آپ آف لائن ہیں
پیر6؍رمضان المبارک 1442ھ 19؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

گیلانی کی فتح کا مارجن 20ہونا چاہئے تھا، عمران اسمبلیاں توڑتے ہیں تو الیکشن کیلئے تیار ہیں، زرداری

کراچی (ٹی وی رپورٹ)سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ یوسف رضا گیلانی کے انتخاب میں فتح کا مارجن کم ہے اسے زیادہ ہوناچاہئے تھا۔ جیو نیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ بنانے کا فیصلہ پی ڈی ایم کرے گی۔

یوسف رضا گیلانی کی 5ووٹوں سے جیت کم ہے ہماری جیت 20ووٹوں کی ہونی چاہئے تھی، میں کراچی میں بیٹھا ایک سندھی سیاستدان ہوں مجھے نہیں پتا کہ ہمارے 15ووٹ کہاں چلے گئے، میرا علاج چل رہا ہے صحت اب بہتر ہے، اسلام آباد بھی پمز میں ڈاکٹر سے علاج کروانے آیا ہوں۔ 

آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے کچھ لوگ میرے پاس آئے تھے لیکن ناکام ہو کر گئے، ان لوگوں نے اپنی بات کی تو میں یہ کہہ کر اٹھ گیا کہ میری میٹنگ ہے، میں نے بلاول کو کہا کہ یہ لوگ فراڈ ہیں انہیں بھگاؤ، عمران خان اسمبلیاں توڑتے ہیں تو ہم الیکشن کیلئے تیار ہیں۔

پروگرام میں ن لیگ کے رہنما میاں جاوید لطیف اور پیپلز پارٹی کے رہنما آغا رفیع اللہ بھی شریک تھے جبکہ نمائندہ جیو نیوز اسلام آباد ایاز اکبر یوسف زئی نے علی حید ر گیلانی کی ویڈیو سے متعلق حقائق بتائے۔ 

پیپلز پارٹی کے رہنما آغا رفیع اللہ نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں جمہوریت کی فتح ہوئی ہے،ن لیگ کے رہنما میاں جاوید لطیف نے کہا کہ چاروں صوبوں کے ارکان اسمبلی نے عمران خان پر عدم اعتماد کردیا ہے، عمران خان کو اصولی طور پر اب قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیناچاہئے۔

عمران خان کو لانے والوں کو اب ملک پر رحم کرنا چاہئے،ویڈیو پر علی حیدر گیلانی سے تحقیقات نہیں ہونی چاہئے، علی حیدر گیلانی سے تحقیقات کرنی ہے تو پھر چاروں پی ٹی آئی اراکین سے بھی تحقیقات کی جائے، عمران خان نے بلوچستان سے 70کروڑ دینے والے عبدالقادر کو منتخب کروایا ۔

میاں جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے لانگ مارچ اور تحریک عدم اعتماد کو اب کس طرح نہیں روکا جاسکتا، لانگ مارچ یا عدم اعتماد کا فیصلہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر ہوگا، ذاتی طور پر وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد کے حق میں نہیں ہوں، یوسف رضا گیلانی کی فتح کے باوجود عدم اعتماد کی طرف نہیں جانا چاہئے، لانگ مارچ اور اس کے بعد انتخابات ہی حل ہے۔ 

جاوید لطیف نے کہا کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر پیپلز پارٹی کی بہت سی باتوں کو مانا ہے، اب پیپلز پارٹی کو عوام کی آواز کو سننا پڑے گا، لوگوں کا نظام سے اعتماد اٹھ گیا وہ نئے انتخابا ت چاہتے ہیں، یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ عمران خان استعفیٰ دیں گے۔

ن لیگ نے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دینے کے بدلے کچھ پی ٹی آئی ایم این ایز سے پارٹی ٹکٹ دینے کا وعدہ کیا ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ تین دن پہلے آجاتا تو یوسف رضا گیلانی کو زیادہ ووٹ ملتے، ہماری پارٹی کے ایم این اے نے بھی ملاقات کی ایک ویڈیو ریکارڈ کی ہے۔ 

جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ ہماری کسی سے جنگ نہیں ہے ہم پاکستانی ہیں ہماری آواز سنی جائے، بلوچستان سے آوازیں سنتے تھے اب پنجاب سے آوازیں آرہی ہیں، سینیٹ الیکشن میں لوگوں نے آزادی سے ووٹ نہیں دیا، مکمل آزادی ہوتی تو یوسف رضا گیلانی کو مزید 30ووٹ ملتے، اب 26مارچ کو لانگ مارچ کی کال دینا پڑے گی ،جو جماعت پیچھے ہٹے گی لوگ اسے نمائندہ جماعت نہیں سمجھے گی۔

پیپلز پارٹی کے رہنما آغا رفیع اللہ نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں جمہوریت کی فتح ہوئی ہے، عمران خان میں استعفیٰ دینے کی اخلاقی جرأت نہیں ہے، عمران خان مستعفی ہوجائیں تو قوم خوشیاں منائے گی، عمران خان غیرت مند ہوتے تو اسمبلیاں توڑ دیتا، پیپلز پارٹی فوری طور پر الیکشن کے لئے تیار ہے، پی ٹی آئی کے کچھ ارکان نے یقین دلایا ہے کہ انہوں نے ووٹ یوسف رضا گیلانی کو دیا ہے۔ 

آغا رفیع اللہ کا کہنا تھا کہ ویڈیو میں موجود چار اراکین اسمبلی کے ساتھ عمران خان، شہریار آفریدی اور زرتاج گل سے بھی تحقیقات کی جائے، حیدر علی گیلانی نے جو طریقہ بتایا ان سب نے اسی طرح اپنا ووٹ ضائع کیا ہے۔ 

حامد میر نے آغا رفیع اللہ سے پوچھا کہ میری اطلاعات ہیں کہ اسٹنگ آپریشن میں شامل ایک رکن اسمبلی نے آپ کو قرآن پر یقین دلایا ہے کہ ہم نے ووٹ یوسف رضا گیلانی کو ڈالا ہے؟ آغا رفیع اللہ کا جواب میں کہنا تھا کہ آپ کی اطلاعات کبھی غلط نہیں ہوسکتیں۔ 

آغا رفیع اللہ نے کہا کہ حفیظ شیخ کو شکست کے بعد عملی و اخلاقی طور پر استعفیٰ دیدینا چاہئے، حفیظ شیخ کو آئین کے آرٹیکل 6کی شق 9کے تحت وزیر بنایا گیا تھا، اس شق کے تحت حفیظ شیخ کیلئے چھ ماہ میں رکن اسمبلی بننا ضروری تھا، دو مہینے میں رکن اسمبلی منتخب نہیں ہوئے تو قانونی طور پر فارغ ہوں گے، حفیظ شیخ اب قانونی و اخلاقی طور پر مشیر بھی نہیں بن سکتے۔

اہم خبریں سے مزید