گن کلچر ختم کرنے کیلئے جوبائیڈن کا عزم
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی صدر ان کی نئی انتظامیہ اور امریکی سول سوسائٹی کے باخبر حلقے اس اَمر پر شدید تشویش میں مبتلا ہیں کہ کورونا وائرس کی شروعات کے ساتھ ملک میں اسلحہ کی خریداری میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ہوگیا جو پچھلے کئی برسوں سے زیادہ ہے۔ نیشنل شوٹنگ اسپورٹ فائونڈیشن یا ایس ایس ایس ایف کے حالیہ اعداد و شمار اور جائزوں کے مطابق کورونا کی وبائی بیماری نے امریکیوں کو غالباً بدحواس کر دیا ہے وہ اسلحہ کی خریداری کی طرف مائل ہوگئے ہیں۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے امریکی کانگریس میں متعلقہ کمیٹی کو خصوصی طور پر کہا ہے کہ بل تیار کیا جائے اور ملک میں اسلحہ کو کنٹرول کرنے کے لئے مؤثر قوانین وضع کئے جائیں۔ واضح رہے کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے بھی 2016ء میں امریکا میں اسلحہ کے پھیلائو پر مؤثر کنٹرول قائم کرنے کے لئے قانون سازی پر بار بار زور دیا تھا مگر ہر بار ریپبلکن پارٹی کے اراکین اور بعض قدامت پسند حلقے امریکا میں اسلحے کی خریداری اور فروخت پر پابندی یا اس کے خلاف کسی کارروائی کو کسی طور تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اس سے قبل بھی اس طرح کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں مگر نتیجہ صفر ہی نکلا۔

حال ہی میں امریکی صدر جوبائیڈن نے گزشتہ سال اور رواں سال میں امریکا میں آتشی اسلحہ کی ریکارڈ خریداری پر اپنی گہری تشویش ظاہر کی ہے انہوں نے اراکین کانگریس پر زور دیا کہ وہ فوری مؤثر قانون سازی کریں تا کہ اس رُجحان کو روکا جا سکے۔ قبل ازیں سابق صدر اوباما نے بھی اراکین کانگریس پر زور دیا تھا کہ ملک میں آتشی اسلحہ کی بے لگام خریداری اچھا شگون نہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے کچھ اہم فیصلے کرنے پڑیں گے۔ ریپبلکن پارٹی اور چند قدامت پسند اور پریشر گروپس ملک میں آتشی اسلحہ سازی اور فروخت کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ 

صدر جوبائیڈن اسلحہ کی فروخت کے حوالے سے قانون سازی پر زور دے رہے ہیں یہ ایک اچھا فیصلہ ہے مگر وائٹ ہائوس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر بائیڈن کے لئے یہ آسان نہ ہوگا۔ طرح طرح کی رُکاوٹیں، تاویلیں، حیلے بہانے سامنے آئیں گے۔ اِس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ درجنوں چھوٹی بڑی اسلحہ ساز فیکٹریاں جدید آتشی اسلحہ تیار کرتی ہیں۔ ان کے پاس سرکاری لائسنس ہیں۔ بلاشبہ بلین ڈالرز کا کاروبار ہے۔ ہزاروں ڈیلرز اسلحہ فروخت کر رہے ہیں۔ اس طرح پورے ملک میں بہت بڑی مستحکم فعال لابیاں گروپس اس کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ان سب کے مفادات باہم ایک ہیں ایسے میں حکومتوں کے لئے بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ ان کو لگام دیا جا سکے خاص طور پر ہر جمہوری ملک کو اس طرح کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔

