حکومت اور کالعدم مذہبی تنظیم کے درمیان مذاکرات: اندرونی کہانی!
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

حکومت اور کالعدم مذہبی تنظیم کے درمیان مذاکرات: اندرونی کہانی!

لاہور نو دنوں تک میدانِ جنگ بنا رہا اور آخر کار سنی علما و مشائخ کی ثالثی کمیٹی کے کوٹ لکھپت جیل میں مذاکرات کے بعد حکومت اور کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے درمیان مفاہمت ہو گئی۔ کوٹ لکھپت جیل میں نو رکنی علما و مشائخ کے وفد نے سنی اتحاد کونسل اور قران بورڈ پنجاب کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا کی سربراہی میں تحریک لبیک کے امیر سعد حسین رضوی سے ملاقات کرکے ان کے مطالبات سنے، حکومت کو پیش کئے جنہیں حکومت نے مان لیا اور دونوں فریقوں میں مصالحت ہو گئی۔ جماعت اہلسنت پاکستان کے مرکزی ناظم علی پیر خالد سلطان جو کوئٹہ سے کئی گھنٹے سفر کے بعد کوٹ لکھپت جیل میں جاری مذاکرات میں شریک ہوئے۔ 

انہوں نے مذاکرات کا احوال سناتے ہوئے کہا کہ حکومت کے ہاتھوں سے معاملات نکل گئے تو وزیراعظم کی اپیل پر صاحبزادہ حامد رضا نے سنی تنظیمات کے نو ارکان پر مشتمل وفد تشکیل دیا، ہمارا حکومت سے پہلا مطالبہ تھا کہ کالعدم تحریک کے امیر سعد حسین رضوی سے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات کا انتطام کیا جائے، ہمیں اندیشہ تھا کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور شدید تکلیف میں مبتلا ہوں گے۔ 

کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ سعد رضوی کو گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جو حالات پیدا ہو گئے ان کے بارے میں کوئی علم ہی نہ تھا۔ انہوں نے ہماری بات کھل کر سنی اور اپنے مطالبات پیش کئے، کالعدم تحریک نے مشاورت کے بعد ایک مذاکراتی ٹیم کا فیصلہ بھی کیا جس میں فاروق الحسن، شفیق امینی سمیت دیگر شامل تھے۔ 

جیل میں مذاکرات کا پہلہ دور مسلسل پانچ گھنٹے جاری رہا، افطاری کے بعد وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کو کالعدم تحریک کے مطالبات کی فہرست مل گئی جو وزیراعظم کو پیش کی گئی، حکومتی مشاورت کے بعد پیر اور منگل کی درمیانی رات سعد حسین رضوی سے جیل میں دوبارہ مذاکرات ہوئے۔

ایک معاہدہ کا مسودہ طے ہوا جسے صاحبزادہ حامد رضا نے وڈیو پیغام کے ذریعے نشر کر دیا، حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے اسلام آباد میں وڈیو پیغام نشر کیا اور تحریک لبیک نے مسجد رحمت اللعالمین اسکیم موڑ ملتان روڈ لاہور میں اپنے ہیڈ کوارٹر کے باہر دھرنا کے شرکا میں معاہدے کا اعلان کر دیا۔ اس معاہدے میں طے ہوا کہ حکومت قومی اسمبلی کا اجلاس جو 22اپریل جمعرات کو ہونا تھا فوری طور پر منگل کو طلب کر کے اس میں حکومت تحفظ ناموس رسالت سے متعلق قرار داد پیش کرے گی جس میں فرانسیسی سفر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ شامل ہو گا۔ 

معاہدہ میں طے ہوا کہ کالعدم تحریک کو محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے فورتھ شیڈول لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے گا، کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن واپس لینے کے لئے تحریک ایک ماہ کے اندر وزیراعظم کو نظر ثانی کی اپیل دائر کرے گی، وزیر اعظم اپیل منظور کریں گے جس کے بعد تحریک کی سیاسی سرگرمیاں بحال ہو جائیں گی، تمام گرفتار رہنمائوں اور کارکنوں کو رہا کر دیا جائے گا۔ تحریک کو دہشت گرد کالعدم تنظیم قرار دینے کے بعد وفاقی حکومت نے جتنے اقدامات اور فیصلوں کا اعلان کیا تمام کی واپسی کا عمل شروع ہو گا۔ 

