آپ آف لائن ہیں
منگل29؍شعبان المعظم 1442ھ 13؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تمام عمر کے لوگوں کے لیے روزانہ سبزیوں کا استعمال نہایت مفید ہے۔ یہ فائبر، فولک ایسڈ، پوٹاشیم، معدنیات، وٹامنز اور دیگر کئی غذائی اجزاء سے بھرپور ہوتی ہیں۔ سبزیوں میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار بھی کم ہوتی ہے، اس وجہ سے یہ وزن کم کرنے میں بھی مفید ثابت ہوتی ہیں۔ 

دل کی صحت کے حوالے سے بھی سبزیوں کے بڑے فوائد ہیں، یہ دل کو تقویت بخش کر اسٹروک اور ہارٹ سے محفوظ رکھتی ہیں۔ بیماری کے دوران سبزیوں کے استعمال کی خاص طور پر تاکید کی جاتی ہے۔ پاکستان میں ہر طرح کی موسمی سبزیاں دستیاب ہیں۔ اچھی صحت کے لیے تازی اور سبز پتوں والی سبزیوں کی افادیت مسلمہ ہے۔

یوں تو سبزیاں پکانے کے کئی طریقے ہیں جیسے کہ بھوننا، بھاپ سے پکانا (اسٹیمنگ)، بیک کرنا، گرل کرنا وغیرہ۔ پکانے کے ان تمام طریقوں میں مسالوں کا انتخاب اور مناسب مقدار سبزیوں کو ذائقہ دار بناتا ہے۔ ہمارے یہاں سبزیوں کو بھون کر یا سالن میں پکا کر کھانا زیادہ مقبول ہے۔ 

تاہم، اگر کسی سبزی کو زیادہ دیر تک پکایا جائے تو اس میں موجود حل پذیر وٹامنز (بی اور سی) کی مقدار خاصی کم ہو جاتی ہے جبکہ تیل کا بے جا استعمال بھی کیلوریز اور فیٹس میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ زیادہ پکانے کے باوجود بھی سبزیاں صحت کیلئے انتہائی مفید ہوتی ہیں۔ مگر کوشش کریں کہ سبزیوں کو زیادہ نہ پکائیں۔ سبزیوں کے بیش بہا فوائد کے باوجود لوگ ذائقے کی وجہ سے انہیں کھانے سے گریز کرتے ہیں۔ تاہم، بہت سے ایسے طریقے موجود ہیں جس سے آپ سبزیوں کو اپنے ذائقے کے مطابق بنا سکتے ہیں۔

بیکڈ پالک پنیر

پالک میں فائبر، فولاد اور نمکیات زیادہ ہوتے ہیں۔ اس سے جگر کو تقویت ملتی ہے۔ یہ خون کو صاف اور خون کی شریانوں کی سختی دور کرتی ہے۔ بلڈ پریشر کم کرنے میں بھی معاون ہوتی ہے۔ پالک میں کسی بھی دوسری ہری سبزی کے مقابلے میں زیادہ غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں۔ 

پکی ہوئی ایک کپ پالک 41 کیلوری پر مشتمل ہوتی ہے جبکہ اس میں وٹامن ’اے‘ اور ’کے‘ کی غیر معمولی مقدار بھی ہوتی ہے۔ پالک آئرن جیسے ضروری معدنی عنصر کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ ذیل میں پالک پنیر بنانے کی ترکیب بتائی جارہی ہے۔

درکار اجزاء:

پالک (باریک کاٹ لیں)۔ 2گٹھی

ٹماٹر (سلائس کرلیں)۔ 2عدد

ادرک (باریک کاٹ لیں)۔ 1انچ کا ٹکڑا

تیل۔ حسبِ ضرورت

پنیر۔ 1پیالی

میدہ۔ 1کھانے کا چمچ

سوکھا دھنیا پاؤڈر۔ 2چائے کے چمچ

کالی مرچ پاؤڈر۔ ڈیڑھ چائے کا چمچ

مکھن۔ 1کھانے کا چمچ

چیز ۔ 100گرام

نمک۔ حسبِ ذائقہ

سفید زیرہ (ثابت)۔ 1چائے کا چمچ

ترکیب:

پالک، ادرک اور لہسن کو تھوڑا سا پانی ڈال کر گلا لیں اور پھر انہیں میش کر لیں۔ تیل گرم کرکے اس میں زیرہ ڈال کر فرائی کریں۔ پھر زیرہ پاؤڈر اور دھنیاڈال کر فرائی کریں۔ اس میں پالک کا آمیزہ ملا کر اچھی طرح مکس کریں۔آنچ بند کر دیں اور آمیزے کو بیکنگ ڈش میں ڈالیں۔ 

