آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ رمضان المبارک 1442ھ22؍اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مخالف ووٹ دینے والوں کا علم الیکشن کمیشن کو ہونا چاہیئے، فواد چوہدری


وفاقی وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ کن لوگوں نے ووٹ دیا؟ کون ہیں وہ 16 اراکین؟مخالف ووٹ دینے والوں کا علم الیکشن کمیشن کو ہونا چاہیئے۔

وفاقی وزیرِ سائنس و ٹیکنا لوجی فواد چوہدری نے پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر صحافی کے سوال کے جواب میں یہ بات کہی ہے۔

صحافی نے سوال کیا کہ یہ اخلاقی تقاضہ نہیں تھا کہ آج ووٹنگ سے پہلے سینیٹ میں مخالف ووٹ دینے والوں کو ہٹا دیا جائے؟

فواد چوہدری نے جواب دیا کہ مخالف ووٹ دینے والوں کا علم الیکشن کمیشن کو ہونا چاہیئے، اسی لیے ہم کہہ رہے تھے کہ ووٹ دینے والے کا علم ہونا چاہیئے، ہمیں کیا پتہ کس نے سینیٹ میں ووٹ دیا کس نےنہیں، یہی توجھگڑا ہے ہمارا۔

صحافی نے سوال کیا کہ سینیٹ میں جنہوں نے آپ کے خلاف ووٹ دیا، بہتر نہیں تھا کہ پہلے انہیں ہٹا دیا جاتا؟

صحافی کے سوال پر فواد چوہدری نے بھی سوال کر ڈالا کہ کن لوگوں نے ووٹ دیا؟ کون ہیں وہ 16 اراکین؟ کس کو پتہ ہونا چاہیئے کہ ووٹ کس نے دیئے؟ یہ تو الیکشن کمیشن کو پتہ ہونا چاہیئے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسی لئے تو ہم کہہ رہے تھے کہ ٹریس ایبل ووٹ بنائیں تاکہ پتہ چلے کہ کس نے خلاف ووٹ دیئے ہیں۔

ادھر پی ٹی آئی اراکین وزیرِ اعظم عمران خان سے اظہارِ یک جہتی اور انہیں اعتماد کا ووٹ دینے کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ رہے ہیں، سوا 12 بجے دن قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گا۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں آج صبح مشترکہ ناشتے کے اہتمام کیا گیا، جس میں وزیرِ اعظم عمران خان بھی شریک ہوئے۔

وفاقی کابینہ کے ارکان، پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے تمام ارکانِ قومی اسمبلی کے علاوہ اتحادی جماعتوں کے ارکان بھی پی ٹی آئی ارکان کے ساتھ پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے ناشتے میں شریک ہوئے۔


اتحادی جماعتوں مسلم لیگ ق، بلوچستان عوامی پارٹی، عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کے اراکین کو ناشتے کی دعوت دی گئی۔

ایم کیو ایم کے ارکان ناشتے کے لیے ایک ساتھ پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں ناشتے کی بیٹھک میں حکومت و اتحادی مشترکہ حکمتِ عملی طے ہوئی۔

وزیرِ اعظم عمران خان کے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس پر سیکیورٹی کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔

اسلام آباد کے ڈی چوک، پارلیمنٹ لاجز اور قومی اسمبلی کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

قومی خبریں سے مزید