امریکی حلقے اس پر حیران ہیں کہ امریکا میں کووڈ کی وباء جیسے جیسے پھیلتی گئی اسی طرح ملک میں آتشی اسلحہ کی خریداری میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ آخر ایک وبائی بیماری کا اسلحہ سے کیا تعلق۔ یہ وہ نکتہ ہے جس پر امریکی تھنک ٹینک حیران ہیں۔ اس کی وجہ ہے عدم تحفظ کا احساس۔ ایک جائزے کے مطابق 44 فیصد امریکی خاندان اپنا ذاتی اسلحہ رکھتے ہیں۔ اس طرح آتشی نجی اسلحہ کی تعداد چار سو ملین تک جا پہنچتی ہے۔ اور گزشتہ سال کورونا نے اسلحہ کی خریداری کو جیسے پر لگا دیئے۔ اس مسئلے میں بڑے قانون داں اور سول سوسائٹی کی ممتاز شخصیات بھی شریک ہیں مثلاً ابھی سابق چیف جسٹس وارن برگر نے ایک بیان میں کہا کہ ہر امریکی کو حق ہے کہ وہ اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کے لئے اسلحہ رکھے۔ اس طرح کے بیانات مختلف غیرسرکاری تنظیموں کی طرف سے بھی آتے ہیں جو اسلحہ کی خرید و فروخت اور اسلحہ رکھنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ 

امریکا میں ذاتی اسلحہ رکھنے کی روایت تو بہت پُرانی ہے بلکہ یہ کہنا دُرست ہوگا کہ امریکا کی دریافت کے بعد یورپی نو آبادکاروں نے اسلحہ کے زورپر پورے خطّے پر قبضہ کیا تھا اور یہاں کے قدیم آبائی باشندوں کا قتل عام کیا تھا۔ اس کے بعد امریکا میں سول وار کا دور شروع ہوا۔ شمالی اور جنوبی ریاستوں میں محاذ آرائیاں ہوئیں اس طرح امریکا میں گن کلچر معاشرے کا لازمی جُز بن کر رہ گیا اور ہر امریکی اسلحہ رکھنے کو اپنا حق تصوّر کرنے لگا۔ خاص طور پر تیسری اور چوتھی دہائیوں میں امریکی شمالی ریاستوں میں بڑے گینگ، مافیا اور جرائم پیشہ ٹولوں کا ایک سلسلہ دراز ہوا جس نے لوٹ مار، قتل و غارت گری کا طوفان بپا کر دیا تھا۔ ریاستی پولیس بے بس تھی یا ان سے مل کر کام کرتی تھی۔ اس دور میں بڑے بڑے سنڈیکیٹ وجود میں آ چکے تھے جو قتل، اغوا، دنگے فساد سے لے کر کسی کو انتخابات میں جتوانے اور ہرانے کا کام بھی معاوضہ پر کرتے تھے۔ 

تقریباً شراب خانے، جوئے خانے اور قحبہ خانے انہی کی سرپرستی میں چلتے تھے۔ تب امریکا میں گن کلچر مزید مستحکم ہوا۔ ان دِنوں ہر شہر میں درجنوں کلب اور تنظیمیں بنی ہوئی ہیں جو شکار، مائونٹنگ، جنگلوں میں کیمپ لگانے اور اس طرح کی تفریحات کا بندوبست کرتی ہیں، ان میں اکثر ایسے نام نہاد متعصب شکاری بھی شامل ہوتے ہیں جو شکار کے نام پر ریڈ انڈین کو نشانہ بنانے سے بھی نہیں چوکتے۔ ویسے امریکا میں قدیم امریکیوں کی تعداد بہت کم ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی تاریخ کے مضمون کو ناپسند کرتے ہیں کیونکہ ان کی تاریخ اچھی نہیں ہے۔ 

