کراچی(پ ر)انجینئر وسیم عابدی کے مطابق خیر العمل ٹرسٹ کے سابق ٹرسٹی محمد عالم حسین زیدی کے والدین کو ایصال ثواب کے لئے مجلس عزا اتوار کو بعد نماز ظہرین مسجد خیر العمل انچولی سوسائٹی میں ہوگی،مولانا حیات عباس نجفی خطاب کرینگے۔
کراچی میں سوک سینٹر کے قریب پلاٹ میں کھڑے پانی میں 12سال کا لڑکا ڈوب گیا۔
ایرانی میڈیا کی جانب سے جاری ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ انسان کی مدد کے بغیر چلائی جانیوالی کشتی کا ایک حصہ تباہ ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی جھوٹے مقدمات میں جیل میں ہیں، ہمیں دیوار کے ساتھ نہ لگایا جائے۔
ہلاک ملزمان نے گڑھی موسم خان میں خواتین سے مبینہ اجتماعی زیادتی کی تھی۔
اٹارنی جنرل منصور اعوان نے دلائل میں کہا کہ اسلام آباد پولیس تعداد میں کم ہے، ہوسکتا ہے اشتعال انگیز گروہ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اتنی زیادہ نہ ہو۔
نوبل انعام یافتہ اے آئی ایکسپرٹ اور "گاڈ فادر آف اے آئی"جیفری ہنٹن نے جیکب کاکسن کے خدشات کی تائید کردی۔
وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان نے کہا ہے کہ گورنر راج لگالیں یا سہیل آفریدی کو نااہل قرار دے دیں، 27 ستمبر کو ہم اسلام آباد آئیں گے۔
ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے ریفارمز کی ضرورت ہے۔
جنتر منتر پر احتجاج کے دوران محمد عرفان کی گفتگو کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئیں، انہوں نے مزدوروں کے مسائل، جمہوریت، آئین اور عام آدمی کے حقوق پر بے باک انداز میں گفتگو کی۔
کراچی میں جامعہ کراچی کے پروفیسر عارف ساقی پر تشدد کیس میں نامزد ملزم کونین شاہ کو گرفتار کرلیا گیا۔
ذکیہ خان نامی مجرمہ نے بزرگ شہریوں کے لیے ڈے کيئر سینٹر قائم کرکے امریکی حکومت سے فراڈ کرکے ادائیگیاں حاصل کیں،
بالی ووڈ اداکار سیف علی خان کا کہنا ہے کہ 2012 کی فلم کاک ٹیل کرنا انکی ایک غلطی تھی، یہ قدرے رجعت پسند اسکرپٹ کا انتخاب تھا۔ 14 برس بعد سیف نے ہومی ادجانیا کی اس فلم میں کام کرنے اور گوتم کا کردار ادا کرنے پر رضامندی کی وجہ بتائی۔
ایک امریکی اخبار مئ امریکا اور مشرقِ وسطیٰ کے حکام کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران نے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری دوبارہ شروع کر دی ہے۔
شوبز انڈسٹری میں ستارے اور فوٹو گرافرز ایک دوسرے کا سہارا ہیں: بھارتی اداکار
کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں نجی اسپتال کے ڈاکٹر اور عملے پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔ اس حوالے سے پولیس نے بتایا کہ نجی اسپتال میں کینولا غلط لگانے سے ایک ماہ کے بچے کا ہاتھ ضائع ہوگیا۔
اے آئی بنانے والے خود جانتے ہیں کہ اس دہائی کے آخر تک اے آئی ہمیں مار سکتی ہے۔