام آباد میں ڈیرے ڈال لئے ہیں جبکہ جماعت اسلامی نے اسلام آباد اور سندھ میں تحریک انصاف کی حمایت سے انکار کر دیا ہے۔ 

وفاقی حکومت نے بلوچستان میں اپوزیشن کو مشترکہ امیدوار لانے کی پیشکش کر دی ہے اور اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو 6نشستیں دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ پنجاب کے بعد حکومت نے اپوزیشن کوخیبرپختونخوا سے بھی سینیٹ امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب کرانے کی پیشکش کردی۔ ادھر سندھ میں ہارس ٹریڈنگ کی افواہیں گردش میں ہیں ۔ 

دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان نے کہا ہے کہ ہماری صفوںمیں اتحاد ہے اور پیپلز پارٹی ہمیں سرپرائز نہیں دے سکے گی ، مشکل وقت میں پیپلز پارٹی کو ہماری یاد آتی ہے ، کیا بلاول بھٹو کو ہمارے ماتھے پر کچھ لکھا نظر آرہا ہے۔ 

تفصیلات کےمطابق وزیر اعظم عمران خان نے سینیٹ الیکشن میں وزیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کی کا میابی کو یقینی بنا نے کیلئے ممبران قومی اسمبلی سے ملاقاتیں شروع کردی ہیں ۔ 

پیر کے روز وزیر اعظم سر کاری مصر و فیات ترک کرکے پارلیمنٹ ہائوس میں اپنے چیمبر میں بیٹھے ۔ وزیر اعظم سے قومی اسمبلی کے ممبران گل داد خان ، گل ظفر خان ، جواد حسین ، محمد اقبال آ فریدی ، ڈاکٹر حیدر علی ساجد خان ، نور عالم خان ، عظمیٰ ریاض ، ظل ہما ، نفیسہ عنایت خٹک ، شا ندانہ گلزار ، طاہر اقبال چوہدری ، عامر گوپانگ ، سائرہ بانو ،فوزیہ ارشد ،محمد جمالی ، منورہ بی بی ، مخدوم سمیع الحسن ، رانا محمد قاسم نون ، سردار نصر اللہ خان دریشک ، سردار محمد جعفر خان لغاری ، محمد ثنا اللہ خان مستی خیل ، نیاز احمد جھاکڑ ، امجد علی خان نیازی ، نورین ابراہیم، شاہین ناز ، منزہ حسن ، غوث بخش مہر ، سینیٹر سجاد حسین طوری ، فخر زمان خان نے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

ملاقاتوں کے دوران ارکان اسمبلی نے وزیراعظم کو اپنے حلقوں کے مسائل اور دیگر توجہ طلب معاملات پر تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ بعد ازاں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور گورنر چوہدری سرور نے بھی وزیر اعظم سے ملاقات کی۔ اس موقع پر سینیٹ الیکشن اور پنجاب کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ 

وزیراعظم نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو پنجاب سے اراکین قومی اسمبلی کے تحفظات دور کرنے کی ہدایت کر دی۔ دریں اثناء کراچی کے نجی ہوٹل میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے تمام اراکین سندھ اسمبلی کے لیے کمرے بک کرلیے گئے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیف آرگنائزر نے اپنے اراکین اسمبلی کے لیے کمرے بک کرائے ہیں اور تمام اراکین کو ہوٹل پہنچنے کے احکامات دیئے گئے ہیں ۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی ریجن کے صدر خرم شیر زمان سمیت متعدد اراکین اسمبلی ہوٹل پہنچ گئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہےکہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے اراکین کو 2 روز تک ہوٹل میں رہنےکی ہدایت کی ہے، اراکین اسمبلی کو رابطے اور ملاقاتیں محدودکرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ 

ادھر حکومت کی اتحادی جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) نے سینیٹ انتخابات میں وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی حمایت کا اعلان کردیا۔ اسلام آباد میں حکومت کی اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں نے زبیدہ جلال کے گھر ملاقات کی۔ 