شمالی اور جنوبی امریکا کی دریافت کے بعد یورپی استعماریت پسندوں نے جان بوجھ کر اس خطّے کے حقیقی قدیم باشندوں کی تاریخ کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ جنوبی امریکا جس کو لاطینی امریکا بھی کہا جاتا ہے وہاں قدیم مایا تہذیب کے نمایاں آثار دریافت ہوئے ہیں۔ مایا تہذیب لگ بھگ لاطینی امریکا میں پھیلی ہوئی تھی اور اپنے دور کی ترقّی یافتہ، مہذّب اور منظّم تہذیب تھی جس کے بارے میں بہت کچھ جاننے اور حیران ہونے کی ضرورت ہے۔ امریکی سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا میں جدید سرمایہ دارانہ نظام نے اجتماعیت کو انفرادیت میں بدل دیا ہے۔ ہر فرد اپنی انفرادیت پسندی پر یقین رکھتا ہے۔ امریکی نوجوانوں کو سکھایا جاتا ہے کہ اپنا بوجھ خود اُٹھانا ہے۔ اپنے مسائل خود حل کرنے ہیں۔ 

اپنی حفاظت بھی خود کرنا ہے۔ اپنی زندگی اپنے طور خود گزارنی ہے۔ اس طرح نوجوان میں خوداعتمادی سے زیادہ عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا جاتا ہے۔ قدیم ترین انسان وحشی، تنہا ضرور رہا ہوگا مگر ہزاروں برسوں بعد معاشرتی، موسمیاتی اور حیاتیاتی ضرورتوں کے تابع ہوتے ہوتے وہ ایک سماجی گروہ کا رُکن بنتا چلا گیا۔ مگر اجارہ دار سرمایہ داری اس کو پھر سے جدید، تہذیب یافتہ تنہائی پسند نیم وحشی سماجی رُکن بنا رہی ہے جس کو اپنی حفاظت کے لئے ہم نفسوں سے بچائو کے لئے ہتھیار کی ضرورت ہے۔ جب تک اس طرح کی سوچ فروغ نہیں پائے گی احساس عدم تحفظ ختم نہیں کیا جا سکتا۔

دُنیا میں جس قدر نجی اسلحہ گھروں میں ہے اس کا 46 فیصد اسلحہ صرف امریکا میں ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایک وسیع عوامی سروے میں امریکی عوام کی اکثریت نے امریکا میں گن کلچر پر سخت تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ حکومت گن کلچر کو روکنے کے لئے سخت قوانین وضع کرے۔ امریکا میں تارکین وطن امریکی گن کلچر سے سخت نالاں ہیں مگر ان کی رائے یا تنقید کی زیادہ اہمیت نہیں ہے۔ امریکا کی نیشنل رائفل ایسوسی ایشن فعال اور بے باک تنظیم ہے۔ این آر اے گن کلچر کی حمایت کرتی ہے۔ آتشی اسلحہ کی تیاری اور خرید و فروخت کے حوالے کسی بھی پابندی کے خلاف ہے۔ یہ پُرانی منظم اور بااثر افراد کی تنظیم ہے جس کو آتشی اسلحہ ساز اداروں کی حمایت تعاون حاصل ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے محکمہ داخلہ کو واضح طور پر ہدایات دی ہیں کہ تمام غیرلائسنس یافتہ اور پوشیدہ اسلحہ ضبط کیا جائے۔

ایک غیرسرکاری تنظیم کے سربراہ کا کہنا ہے جس نے نام ظاہر نہیں کیا کہ غیرقانونی ذرائع سے اسلحہ کی تیاری اور فروخت کا دھندا بھی عام ہے اور یہ اسلحہ کم داموں دستیاب ہو جاتا ہے۔ لاطینی امریکا اور جزائر غرب الہند کے اسلحہ اسمگلرز بھی اپنا مال امریکا میں فروخت کرتے ہیں۔ ایک طرح سے اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ ایک دُوسرے سے جُڑے ہوئے ہیں۔ اب چند ایک غیرسرکاری تنظیموں نے یہ بیڑہ اُٹھایا ہے کہ گن کلچر کے خلاف عوام میں آگہی کو فروغ دیا جائے۔ میامی کے گلوکار نے نعرہ وضع کیا ہے کہ ’’تم مجھے گن دیدو میں تمہیں نیا ٹرسپیٹ دوں گا‘‘ جو موسیقی کا ایک آلہ ہے۔ اس طرح کچھ لوگ کام کر رہے ہیں۔

