محکمہ خزانہ،ایکسائز کی مشاورت سےریونیو/آمدنی کے اہداف مقررکرے،پی اے سی
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محکمہ خزانہ،ایکسائز کی مشاورت سےریونیو/آمدنی کے اہداف مقررکرے،پی اے سی

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین میر اختر حسین لانگو کی زیر صدارت بلوچستان صوبائی اسمبلی کی کمیٹی روم میں ہوا، جس میں ممبران کمیٹی ثناء اللہ بلوچ، ملک نصیر احمد شاہوانی، زابد علی ریکی ،سمیت سیکرٹری اسمبلی، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ، سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ، محکمہ قانون ، محکمہ خزانہ اور محکمہ ترقیات کے نمائندوں نے شرکت کی ۔ اجلاس محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے آڈٹ پیراز برائے 19-2018 اورکمپلائنس رپورٹ برائے 18-2017 کے سلسلے میں ہوا۔اجلاس میں چیئرمین میر اختر حسین لانگو نے کہا کہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ریونیو اکٹھاکرنے والا صوبے کا سب سے بڑا ادارہ ہے،محکمہ اپنے ریونیو اہداف حاصل کرنے میں کیوں ناکام رہتا ہے ۔جس پر سیکرٹری ایکسائز نے کہا کہ ریونیو اہداف محکمہ خزانہ خود سیٹ کرتا ہے جس کے لیے ہم سے مشاورت نہیں کی جاتی،جبکہ محکمہ خزانہ کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ خسارہ اور صوبے کے پاس فنڈز کی کمی کی وجہ سے محکمہ خزانہ یہ اہداف سیٹ کرتا ہے۔جس پر اختر حسین لانگو نے کہا کہ محکمہ خزانہ ایکسائز کے ساتھ مشاورت کے ساتھ ان کے لئے ریونیو/آمدنی اہداف سیٹ کرے ۔ رکن بلوچستان اسمبلی ثناء اللہ بلوچ نے کہا کہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن صوبے کو بہت ریونیو جمع کر کے دے سکتا ہے لیکن جدید طریقوں کو اپنائے بغیر ایکسائز ریونیو جمع نہیں کر سکتا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ جدید اور نئے طریقے اختیار کیے جائیں ۔اجلاس میں چیئرمین پی اے سی نے استفسار کیا کہ کنٹونمنٹ بورڈ سے پراپرٹی ٹیکس اب تک کیوں نہیں لیا گیا سیکرٹری ایکسائز نے بتایا کہ ہم نے کنٹونمنٹ بورڈ کو کئی خطوط لکھے ہیں لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔ اختر حسین لانگو نے کہا کہ کنٹونمنٹ بورڈ کو تین ماہ کا نوٹس لیٹر جاری کریں کہ محکمہ کے پراپرٹی ٹیکس متعین وقت میں جمع کرائےآج محکمہ کو تین مہینے کا وقت دیتے ہیں۔ محکمہ ان تمام اداروں کو پی اے سی کی ہدایات کی روشنی میں خطوط لکھے، دیکھنا چاہتے ہیں کہ پی اے سی کی ہدایات کو کون نہیں مانتا۔انہوں نے ہدایت کی کہ ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اپنے اختیارات سے بڑھ کر اخراجات کرنے سے گریز کرے۔انہوں نے استفسار کیا کہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے کوئٹہ شہر میں 26 ایسی جگہوں کا سروے کیوں نہیں کرایا جن کو محکمہ لاک یا مسمار ظاہر کر رہا ہے۔ آئندہ اجلاس میں محکمہ ان تمام عدم ادائیگی والی پراپرٹیز کی پریزینٹیشن کمیٹی کو پیش کرے تاکہ ہمیں پتہ چلے کہ شہر میں کتنے اور کہاں کہاں یہ پراپرٹی لاک یا مسمار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ لگتا ہےکہ کلرک نے پی اے سی کے لئے ورکنگ پیپرز آپ لوگوں کو تھما دئیے ہیں ۔ محکمے کی سستی سے لگتا ہے کہ محکمہ تیاری کیے بغیر پی اے سی کی میٹنگ میں بیٹھی ہے۔ آئندہ بغیر تیاری پی اے سی کے اجلاس میں نہ آیا کریں ۔آئندہ اجلاس میں سیکرٹری اپنے محکمے کے ملازمین کو بٹھا کر تیاری کریں ۔ 
کوئٹہ سے مزید