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ایم کیو ایم رہنما و وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق کا کہنا تھاکہ ایم کیوایم پاکستان پی ٹی آئی کی اتحادی ہے، پیپلزپارٹی کا ایک وفد بھی دو روز پہلے بہادر آباد مرکز آیا تھا لیکن 22 اگست کے بعد سے یہ مختلف ایم کیو ایم ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا تھاکہ وفاقی حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے اور ایم کیوایم وفاقی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے، ایم کیوایم نے کسی بھی معاملے پر وزارت کی بات نہیں کی، شہری ترقی کی بات کی۔ 

جی ڈی اے کی رہنما و وفاقی وزیر فہمیدہ مرزا کا کہنا تھاکہ جی ڈی اے حکومت کی اتحادی جماعت ہے، سینیٹ الیکشن بہت اہمیت رکھتا ہے، تمام اتحادی جماعتوں کی ملاقات ہوئی اور حکومت کے ہر فیصلے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ 

بلوچستان میں حکومت نے اپوزیشن کو مشترکہ امیدوار لانے کی پیشکش کر دی۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے بلوچستان میں اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو 6؍ نشستیں دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔حکومتی پیشکش پر پی ڈی ایم کا ہنگامی اجلاس آج کوئٹہ میں اخترمینگل کےگھرطلب کرلیا گیا ہے۔ 

حکومت کی طرف سے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے مولانا عبدالغفور حیدری کو پیشکش کی تھی۔ پاکستان تحریک انصا ف سنٹرل پنجاب کے صدر، نو منتخب سینیٹر اعجاز چوہدری نے منصورہ میں سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم سے ملاقات کی اور سینیٹ الیکشن میں جماعت اسلامی سے تعاون کی اپیل کی تاہم جماعت اسلامی نے تعاون اور حمایت سے انکارکیا ۔

اس موقع پرامیر العظیم نے کہا ہم کے پی کے کی حد تک اپوزیشن کی پارٹیوں کا ساتھ دیں گے، چونکہ وہاں ہمارے ووٹوں کی ایڈجسٹمنٹ کی ایک صورت موجود ہے ،اسلام آباد اور سندھ میں ہمارے پاس کوئی ایسا راستہ نہیں کہ ہم ووٹ کے تبادلے کو ممکن بناسکیں لہٰذا مرکزی مجلس عاملہ نے یہ طے کیا ہے ان دونوں جگہوں پرہم ابسٹین رہیں گے۔ دوسری جانب تحریک انصاف سندھ کے رہنما خرم شیر زمان نے دعویٰ کیا ہے کہ کل شام ہمارے 3 ارکان اسمبلی کو اغوا کیا گیا۔ 

خرم شیر زمان نے کہا کہ ان ارکان کے موبائل بند ہیں اور گھر والوں کو بھی علم نہیں، یقین ہے کہ پیپلز پارٹی ارکان پر دباؤ ڈال رہی ہے، مسلسل سندھ حکومت کی جانب سے اراکین کو ڈرایا اور دھمکایا جارہاہے۔

تاہم اغواء کی تردید کرتے ہوئے تحریک انصاف کے 2ارکان سندھ اسمبلی نے پارٹی پالیسی کے بر خلاف اپنی پارٹی کو سینیٹ انتخابات میں ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کر لیا۔

حلقہ پی ایس 18گھوٹکی سے شہر یار خان شہر اور حلقہ پی ایس 100شرقی کراچی سے کریم بخش گبول نے سینیٹ انتخابات میں اپنے پارٹی امیدواروں کو ووٹ نہ دینے کا اعلان کرتے ہوئےکہاکہ آئین ان کو آزادانہ ووٹ کی اجازت دیتا ہے ، ہماری پارٹی کی سندھ پر توجہ نہیں ، ہم سے امیدواروں کے حوالے سے کوئی مشاورت نہیں ہوئی ،پیسے دیکر ٹکٹ خریدنے والوں کو ووٹ نہیں دیں گے۔

اہم خبریں سے مزید