بیک چینل کی کیا ضرورت ہے، بھارت 5 اگست کے فیصلے پر نظرثانی اور مذاکرات کرے، شاہ محمود
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بیک چینل کی کیا ضرورت ہے، بھارت 5 اگست کے فیصلے پر نظرثانی اور مذاکرات کرے، شاہ محمود

بھارت 5 اگست کے فیصلے پر نظرثانی اور مذاکرات کرے، شاہ محمود


اسلام آباد(ایجنسیاں)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی باضابطہ بیک چینل رابطہ نہیں،بیک چینل کی ضرورت کیا ہے ‘کشمیر، سرکریک اور پانی کے مسئلے پر آئیں اور میز پر بیٹھ کر بات کریں‘ اگر ہندوستان 5 اگست کے اقدامات پر نظر ثانی کرتا ہے تو ہم بات چیت کیلئے تیار ہیں۔

بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے کوئی ملاقات طے نہیں، پاکستان کبھی مذاکرات سے نہیں بھاگا‘سفارت کاروں کا بھی کڑا احتساب کیا جائے گا اور سعودی عرب میں جن سفارت کاروں کی شکایات ملی ہیں انہیں واپس بلانےکا فیصلہ کیا ہے۔

ایسے سفارت کار نہیں چاہئیں جن کی شکایات موصول ہوں اور کمیونٹی ان سے ناخوش ہو۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے اتوارکو پاکستانی قونصل خانہ دبئی میں پریس کانفرنس اور افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

شاہ محمود قریشی نے اتوار کو متحدہ عرب امارات میں یکم اکتوبر 2021 سے شروع ہونیوالی بین الاقوامی نمائش (ورلڈ ایکسپو 2020 ) کا دورہ کیا۔ وزیر خارجہ نے دوبئی انٹرنیشنل ایکسپو میں قائم پاکستانی پویلین کا دورہ کیا۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ (آج پیر) کو میری متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ سے ملاقات ہو گی‘بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے پردیگر جماعتوں سے مشاورت جاری ہے۔

ان کا کہناتھاکہ افغان امن عمل اہم مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے‘ترکی نے بھی اس حوالے سے ایک کانفرنس رکھی ہے۔ہماری خواہش ہو گی کہ طالبان اس کانفرنس میں تشریف لائیں۔ہم خطے میں امن کے خواہاں ہیں۔

اہم خبریں سے مزید