پنیر اور کدوکش کی ہوئی چیز ملائیں اور پالک کے اوپر پھیلا دیں۔ اس کے اوپر ایک پیالی چیز سوس ڈالیں۔ ٹماٹر کے سلائس سجائیں،مکھن چھڑکیں اورپہلے سے گرم کیے ہوئے اوون میں 15منٹ کے لیے بیک کریں۔

بگھارے بینگن

بینگن ایک ایسی سبزی ہے جس میں کیلوریز کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ اس میں فائبر، وٹامنز اور معدنیات کی کثیر تعداد پائی جاتی ہے۔ بینگن دیگر غذائی اجزاء اور اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات سے بھی مالامال ہوتا ہے۔ اس میں بہت سی بیماریوں سے لڑنے کی خصوصیات موجود ہیں۔ 

یہ کینسر جیسے جان لیوا مرض سے بچاؤ کے ساتھ ساتھ دیگر بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ بینگن کا رائتہ اور پکوڑے بھی بہت مزیدار بنتے ہیں۔ذیل میں بگھارے بینگن بنانے کی ترکیب بتائی جارہی ہے۔

درکار اجزاء:

بینگن۔ چھ عدد

ناریل (کدوکش کیا ہوا)۔ دو کھانے کے چمچ

تِل۔ دو چائے کے چمچ

مونگ پھلی۔ دو کھانے کے چمچ

پیاز (کٹی ہوئی)۔ ایک عدد درمیانی

املی ( گرم پانی میں بھگو لیں)۔ دو سے تین انچ

لال مرچ۔ حسب ذائقہ

نمک۔ حسب ذائقہ

زیرہ پاؤڈر۔ آدھے سے ایک چائے کا چمچ

ہلدی۔ ایک چوتھائی چائے کا چمچ

ادرک (کٹا ہوا)۔ ایک کھانے کا چمچ

لہسن (کٹا ہوا)۔ ایک کھانے کا چمچ

ترکیب:

سب سے پہلے تِل، ناریل اور مونگ پھلی کو بھون کر پیس لیں اور الگ رکھ دیں۔ ایک چوتھائی سے آدھا کپ تیل میں بینگن تل لیں۔ خیال رہے کہ ان کی شکل نہ بگڑے اور وہ آدھے گل جائیں۔ تلنے کے بعد انہیں بھی الگ رکھ دیں۔ اب اسی تیل میں پیاز کو سنہرا ہوجانے تک فرائی کریں، اسی میں ادرک اور لہسن ڈال کر ایک منٹ تک فرائی کریں۔ 

پسا ہوا مکسچر اور مسالے جات شامل کر کے کچھ منٹ تک بھونیں۔ پھر اس میں املی کا پانی اور ساتھ ہی بینگن بھی ڈال دیں۔ دس سے پندرہ منٹ تک یا جب تک بینگن گَل نہ جائیں اور تیل الگ نہ ہوجائے تب تک پکائیں۔ ہرا دھنیا گارنش کر کے کھانے کے لیے پیش کریں۔

سرسوں کا ساگ

سرسوں کا ساگ قدرتی اجزاء سے مالا مال ہے۔ چکنائی اس کا سب سے بڑا جزو ہے، اس میں پروٹین، فولاد، کیلشیم، وٹامن اے، بی اور سی بھی ہوتے ہیں۔ اسے کھانے سے بدن میں طاقت آتی ہے جبکہ چھوٹے بچوں کا قد اور وزن بڑھتا ہے۔اس سے صاف خون پیدا ہوتا ہے۔ 

یہ معدہ، جگر اور آنتوں کو طاقتور بناتا ہے۔ ساتھ ہی پیٹ کے کیڑے بھی مارتا ہے۔ سوجن اور ورم کو تحلیل کرتا ہے۔ جلدی امراض میں مفید ہے۔ اس کی غذائیت گوشت کے برابر ہوتی ہے۔ سرسوں کا ساگ، مکئی کی روٹی اور اس کے اوپر مکھن کا تصور آتے ہی منہ میں پانی آجاتا ہے۔

درکار اجزاء:

