موت کی پیش گوئی کرنا ممکن ہوگیا؟
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایمان صغیر

سائنس داں اس جدید دور میں بیماریوں کی تشخیص کے لیے آسان اور نت نئے طریقے متعارف کروارہے ہیں۔ اس ضمن میں جرمن محققین فالج یا دل کے دورے کے پیشگی انتباہ کے لیے ایک وائر لیسریڈار سسٹم تیار کیا ہے جو چند روز قبل موت کے وقت کی پیش گوئی کرسکتا ہے۔ اگر پانی کے جہاز کے مقام کا تعین، ہوائی جہاز کی اونچائی کا اندازہ اور ہائی وے پر تیز رفتاری سے دوڑنے والی گاڑیوں کو پکڑنے کے لیے ریڈار کا استعمال کیا جا سکتا ہے تو یقیناً اس ٹیکنالوجی کو میڈیکل کے شعبے میں بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

جرمن شہر ہیمبرگ کی ٹیکنیکل یونیورسٹی کے پروفیسر الیگزانڈزکو لپن کے مطابق ریڈیو سینسر طبی معائنے کو زیادہ سے زیادہ آسان ،محفوظ اور موثر بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ الیگزانڈر اور ان کی ٹیم یورپ میں پہلے محققین ہیں جنہوں نے ایسا ریڈار سسٹم تیار کیا ہے۔ جسے طبی معائنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔

ہائی فریکوینسی ٹیکنالوجی انسٹیٹیوٹ میں ان کی ٹیم نے انتہائی حساس سینسرز تیار کیے ہیں۔ ان سے مریضوں کی دل کی دھڑکن اور سانس دونوں کا مسلسل تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔ وائرلس کے بغیر وائٹلزکی جانچ الیکٹرو کاڈیو گرام (ای سی جی) کے ساتھ ساتھ دل کی دھڑکن کا تعین الیکٹروڈز اور کیبلز کی مدد سے کیا جاتا ہے۔ یہ مریضوں کا معائنہ کرنے والے آلات سے جُڑے ہوتے ہیں۔ ریڈار ٹیکنالوجی کے ساتھ مانیٹرنگ ریموٹ اور بغیر کسی رابطے کے ممکن ہوتی ہے۔

پروفیسر الیگزانڈر کولپن کا مزید کہنا ہے کہ ہمارے سینسرز برقی مقناطیسی لہروں کا اخراج کرتے ہیں، اس سے جسم میں ریفلیکشن پیدا ہوتی ہے۔ یعنی شریانوں میں بہنے والا خون پلس یا لہروں کی طرح گردش کرتا ہے، جو وائبریشن کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ ہم سینسر سے اس کی پیمائش کرسکتے ہیں اور اس طرح قلبی نظام کے مختلف طبی پہلوؤں کا تعین کرسکتےہیں۔

اب ماہرین اس تحقیقی منصوبے کی تمام تر توجہ بچوں کی طبی نگرانی پر مرکوز ہے۔ جرمن پروفیسر کا کہنا ہےکہ ہم بنیادی طور پر مرگی کے دوروں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ مرگی جس کے پائے جانے کا پتا نہیں ہوتا لیکن یہ بچوں میں ہونے والی بیس فی صد اچانک اموات کی ذمہ دار ہوتی ہے۔

پروفیسر کولپن کے مطابق نو زائیدہ بچوں میں مرگی کی تشخیص نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ بچوں میں دماغی سطح میں تبدیلی ظاہر نہیں ہو سکتی۔ ان کے برین کی موٹر پوری طرح شعوری تبدیلی کی سطح کو نہیں پہنچتی۔ سینسرز کے استعمال سے بچوں کی نقل و حرکت کو محدود کیے بغیر دور سے بھی ان کی نگرانی کی جا سکتی ہے ۔ مرگی کے دورے پڑنے کا پتا لگایا جا سکتا اور اس طرح اس کا بروقت علاج بھی ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کورونا کے مریضوں کے لیے ریڈار ٹیکنالوجی کا استعمال مفید ثابت ہوا ہے ۔اس سے دل اور سانس کی حرکت کی پیمائش کے ساتھ ساتھ ہم درجہ ٔحرارت کی پیمائش بھی کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم ریڈار کے ذریعے کورونا وائرس کے کسی مریض میں انفیکشن کی شدت کا اندازہ لگا سکتے ہیں اور وہ بھی میڈیکل اسٹاف کے مریض کے ساتھ براہ راست رابطے کے بغیر۔ 

اس طرح طبی عملے کے اراکین انفیکشن سے محفوظ رہتے ہیں اورکوروناکے مریض کا معائنہ بھی ہو جاتا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے جو ہارٹ ریڈار سسٹم تیار کیا گیا ہے، اسےجرمن صوبے باویریا کے شہر ارلانگن میں ہسپتال میں اپیلی ئیٹوکئیر وارڈ (palliative) میں استعمال کیا گیا ہے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید