ترکی اور مصر کے درمیان مفاہمتی بات چیت پھر تعطل کا شکار
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ترکی اور مصر کے درمیان مفاہمتی بات چیت پھر تعطل کا شکار

قاہرہ ( نیوز ڈیسک) ترکی اور مصر کے درمیان مفاہمتی بات چیت ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گئی۔ غیرملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق قاہرہ نے انقرہ کے ساتھ سیکورٹی سطح کے رابطے غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قاہرہ نے انقرہ کے ساتھ سیکورٹی امور سے متعلق رابطے اس وقت تک ملتوی کر دیے ہیں، جب تک انقرہ ترکی کی طرف سے پیش کردہ مطالبات پرعمل نہیں کرتا۔ ذرائع کادعویٰ ہے کہ مصر نے یہ اقدام لیبیا میں تعینات تُرک فوجیوں کی واپسی اور جنگجوؤں کے انخلا سے متعلق مطالبے پر عمل نہ ہونے کے باعث کیا ہے۔ مصری حکام نے ترکی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ لیبیا میں تعینات اپنے عسکری مشیروں کو وہاں سے واپس بلائے اور لیبیا میں موجود جنگجوؤں کی غیر مشروط واپسی کے لیے اقدامات کرے۔ انقرہ نے قاہرہ کے مطالبے پر اپنی سرزمین سے نشریات پیش کرنے والے اخوان المسلمون کے بعض ٹی وی چینلوں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی ہے، تاہم مصر اس اقدام پر اکتفا کرنے کو تیار نہیں ہے۔ مصر نے ترکی سے یحییٰ موسیٰ اور علا السماحی نامی 2افراد کی حوالگی کا بھی مطالبہ کیا ہے، تاہم انقرہ نے اس حوالے سے وقت مانگا ہے۔ قاہرہ اور انقرہ کے درمیان اختلافات اخوان المسلمون کی ترکی میں سرگرمیوں پر پابندیاں عائد نہ کیے جانے پر بھی سامنے آئے ہیں۔ مصر ترکی میں اخوان المسلمون کی سرگرمیوں پرپابندی لگوانا چاہتا ہے۔
یورپ سے سے مزید