امریکی گن کلچر کے فروغ اور معاشرے میں اسلحہ کے پھیلائو کے حوالے سے سینئر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ساٹھ اور ستّر کے عشرے قدرے بہتر رہے مگر اَسّی کے عشرے اور بعد کے حالات میں بہت سے معاملات تبدیل ہوگئے۔ خصوصاً صدر رونالڈ ریگن کا دور ہنگامہ خیز رہا۔

ایرانی انقلاب، افغانستان میں روسی مداخلت، امریکن اسٹاروار پروگرام کا اعلان کیا۔ پھر افغان جہاد، روسیوں کی واپسی، سوویت یونین کا منتشر ہونا، امریکی نئی خارجہ پالیسی، پھر صدر بش کا نیا امریکی ورلڈ آرڈر، مسلم جہادی گروہوں کی کارروائیاں، نائن الیون کا سانحہ، ان تمام واقعات نے امریکی معیشت، سیاست اور معاشرت پر گہرے اَثرات مرتب کئے۔ اس تمام عرصے میں امریکا میں اسٹاروار پروپیگنڈہ عروج پررہا یہاں تک کہ بچوں کے کھلونے اور کارٹون بھی فوجی عسکری کرداروں اور ہتھیاروں کی شکل میں آ گئے۔ ایک نسل کا ذہن تبدیل ہوگیا۔ اب بھی وہ ویڈیو گیمز مقبول ہیں۔

ہالی ووڈ نے جان ریمبو ٹائپ فلموں کا سلسلہ دراز کر دیا۔ اگر بغور دیکھا جائے تو اس تمام مذکورہ صورت حال سے نہ صرف امریکی معاشرے پر منفی اثرات نمایاں ہوئے بلکہ دُنیا کے بیش تر معاشرے بھی بُری طرح متاثر ہوئے۔ اس کے ضمنی اثرات کا ذکر امریکی ماہرین تعلیم اپنی رپورٹس اور جائزوں میں کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر بچّے ٹی وی، لیپ ٹاپ وغیرہ کے شیدائی بن گئے اور زیادہ وقت ادھر صرف کرنے لگے جس سے ان کا وزن بڑھ گیا اور آنکھوں پر اثرات نمایاں ہونے لگے۔ ایسے میں بچّوں کی لکھنے کی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے۔

سماجی ماہرین مسلسل اپنے جائزوں اور تجزیوں میں حکومت اور عوام کو آگاہ کررہے ہیں کہ امریکی گن کلچر اور لائف اسٹائل کی بدولت امریکا میں چوری، ڈکیتی، تشدد اور خواتین کی بے حرمتی کے واقعات کا اوسط یورپی ممالک سے زیادہ ہے روزانہ امریکا میں کئی سو افراد کو گولی مار کرہلاک کر دیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ اس ملک میں ہوتا ہے جہاں ہر لمحے پولیس کی گاڑی سامنے سے گزرتی نظر آتی ہے۔ پولیس کا سخت رویہ مگر قانون کے دائرے میں ہوتا ہے۔ لہجہ سخت سرد اور جاندار ہوتا ہے مگر اس میں تضحیک یا بدتمیزی کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ پولیس مین نے اندازہ کر لیا کہ فرد بے قصور ہے تو وہ اس سے معذرت کر کے جانے دیتا ہے۔

