برطانیہ سے آنے والا کورونا وائرس انتہائی خطرناک، جلدی میں اٹھایاگیا کوئی قدم ہمیں پیچھے دھکیل سکتا ہے، آئرش وزیراعظم
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ سے آنے والا کورونا وائرس انتہائی خطرناک، جلدی میں اٹھایاگیا کوئی قدم ہمیں پیچھے دھکیل سکتا ہے، آئرش وزیراعظم

ڈبلن(معراج عابد ) آئرلینڈ کے وزیراعظم مائیکل مارٹن نے کہا ہے کہ برطانیہ سے آنے والا کویڈ 19 وائرس انتہائی خطرناک ہے اور تیزی سے پھیل رہا ہے، اس وجہ سے پورے یورپ میں اس مہلک وائرس سے نمٹنے کے لیے محفوظ حفاظتی اقدامات لیے جارہے ہیں، ہم اس وقت ایک خوفناک سفر کی آخری منزل پر ہیں ،اس وقت جلدی میں لیا گیا کوئی قدم بھی ہمیں پیچھے دھکیل سکتا ہے، جس سے اب تک اس مہلک وائرس سے کی گئی جنگ جس میں ہم نے بہت سی قربانیاں دی ہیں کو نقصان پہنچ سکتاہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملک میں جاری کویڈ 19 پابندیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے کی گئی پریس کانفرنس میں کیا۔ آئرلینڈ میں اس وقت باقی دنیا کیطرح کویڈ 19 جیسی خطرناک وبا کیوجہ سے ملک میں 5 اپریل تک لیول 5 لاک ڈاؤن کی پابندیاں جاری ہیں۔ کورونا وائرس کے ہاتھوں مجموعی طور پر 4 ہزار 6 سو 81 افراد ہلاک ہوچکے ہیں ،کورونا مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 35 ہزار 444 ہوچکی ہے، گزشتہ روز وزیراعظم مائیکل مارٹن کی سربراہی میں کویڈ 19 پابندیوں پر نظرثانی کے لیے گورنمنٹ بلڈنگ میں کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں محکمہ صحت کی نیشنل پبلک ہیلتھ ایمرجنسی ٹیم نے شرکت کی اور حکومت کو پابندیوں کے حوالے سے اپنی سفارشات پیش کیں، اس میٹنگ کے بعد وزیراعظم مائیکل مارٹن نے نائب وزیراعظم لیو واڈکر اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں عوام کو حکومت کے فیصلوں کے بارے میں بتایا، انہوں نے کہا کہ وائرس کے کیسوں میں ابھی اس حد تک کمی نہیں آئی کہ حکومت ملک میں جاری لاک ڈاؤن میں نرمی کرسکے، کیونکہ ہم اس وقت انتہائی اہم موڑ پر ہیں، اس وقت جلدی میں کیے گئے فیصلے سے ہماری کویڈ کے خلاف جنگ میں نقصان ہوسکتا ہے، اس لیے حکومت نے فیصلہ کیاہے کہ موجودہ پابندیوں میں کچھ نرمی کے بعد 4 مئی تک بڑھایا جائے، اس حوالے جو فیصلہ لیا گیا ہے اس میں 12 اپریل سے لوگوں کو اپنی کاؤنٹیز کے اندر یا 20کلومیٹر کے اندر سفر کرنے کی اجازت ہوگی جبکہ دو گھرانے اپنے گارڈن میں نہیں مگر باہر مل سکیں گے، پہلی کلاس سے4 کلاس کے پرائمری سکول کھول دیئے جائیں گے، اسطرح گھریلوں تعمیرات کی اجازت ہوگی۔ ایسے افراد جن کو کورونا ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوائے ہوئے دو ہفتے ہوچکے ہیں وہ افراد ایک دوسرے سے گھروں میں مل سکیں گے اور انہیں اور ماسک پہننا ضروری نہیں ہوگا۔19اپریل سےہائی پرفامنس ٹریننگ یا جی اے اے انٹر کاؤنٹی ٹرینگ کی اجازت ہوگی جبکہ 26 اپریل سے 18سے کم عمر کھلاڑی آوٹ ڈور ٹریننگ کرسکیں گے۔ 26 اپریل سے گالف کورس ، ٹینس کورٹ، چڑیا گھراور وائلڈ لائف پارک بھی کھول دیے جائیں گے ۔ 26 اپریل سے 25 افراد جنازہ کی رسومات میں شرکت کرسکیں گے۔ وزیراعظم مائیکل مارٹن نے ویکسین کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ویکسین کی سپلائی میں کمی کے باعث یورپ اور آئرلینڈ ویکسی نیشن کی کوششوں کو نقصان پہنچا ،انہوں نے بتایا کی آئرلینڈ میں آئندہ ہفتہ تک ویکسین کی ایک ملین خوراکیں مکمل کرلی جائیں گی، مئی کے آخر تک 70 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو ویکسین کی خوراکیں مکمل کرلی جائیں گی، حکومت جولائی کے آخر تک 6 ملین خوراکوں کا ٹارگٹ پورا کرے گی، اس لیے امید ہے کہ موسم گرما میں ملک میں کاروبار زندگی معمول پر آسکے، حکومت جون سے ہوٹلوں، بی اینڈ بی ، گیسٹ ہاوسز کو کھولنے پر غور کررہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت ضروت اس امر کی ہے کہ ہم اس آخری مرحلے کو محفوظ طریقے سے پار کرسکیں، حکومتی ایس او پیز پر عمل کریں ،سوشل فاصلہ کا خیال رکھیں، پبلک مقامات پرماسک کا استعمال یقینی بنائیں۔ نائب وزیراعظم لیو واڈکر نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کے دیگر ممالک کی نسبت ہم بہتر پوزیشن میں ہیں، ہم سب کو ملکر حکومتی ہدایات پرعمل کرنا ہوگا تاکہ وبا کا خاتمہ کرسکیں، انہوں نے کہا حکومت جون تک تمام کاروبار اور بےروزگاروں کی امداد جاری رکھے گی۔

یورپ سے سے مزید