سرسوں کا ساگ۔ ایک کلو

مکئی کا آٹا۔ ایک پیالی

ہری مرچ۔ 8عدد

لہسن۔ 8عدد

گول لال مرچ۔ 10عدد

ہلدی۔ ایک چائے کا چمچ

نمک۔ حسب ذائقہ

مکھن۔ ایک پیالی

بگھار کے اجزاء:

لہسن (باریک کٹے ہوئے)۔ 4عدد

مکھن۔ آدھا پیالی

تیل۔3کھانے کے چمچ

ترکیب:

ساگ کو باریک کاٹ کر ہلدی والے پانی میں بھگودیں۔ پھر دھو کر دیگچی میں ڈال لیں۔ اب اس میں آٹے اور مکھن کے علاوہ باقی اجزاء ڈال کر پانی خشک ہونے تک پکالیں۔ ٹھنڈا ہوجائے تو چوپر میں پیس لیں۔ ساگ کو واپس دیگچی میں ڈال کر چند منٹ تک پکائیں۔ اس میں آٹا اور مکھن ملا کر بھون کر ڈش میں نکال لیں۔ فرائننگ پین میں بگھار کے اجزاء فرائی کرکے ساگ پر ڈال لیں اور مکئی کی روٹی کے ساتھ گرما گرم پیش کریں۔

قیمہ بھرے کریلے

کریلے کے بے شمار طبی فوائد ہیں۔ غذائیت کے لحاظ سے کریلوں میں وٹامن اے، ڈی، سی اور بی 6کے علاوہ پروٹین اور پوٹاشیم کی بھی مقدار پائی جاتی ہے۔ اس میں کیلوریز اور کولیسٹرول کی مقدار صفر ہوتی ہے۔ کریلوں کو کئی طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے یعنی پکا کر، جوس نکال کر یا پھر سوپ اور سلاد میں شامل کر کے۔ کریلے کھانے سے شوگر کی مقدار کم ہوتی ہے، پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں اور جگر کے افعال درست ہوتے ہیں۔ کریلا اگرچہ کھانے میں تھوڑا سا کڑوا ہوتا ہے مگر قیمہ بھرے کریلے سب ہی کھانا پسندکرتے ہیں۔

درکار اجزاء:

قیمہ۔ 1پاؤ

کریلے۔ 4عدد

گڑ۔ آدھا چائے کا چمچ

کلونجی۔ 2چٹکیاں

پیاز (چھوٹی)۔ 1عدد

املی۔ آدھا کپ

سونف۔ آدھا چائے کا چمچ

ہلدی۔ آدھا چائے کا چمچ

ہری مرچ۔ 3عدد

تیل۔ 1پیالی

ادرک لہسن پیسٹ۔ آدھا کھانے کا چمچ

پسی لال مرچ۔ آدھا کھانے کا چمچ

نمک۔ حسب ذائقہ

ترکیب:

کریلے چھیل کے درمیان سے چیرا لگا کر بیج نکال لیں۔ انہیں بغیر دھوئے نمک، ہلدی اور گڑ لگا کر رکھ دیں۔ آدھے گھنٹے بعد پانی سے دھو کر چھلنی میں نچڑنے کے لیے رکھ دیں۔ اب پتیلی میں تھوڑا سا تیل ڈال کر گرم کریں اور اس میں پیاز ڈال کر فرائی کریں۔ جب پیاز ہلکی گلابی ہو جائے تو نکال لیں۔ پھر قیمہ، ادرک، لہسن، کلونجی، نمک، ہلدی، سونف اور مرچ ڈال کر اچھی طرح بھون لیں۔ جب پانی خشک ہو جائے تو فرائی کی ہوئی پیاز اور ہری مرچ ڈال کر ڈھکن سے ڈھک کر 5منٹ کے لیے دَم پر رکھ دیں۔ 

پھر چولہا بند کریں اور ٹھنڈا ہونے دیں۔ جب ٹھنڈا ہو جائے تو اسے کریلوں میں بھر کر انہیں اچھی طرح بند کر کے دھاگا باندھ دیں۔ اب ایک پین یا کڑاہی میں تیل گرم کر کے اس میں اچھی طرح فرائی کر لیں۔ جب وہ گولڈن ہو جائیں تو نکال لیں اور قیمہ والی پتیلی میں رکھ دیں۔ پھر املی کا رس اور تھوڑا سا گڑ ڈال کر 10 منٹ کے لیے دَم پر رکھ دیں۔ تیل اوپر آنے پر قیمہ بھرے کریلے تیار ہوجائیں گے۔