اگر کوئی اَن ہونی دکھاتا ہے تو پولیس مین پھر اس کو دن میں تارے بھی دکھا دیتا ہے۔ بعض بائیں بازو کے افراد امریکا کو پولیس اسٹیٹ قرار دیتے ہیں۔ پولیس کا زیادہ ٹکرائو امریکی سیاہ فام باشندوں سے رہتا ہے۔ اس میں پھر نسلی تعصب کا مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے جو کہیں دُرست ہوتا ہے کہیں غلط ہوتا ہے۔ اس تناظر میں معروف جریدہ اکنامسٹ کے پروفیسر بیتھ ملر لکھتے ہیں امریکا میں گن کلچر ، اسٹریٹ کرائمز، بے راہ روی اور منشیات کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان سماجی معاشرتی برائیوں کی روک تھام کے لئے سخت قوانین وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر سیاستدان اور حکمراں ان مسائل سے آنکھیں چُراتے رہے ہیں۔ 

یہ گن کلچر کے حامیوں کے دبائو کو قبول کرتے رہے ہیں۔ مگر اب ضروری ہے کہ حکومت جرأت مندانہ فیصلے صادر کرے تاکہ امریکی جمہوریت لبرل اَزم اور آزادی کو ممکنہ خدشات اور خطرات سے محفوظ کیا جا سکے۔ بیش تر ماہر سماجیات امریکی سیاستدانوں اور حکمرانوں پر یہ واضح کرتے رہے ہیں کہ امریکی گن کلچر، امریکیوں کے رویوں، تشدد کی وجہ سے شدید غیریقینی حالات سے دوچار ہیں۔ وار نسل کے لوگ خاص کر ہسپانوی باشندے امریکیوں کی نسل پرستی سے عاجز آ چکے ہیں۔ اب مسلم باشندے بھی اپنی مذہبی روایات کا تحفظ چاہتے ہیں۔ امریکا کو ان من جملہ مسائل پر سنجیدگی اور غیرجانبداری سے سوچنا اور عملی اقدام کرنا چاہئے۔ صدر جو بائیڈن نے گن کلچر کے خلاف جو مؤقف اختیار کیا ہے وہ دُرست ہے۔ امن پسند امریکی عوام کو اس سے بہت سی اُمیدیں وابستہ ہیں۔

معزز قارئین! آپ سے کچھ کہنا ہے

ہماری بھرپور کوشش ہے کہ میگزین کا ہر صفحہ تازہ ترین موضوعات پر مبنی ہو، ساتھ اُن میں آپ کی دل چسپی کے وہ تمام موضوعات اور جو کچھ آپ پڑھنا چاہتے ہیں، شامل اشاعت ہوں، خواہ وہ عالمی منظر نامہ ہو یا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، رپورٹ ہو یا فیچر، قرطاس ادب ہو یا ماحولیات، فن و فن کار ہو یا بچوں کا جنگ، نصف سے زیادہ ہو یا جرم و سزا۔ لیکن ان صفحات کو اپنا سمجھتے ہوئے آپ بھی کچھ لکھیں اور اپنے مشوروں سے نوازیں بھی۔ خوب سے خوب تر کی طرف ہمارا سفر جاری ہے۔

ہمیں خوشی ہے کہ آج جب پڑھنے کا رجحان کم ہوگیا ہے، آپ ہمارے صفحات پڑھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اب ان صفحات کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنی رائے بھی دیں اور تجاویز بھی، تاکہ ان صفحات کو ہم آپ کی سوچ کے مطابق مرتب کرسکیں۔ ہمارے لیے آپ کی تعریف اور تنقید دونوں انعام کا درجہ رکھتے ہیں۔ تنقید کیجیے، تجاویز دیجیے۔ اور لکھیں بھی۔ نصف سے زیادہ، بچوں کا جنگ، ماحولیات وغیرہ یہ سب آپ ہی کے صفحات ہیں۔ ہم آپ کی تحریروں اور مشوروں کے منتظر رہیں گے۔ ہمارا پتا ہے:

رضیہ فرید۔ میگزین ایڈیٹر

روزنامہ جنگ، اخبار منزل،آئی آئی چندیگر روڈ، کراچی