نامور پلے بیک سنگر ’’ناہید اختر‘‘ ان کے گائے ہوئے گیتوں کی وجہ سے کئی فلمیں کامیاب ہوئی
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

نامور پلے بیک سنگر ’’ناہید اختر‘‘ ان کے گائے ہوئے گیتوں کی وجہ سے کئی فلمیں کامیاب ہوئی

سال 1974ء میں گلوکارہ ناہید اختر بہ حیثیت پس پردہ گلوکارہ فلم ’’ننھا فرشتہ‘‘ کے اس گانے سے متعارف ہوئیں ’’دل دیوانہ دل نہ جانے کیوں دھک دھک کرتا ہے‘‘۔ عیدالفطر پر ریلیز ہونے والی ’’ننھا فرشتہ‘‘ سے قبل موسیقار ایم اشرف کی موسیقی سے سجی فلم ’’پھول میرے گلشن کا‘‘ ریلیز ہوئی اور اسی فلم کو ناہید اختر کی ریلیز پہلی فلم کا اعزاز حاصل ہوا۔ انہوں نے اس فلم میں مسرور انور کا لکھا ہوا گیت بڑے رچائو کے ساتھ گایا اور زیبا پر فلمایا گیا ’’کچی گری جیسا روپ تے نین بادامی‘‘ اپنے کیریئر کے اس ابتدائی سال یعنی 1974ء میں انہوں نے عیدالاضحی پہ ریلیز ہونے والی فلم ’’شمع ‘‘ میں موسیقار اشرف کی بنائی ان دھنوں کو بڑی رعنائی سے گا کے دھوم مچادی۔ تسلیم فاضلی نے یہ نغمات لکھے: ’’ایسے موسم میں چپ کیوں ہو کانوں میں رس گھولو‘‘ ’’کسی مہربان نے آکے میری زندگی سجادی‘‘

عمدہ گائیکی کے صلے میں انہوں نے اپنا پہلانگار ایوارڈ حاصل کیا۔ اسی سال انہوں نے وزیرعلی کی فلم ’’معصوم‘‘ میں موسیقار خلیل احمد کی بنائی طرز پہ نامور شاعر احمد فراز کی یہ غزل نہایت خوبی کے ساتھ گائی۔ ’’یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے۔ وہ بت ہے یا خدا دیکھا نہ جائے‘‘۔ ملتان ریڈیو سے ان کی آواز میں جو پہلا گیت ریکارڈ ہوا اُس کے بول تھے۔ ’’ساون رُت نے تجھے پکارا‘‘ اپنی بڑی بہن حمیدہ اختر کے ساتھ انہوں نے ملتان ریڈیو سے بہت سے گیت گائے۔ ان کی آواز 1973ء میں جب نامور لوک گلوکار و موسیقار محمد طفیل نیازی تک پہنچی، تو انہوں نے ناہید اختر کو راول پنڈی اسلام آباد ٹیلی ویژن پر اپنے پروگرام ’’لوک تماشہ‘‘ میں موقع دیا۔ 

دونوں بہنوں نے اس پروگرام میں اتنی عمدہ گائیکی کا مظاہرہ کیا کہ ان میں سے ناہید اختر فلموں تک پہنچی، جب کہ حمیدہ اختر نے اُسی عرصے میں گلوکاری چھوڑ دی۔ ٹیلی ویژن پر ناہید اختر نے ’’لوک تماشہ‘‘ سمیت دیگر موسیقی کے پروگرامز میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ متعدد گیت اور غزلیں انہوں نے ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے لیے گائیں، ان کی گائی ہوئی مرزا غالب کی یہ غزل تو اپنی مثال آپ ہے:’’جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں،خراماں خراماں ارم دیکھتے ہیں‘‘۔ حضرت امیر خسرو کا کلام بھی انہوں نے اتنا گایا کہ شاید ہی ان سے پہلے کسی نے گایا ہو۔ ’’یہ رنگین نوبہار اللہ اللہ اللہ اللہ‘‘۔’’چھاپ تلک سب چھین لینی موسے نیناں ملاکے‘‘۔

جمشید نقوی کی بہ حیثیت ہدایت کار پہلی فلم ’’دیدار‘‘ میں انہوں نے معروف شاعر منیر نیازی کی غزل اثرانگیزی کے ساتھ گائی ’’زندہ رہیں تو کیا ہے، مرجائیں ہم توکیا‘‘ ناہید اختر نے سال 1975ء میں ریلیز ہونے والی ڈائمنڈ جوبلی ہٹ فلم ’’پہچان‘‘ میں نثار بزمی کی بنائی طرز پر مسرور انور کا یہ اصلاحی کلام اس قدر عمدہ گایا کہ اس کی گائیکی کے ملے میں دوسرا نگار ایوارڈ حاصل کیا:

’’اللہ ہی اللہ کیا کرو، دُکھ نہ کسی کو دیا کرو جو دنیا کا مالک ہے نام اُسی کا لیا کرو‘‘۔ معروف ہدایت کار حسن طارق کی فلموں ’’ثریا بھوپالی‘‘ اور ’’دیدار‘‘ میں انہوں نے بالترتیب اے حمید اور ناشاد کی لاجواب دھنوں پر غیر معمولی گیت گائے۔ بالخصوص ثریا بھوپالی میں ان کا گایا حیدر آبادی لب و لہجے میں گیت، ’’تھا یقیں کہ آئے گی یہ راتاں کبھی، اُن سے ہووے گی ملاقاتاں کبھی‘‘۔ اسی طرح ’’دیدار‘‘ کا یہ دو گانا اپنے زمانے کا مقبول دو گانا جس میں مہدی حسن ساتھ ہیں۔

’’ہم نے خود چھیڑ دیا پیار کے افسانے کو،

ہائے کیا کیجیے اس دل کے مچل جانے کو‘‘

انہوں نے اکثر فلمی نغمات تو اس قدر خُوب صورت گائے کہ جیسے انہوں نے گائیکی کی حد کمال کو چھو لیا ہو۔ گو کہ اُن کا عرصہ گائیکی زیادہ طویل تو نہیں رہا، مگر انہوں نے اس عرصے میں بڑی تعداد میں نغمات گائے کہ شاید ہی اُن کی کسی ہم عصر گلوکارہ نے گائے ہوں۔ شادی کے فوراً بعد ہی وہ فلمی گائیکی سے دُور ہو گئیں۔ اب تک کا آخری فلمی گیت انہوں نے سال 1998ء کی ریلیز فلم ’’دل تو پاگل ہے‘‘ کے لیے گایا ہے، جو فلم میں نئی اداکارہ آفرین پر فلمایا گیا ہے۔ 

ناہید اختر نے اُردو کے علاوہ بہت سی پنجابی فلموں کے لیے بھی دل کش گیت گائے ہیں اور سرائیکی، سندھی اور پشتو میں بھی انہوں نے گیت گائے، فلمی صنعت کے نامور موسیقار ان کی موسیقی میں ایک سے بڑھ کے ایک نغمات انہوں نے گائے اور خاص طور سے ایم اشرف، نثار بزمی، ناشاد، اے حمید اور کمال احمد نے ان سے خوب صورت نغمات گوائے کہ جن کی بازگشت اب بھی سنائی دیتی ہے۔ 

بعض گیتوں کے بول کچھ اور ہلا دے ساقیا، ہر غم کو بھلا دے ساقیا (شکار، تسلیم فاضلی، اے حمید)’’کچھ بولیے حضور یہ لب کھولیے حضور‘‘ (اناڑی، تسلیم فاضلی،ایم اشرف) ’’ترستا ہے یہ دل تجھے پیار کر لوں‘‘ (آرزو، سرور انور، ایم اشرف) ’’میں ہو گئی دلدار کی ہونے لگی جنہیں پیار کی‘‘(تیرے میرے سپنے، یونس ہمدم، کمال احمد) ’’او دیکھو مانے نہ دلبر میرا میں ہار گئی ہاتھ جوڑ کے‘‘ (دلہن اک رات کی، تصدق حسین، شاعر سعید گیلانی) ’’لال لال ہونٹوں پر پیا تیرا نام ہے‘‘ (دلنشین، مسرور انور،ایم اشرف)