تحریک لبیک پابندی کا ڈیکلیریشن سپریم کورٹ میں پیش کرنے، الیکشن کمیشن رجسٹریشن منسوخ کرنے، اثاثے منجمد اور قبضے میں لینے، عہدیداروں کے بنک اکائونٹس منجمد کرنے، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک اور اسلحہ لائسنس منسوخ جبکہ زمینوں کی خرید و فروخت پر پابندی سمیت دیگر فیصل بتدریج مسوخ ہو جائیں گے۔ کالعدم تحریک کے رہنماؤں اور علماء کی زبان بندی ختم، عہدیداران مسجد میں تقریریں کر سکیں گے، سوشل میڈیا اکائونٹس کی اجازت اور سائبر کرائم ونگ کی کارروائی بھی ختم اور ٹی وی ریڈیو پر بھی کالعدم تحریک کی سرگرمیاں بھی جاری رہیں گی۔ 

حکومت پنجاب نے ملک بھر کی 85کالعدم تنظیموں کی فہرست جاری کی جن میں کالعدم تحریک سب سے آخری نمبر میں شامل تھی اس کے اخراج کا فیصلہ بھی واپس لینا ہو گا۔ کالعدم تحریک کسی تنظیم، دستور، ضابطے سے محروم ہے، تحریک لاہور میں بنی، چڑھی اور پابندی لگی اور پھر بحال بھی ہو جاے گی۔ اس تحریک کا سیاسی عہد صرف تین سال لیکن دس برسوں سے ناموس رسالت کے نام پر سیاست کر رہی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ تیسر ی سیاسی جماعت تھی جسے کالعدم قرار دیا گیا، ملکی تاریخ میں جن سیاسی جماعتوں کو کالعدم قرار دیا گیا۔ 

اس فہرست میں شیخ مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ، ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) شامل ہیں، اہم بات ہے کہ اہلسنت بریلوی مسلک میں یہ پہلی جماعت ہے جس پر دہشت گردی کے الزام میں پابندی لگائی گئی تھی۔ سعدی حسین رضوی کون ہیں اور ان کی تحریک کیسے پروان چڑھی آئیے اس کا احوال بھی بتاتے ہیں، اہلسنت کے سیاسی اکابرین مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبدالستار نیازی، صاحبزادہ فضل کریم کی اموات کے بعد سیاسی خلا پیدا ہو گیا۔ 

سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی توہین رسالت سے متعلق آئینی شق 295سی میں مبینہ ترمیم کی کاوش پر جب مذہبی جماعتوں نے تنازع کھڑا کیا، جس پر جنوری 2011میں سلمان تاثیر کو ان کے گارڈ ممتاز حسین قادری نے اسلام آباد میں ریسٹورنٹ سے باہر نکلتے ہوئے اپنی سرکاری بندوق سے فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

گزشتہ الیکشن میں تحریک ووٹ بنک کے لحاظ سے پاکستان کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت بن گئی تاہم پنجاب سے کسی نشست پر کامیاب نہ ہو سکی لیکن ن لیگ کے امیدواروں کو زبردست نقصان پہنچا اور تحریک انصاف پنجاب کا سیاسی محاذ جیت کر حکومت سازی میں کامیاب ہو گئی۔گزشتہ سال فرانس میں توہین آمیز خاکوں کے بعد مولانا خادم رضوی نے فیض آباد میں دوبارہ دھرنا دیا۔

حکومت کی جانب سے فرانسیسی سفیر کو واپس بھیجنے کی یقین دہانی پر علامہ خادم رضوی لاہور واپس پہنچ گئے جہاں سینہ میں درد، تیز بخار کے بعد کورونا کی وجہ سے ان کی وفات ہو گئی تاہم اہلخانہ نے کہا کہ ان کی موت دل کے دورہ کی وجہ سےہوئی۔ علامہ خادم رضوی کا جنازہ مینار پاکستان میں پڑھا گیا، اس موقع پر ان کے بیٹے سعد حسین رضوی کو امیر چن لیا گیا، علامہ خادم رضوی کی تدفین ان کے مدرسہ سکیم موڑ لاہور میں ہوئی جہاں مزار بنانے کے بعد سعد رضوی خود سجادہ نشین بن گئے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید