• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیٹونے روس پر امریکا کی نئی پابندیوں کی حمایت کردی

برسلز/ ماسکو ( نیوز ڈیسک) مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے امریکا کی جانب سے روس پر نئی پابندیوں کی حمایت کردی۔ نیٹو نے ایک بیان میں کہا کہ اتحادی ممالک روس کی طرف سے عدم استحکام کی سرگرمیوں کے جواب میں امریکا کے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں اور امریکا کے ساتھ ہیں۔ اتحادی ممالک انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر اتحاد کی اجتماعی سیکورٹی میں اضافہ کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ یورپی یونین نے بھی امریکا کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا ہے اور کہا کہ ہیکنگ کی وجہ سے یورپی یونین کے مفادات بھی متاثر ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب روس نےامریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ 2 جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی نئی پابندیاں امریکی صدر بائیڈن کی روس کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی خواہش کے برعکس ہیں، جب کہ روس کئی بار امریکا کو مخالفانہ اقدامات کے نتائج سے خبردار کر چکا ہے۔ امریکا کے ساتھ اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولینڈ نے بھی وارسا میں روسی سفارت خانے کے 3سفارت کاروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے ملک چھوڑدینے کا حکم دیاتھا جس کے جواب میں  روس نے کارروائی کرتے ہوئے پولینڈ کے 3سفارت کاروں کو ماسکو سے نکال دیا۔ جب کہ امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے روس پر نئی پابندیاں لگانے کے فیصلے کے باوجود واشنگٹن ماسکو کے ساتھ کشیدگی کو مزید بڑھانے کا خواہش مند نہیں ہے۔ وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکا روس کے ساتھ مزید تصادم اور تنازعات کا سلسلہ شروع کرنا نہیں چاہتا۔ صدر بائیڈن نے روس کو امریکا کے جمہوری عمل میں دخل اندازی سے خبردار بھی کیا۔دوسری جانب روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے امریکی پابندیوں پر کہا ہے کہ روس 10 امریکی سفارت کاروں کو ملک سے بے دخل کرے گا۔ روس کئی امریکی حکام پر سفری پابندیاں بھی عائد کرے گا۔روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ اندرونی معاملات میں مداخلت پر امریکی فنڈز اور این جی اوز کی سرگرمیاں بھی ختم کی جائیں گی۔گزشتہ روز امریکی انتخابات 2020 میں مبینہ مداخلت پر امریکا نے روس پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے روس کے 10 سفیروں کو ملک بدر کردیا تھا۔امریکی صدر جو بائیڈن نے روس پر پابندیوں کا ایگزیکٹیو آرڈر جاری کیا تھا۔ ایگزیکٹیو آرڈر کے مطابق امریکی بینکوں کی جانب سے روسی بانڈز کی ٹریڈنگ پر پابندی ہوگی۔ایگزیکٹیو آرڈر کے مطابق امریکی بینک روس کے سینٹرل بینک اور وزارت خزانہ سے بونڈ نہیں خریدسکیں گے۔امریکا نے ملک میں تعینات 10 روسی سفیروں کو ملک بدر اور 32 روسی افراد پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔واضح رہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے رواں ہفتے روسی صدر کو ملاقات کی پیش کش کی تھی۔روسی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ امریکی پابندیوں سے ملاقات کی راہ ہموار نہیں ہوسکتی۔ امریکی اقدامات کا ترکی بہ ترکی جواب دینا ناگزیر ہے۔
یورپ سے سے مزید