’’دیکھو دیکھو صنم مہربان ہو گیا‘‘(زینت، تسلیم فاضلی، ناشاد) ’’تت ترو تارا تارا بولے دل کا اک تارا‘‘(محبت زندگی ہے، مسرور انور، ایم اشرف) ’’یہ آج مجھ کو کیا ہوا، عجیب سا سرور ہے‘‘(نوکر، تسلیم فاضلی، ایم اشرف) ’’لکھ دی ہم نے آج کی شام، آپ کی خاطر آپ کے نام‘‘(نیک پروین، ریاض الرحمٰن ساغر، اے حمید) ’’سنو سنو جو تم کہو تمہاری ہر خوشی پہ اپنی جان وار دوں (انوکھی، کلیم عثمانی، ایم اشرف)۔’’دیکھا جو میرا جلوہ تو دل تھام لو گے‘‘ (تلاش، مسرور انور، نثار بزمی)’’جس طرف آنکھ اُٹھائوں تیری تصویراں ہے‘‘ (ثریا بھوپالی، ہمراہ مہدی حسن، سیف الدین سیف، اے حمید) ’’پیار کبھی کرنا نہ کم مر جائے گی، تیری عاشی‘‘ (دیکھا جائے گا، تسلیم فاضلی، ایم اشرف)۔ ’’ڈھونڈتا یہ دل ہے، جسے وہ آشنا تم ہی تو ہو‘‘ (دیوار، شہاب کیرانوی، ایم اشرف) ’’جو تجھے پسند آئے، وہی روپ میں بنالوں‘‘ (سچائی، مسرور انور، نثار بزمی) ’’انداز وہی اپنایا ہے تیرے دل کو پسند جو آجائے‘‘ (سوسائٹی گرل، تسلیم فاضلی، نذیر علی) ’’تو چندا میں چاندنی میں نیّا تو کنارا‘‘(سیاں اناڑی، فیاض ہاشمی، ماسٹر رفیق) ’’یہ اندھیرا ہے زلفوں کا میری آپ کیوں ہیں پریشان حضور‘‘ (طلاق، تسلیم فاضلی، خلیل احمد) ’’بجلی بھری ہے میرے انگ انگ میں جو مجھ کو چُھولے گا‘‘ (کوشش، مسرور انور، ایم اشرف) ’’ہم کو غریب جان کے ایسے نہ دیکھے‘‘ (محبت اور مہنگائی، تسلیم فاضلی، کمال احمد) ’’ساون کے دن آئے بالم جھولا کون جھلائے‘‘ (ناگ اور ناگن، سیف الدین سیف، نثار بزمی) ’’میں بھی شرابی میرا یار بھی شرابی‘‘ (وعدہ، تسلیم فاضلی، کمال احمد)’’ دل توڑ کے مت جائیو برسات کا موسم ہے‘‘ (وقت، تسلیم فاضلی، ناشاد) ’’میرے ہوتے ہوئے تیرے ہونٹوں پر کسی اور کا نام بھی کیوں آئے‘‘(اف یہ بیویاں، تسلیم فاضلی، ایم اشرف)’’تمام عمر تجھے زندگی کا پیار ملے گا خدا کرے یہ خوشی سجھ کو بار بار ملے‘‘ (بھروسہ، قتیل شفائی، اے حمید) ’’کوئی دلبر کوئی قاتل اگر مجھ سا نظر آئے‘‘ (بیگم جان، قتیل شفائی، اے حمید) ’’پیار تو اِک دن ہونا تھا ہونا تھا ہو گیا‘‘(جاسوس، ہمراہ اے نیّر، فیاض ہاشمی، طافو)

ناہید اختر نے شمع اور پہچان کے علاوہ فلم ’’ہم سے ہے زمانہ‘‘ کے لیے بہترین گلوکارہ کا نگار ایوارڈ حاصل کیا۔ انہوں نے پنجابی فلم ’’حق مہر‘‘ کے لیے بہترین گلوکاری کا قومی ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ ان کا گایا ایک ملی نغمہ تو اکثر قومی ایام پر سماعتوں کو گرماتا ہے ’’ہمارا پرچم یہ پیارا پرچم یہ پرچموں میں عظیم پرچم، عطائے ربِ کریم پرچم‘‘ اور شوکت علی کے ساتھ ان کا گایا، یہ ملی نغمہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ ’’اے پیارے لوگو، سجدے میں جا کر مانگو دعا یہ خدا سے‘‘۔ اپنے شوہر آصف علی پوتا کی وفات سے وہ بہت نڈھال اور گم سم سی ہو گئی تھیں، مگر بچوں نے ڈھارس بندھائی اور آہستہ آہستہ وہ رنج و الم کی کیفیت سے باہر نکل آئیں اور اپنے بچوں کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار رہی ہیں۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید