اسلام آباد (انصار عباسی) پنجاب میں ہیومن رائٹس اینڈ مینارٹیز افیئرز نے صوبائی نصابی ٹیکسٹ بورڈ (پی سی ٹی بی) کو ہدایت کی ہے کہ حمد، نعت اور حضور پاک ﷺ کی حیات مبارک سے متعلق سمیت تمام اسلامی مواد اردو، انگریزی وغیرہ جیسے مضامین سے ختم کرکے انہیں صرف اسلامیات کے مضمون تک محدود کیا جائے۔ تاہم، ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ صوبائی ایچ آر ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پی سی ٹی بی کو دی جانے والی ہدایت صوبائی کابینہ کے کسی بھی فیصلے کے بغیر ہی دی گئی ہے۔ پنجاب ایچ آر ڈپارٹمنٹ کے خط میںسپریم کورٹ کو بھی نظرانداز کر دیا ہے کیونکہ عدالت کو ابھی یک رکنی مینارٹی کمیشن کی جانب سے تجویز کردہ تبدیلیوں کے حوالے سے فیصلہ سنانا باقی ہے۔ یکم اپریل 2021ء کے خط میں ہیومن رائٹس اینڈ مینارٹی افیئرز ڈپارٹمنٹ نے پی سی ٹی بی کے مینیجنگ ڈائریکٹر کو ہدایت کی ہے کہ 11؍ نومبر 2020ء کو ہونے والے ایک اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عمل کیا جائے۔ یہ اجلاس یک رکنی کمیشن کی زیر صدارت ہوا تھا۔ پی سی ٹی بی کے ایم ڈی کو فیصلے سے آگاہ کردیا گیا ہے، جس میں لکھا ہے کہ مذہبی مواد کو دیگر مضامین کی کتب سے ختم کیا جائے اور اسے صرف مذہبی تعلیم دینے کیلئے مختص مضامین (اسلامیات / اخلاقیات) تک محدود کیا جائے۔ خط میں مزید لکھا ہے کہ اس فیصلے کی تعمیل سے آگاہ کیا جائے تاکہ یک رکنی کمیشن کے پاس تعمیل کی رپورٹ جمع کرائی جا سکے۔ اس خط کی نقل یک رکنی کمیشن کے ڈائریکٹر، ایڈیشنل چیف سیکریٹری کے پی ایس او، ایس اینڈ جی اے ڈی لاہور اور آئی اینڈ سی کے سیکریٹری کے پی ایس، ایس اینڈ جی اے ڈی کے پاس بھیجی گئی ہیں۔ رابطہ کرنے پر ہیومن رائٹس ڈپارٹمنت کے متعلقہ عہدیدار نے دی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے تصدیق کی کہ پی سی ٹی بی کے ایم ڈی کو ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یک رکنی کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں انہیں یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ایچ آر ڈپارٹمنٹ نے گزشتہ سال نومبر میں یک رکنی کمیشن کے ساتھ ہونے والے اجلاس کا حوالہ دیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کمیشن نے سپریم کورٹ کو 30؍ مارچ 2021ء کو سفارش پیش کی تھی کہ اردو، انگریزی اور معلومات عامہ کی کتب سے اسلامی مواد ہٹا کر اسے صرف اسلامیات کی کتب تک محدود کیا جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ غیر مسلم طلبہ کو اسلامی مواد پڑھنے پر مجبور نہ کیا جا سکے۔ ان متنازع تجاویز پر سپریم کورٹ کو فیصلہ کرنا ابھی باقی ہے، حتیٰ کہ وزارت تعلیم نے وفاقی سطح پر ان تجاویز کو پسند نہیں کیا۔ صرف یہی نہیں پاکستان نیشنل کمیشن فار مینارٹیز نے بھی سپریم کورٹ کے یک رکنی کمیشن سے فاصلہ اختیار کر لیا ہے اور سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی کمیشن کی رپورٹ سے عدم اتفاق کا اظہار کیا ہے۔ این سی ایم نے کہا ہے کہ سنگل نیشنل کریکولم موجودہ حکومت کا خوش آئند اقدام ہے۔ دی نیوز نے منگل کو خبر دی تھی کہ سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دیے گئے یک رکنی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں سپریم کورٹ کو تجویز دی تھی کہ غیر مسلم طلبہ کیلئے لازمی مضامین جیسا کہ اردو، انگریزی اور معلومات عامہ کی کتب سے اسلامی مواد ختم کیا جائے، کمیشن کا اصرار تھا کہ یہ صورتحال آئین کے آرٹیکل 22؍ کی خلاف ورزی ہے۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں تجویز دی تھی کہ یکساں قومی نصاب (سنگل نیشنل کریکولم) میں شامل تمام تر مذکورہ بالا اسلامی مواد خصوصی طور پر اسلامیات یا اسلامک اسٹڈیز کی کتب میں شامل کیا جائے کیونکہ یہ مواد خصوصی طور پر مسلمان طلبہ کیلئے ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنگل نیشنل کریکولم کے تناظر میں دیکھیں تو اسلامی مواد کا اردو اور انگریزی کی کتب میں ہونا ’’مذہبی ہدایت‘‘ دیے جانے میں شمار ہوتا ہے اور کسی بھی غیر مسلم کو یہ مواد پڑھنے کیلئے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ کمیشن نے اقلیتی حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والے کئی اسکالرز اور سرگرم سماجی کارکنوں کے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ لازمی مضامین میں اسلامی مذہبی مواد کا شامل کیا جانا اقلیتی طلبہ کو اسلامی مذہبی تعلیمات حاصل کرنے پر مجبور کرنے کے مترادف ہے۔