• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا کا اعلان اور مستقبل قریب کا افغانستان

امریکی صدر جوبائیڈن نے افغانستان کے مسئلے پر حال ہی میں یہ اعلان کیا ہے کہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو کے فوجی یکم مئی تک افغانستان نہیں چھوڑیں گے، البتہ گیارہ ستمبر تک تمام فوجیوں کا انخلاء مکمل ہو گا۔ حالانکہ گزشتہ دنوں دوحہ قطر میں امریکا اور طالبان کے مابین مذاکرات میں جو معاہدہ طے پایا تھا اس کے مطابق امریکی اور نیٹو کے فوجی رواں سال یکم مئی تک افغانستان سے چلے جائیں گے۔ 

اب امریکی صدر کے حالیہ بیان کےبعد افغانستان کا مسئلہ ایک بار پھر کشیدہ ہوگیا ہے، کیونکہ دُوسری جانب سے طالبان کے رہنمائوں نے بیان دیا ہے کہ امریکا طے شدہ معاہدہ کے مطابق مئی تک فوجیوں کو واپس بلوا لے ،اس کے بعد وہ کسی غیرملکی فوجی کو برداشت نہیں کریں گے۔ امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلینکن نے حال ہی میں کابل کا مختصر دورہ کیا ہے جس میں خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے صدر اشرف غنی کو نئی صورت حال میں اعتماد میں لیتے ہوئے آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں بریف کیا ہوگا۔ افغان حکومت کو یہ تشویش تو بہت ہے کہ غیرملکی فوجی افغانستان سے جانے کے بعد صورت حال کیا ہو سکتی ہے۔

صدر اشرف غنی نے اپنے حالیہ بیان میں اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ افغان افواج اب اپنے وطن اور اپنی قوم کی سلامتی کے لئے ہر صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے جبکہ بعض اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا نے جو انخلاء کے شیڈول میں چند ماہ کی تبدیلی کی وہ افغان فوجیوں کو مزید تربیت کے لئے کی۔ مگر بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ شیڈول میں اچانک تبدیلی خطّے میں ہونے والی نئی سیاسی دفاعی پیش رفت ہے۔ ان کا اشارہ چین اور ایران کے حالیہ معاہدہ کی طرف ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ چین اور ایران کا حالیہ پچیس سالہ معاہدہ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے لئے گیم چینجر معاہدہ تصوّر کیا جا رہا ہے۔

افغان طالبان رہنمائوں نے امریکی صدر جوبائیڈن کے حالیہ پالیسی بیان پر جو ردعمل ظاہر کر رہے ہیں اس سے ماحول پھر کشیدہ ہو رہا ہے۔ تاہم افغان صدر اشرف غنی نے افغان طالبان کو یقین دلایا ہے کہ ہم اپنے امریکی پارٹنر کے ساتھ فوجی انخلاء کے عمل میں ہرممکن تعاون کریں گے اور اس عمل کو پرامن اور یقینی بنائیں گے۔ صدر اشرف غنی کے اس ٹوئیٹ بیان کے باوجود طالبان رہنما اپنی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ طالبان رہنمائوں کے گروپ کی اکثریت کا کہنا ہے کہ گزشتہ دوحہ قطر معاہدہ کے مطابق مئی تک فوجیوں کا انخلاء یقینی بنایا جائے۔ 

افغانستان کے معاملات پر نظر رکھنے والے سفارت کاروں نے پینٹاگون کے ایک اعلیٰ افسر سے پوچھا کہ افغانستان سے تمام غیرملکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد خدشہ ہے کہ وہاں پھر ماضی کی طرح بدامنی،انتہاپسندی اور گروہ بندیوںکی کشمکش کا راج ہو جائے گا تب کیا ہوگا اس پر امریکی افسر نے کہا کہ امریکا کے پاس جدید ترین ڈرون جہاز ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی ہے جس کی مدد سے افغانستان میں امن قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔ اگر وہاں کوئی بڑی کارروائی ہوئی تو اس کا بھی جواب دے سکتے ہیں۔

امریکی صدر بائیڈن نے حالیہ بیان میں فوجی انخلا کی تاریخ 11ستمبر بتائی ہے۔ اس پر بہت سے حلقوں کو حیرت ہے اور سوال کیا جا رہا ہے کہ اس تاریخ کا انتخاب کیوں کیا گیا ہے جبکہ اسی تاریخ کو القاعدہ نے نیویارک کے ٹریڈ ٹاورز کو نشانہ بنایا تھا اور اس کے فوری بعد افغانستان پر حملے کا اعلان ہوا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ صدر جوبائیڈن جب نائب صدر تھے اور چند برس قبل کابل گئے تھے تب بھی انہوں نے افغانستان میں پائیدار امن کی بات کی تھی اور وہ افغانستان میں غیرملکی فوجیوں کی موجودگی کو بھی پسند نہیں کرتے تھے ان کا موقف یہ رہا کہ افغانستان کی افواج کو اپنے ملک کی حفاظت کرنا چاہئے البتہ افغانستان کو مطلوبہ فوجی امداد ضرور فراہم کی جائے۔ 

صدر جوبائیڈن مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے پر اصرار کرتے رہے۔ اب وہ گیارہ ستمبر کو فوجی انخلاء کو حتمی تاریخ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بیس برس کا وقت بہت ہوتا ہے۔ اس حوالے سے امریکا نے اب تک جو جنگیں لڑی ہیں ان میں سب سے طویل جنگ ہے۔ واقعی بیس برس کی مدت بہت ہوتی ہے۔ اسی بیس برسوں میں امریکی فوجی افسران اور ان کی خفیہ ایجنسیاں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی تو نہیں ہوں گی۔ کچھ نہ کچھ کام کر کے دکھایا ہوگا۔

پھر بیس برسوں میں امریکا نے جو جدید ہتھیار تیار کئے ہوں گے ان غیرجوہری ہتھیاروں کی آزمائشیں بھی کی ہوں گی۔ دُوسرے لفظوں میں ویت نام میں گھنے جنگلوں، کھیتوں اور گھاٹیوں میں جنگ کرنے کا تجربہ حاصل کیا اور پھر افغانستان میں سنگلاخ پہاڑوں، دَرّوں، گھاٹیوں میں جنگ کرنے کا تجربہ حاصل کیا۔ بلاشبہ ہر دو جنگوں ویت نام اور افغانستان میں گوریلا وار اور نیم گوریلا وار میں بہت سے امریکی فوجی کام آئے۔ دُوسری طرف بھی ایسا ہوا۔ دراصل سوچنے کی بات یہ ہے کہ سپر پاورز کو یہ سب کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے ورنہ اس کو سپر پاور کے زمرے میں شمار نہیں کیا جائے گا۔ ویت نام کی جنگ چین، روس اور امریکا کے مابین پراکسی وار تھی۔ 

افغانستان کی جنگ امریکا اور خطّے کے مسلم ممالک کے مابین نیم پراکسی وار تھی۔ اس نقطہ نظر سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر یہ غور کریں کہ ویت نام کی جنگ نے مشرق بعید میں یہاں تک کہ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں سوشلزم اور سوشلسٹ انقلاب کا راستہ روک دیا۔ ویت نام، برمااور انڈونیشیا میں سوشلسٹ انقلابی تحریکیں اُبھریں اور بری طرح کچل دی گئیں۔ لہٰذا افغانستان سے غیرملکی فوجیوں کے مکمل انخلاء کے بعد افغانستان اور خطّے کی صورت حال واضح ہوگی۔ واضح رہے کہ امریکا نے افغانستان میں امریکی فوجی بھیجنے کا فیصلہ یہاں خواتین کے حقوق اور انسانی حقوق کے تحفظ کی خاطر نہیں کیا تھا۔ سپر پاور یا بڑی طاقتوں کے دانت بھی ہاتھی کی مانند ہوتے ہیں۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ غیرملکی فوجیوں کی واپسی کے بعد افغانستان میں تقریباً طاقت کا توازن طالبان کے پلڑے میں آ جائے گا، مگر ایسے میں یہ مسئلہ بھی ہے کہ طالبان ایک گروہ یا ایک خیال طاقت کا نام نہیں ہے۔ یہ مختلف گروہوں میں بٹے ہوتے ہیں، زبان، نسل، مسلک کی تفریق اپنی جگہ بڑی تفریق شمال اور جنوب کی ہے۔ موجودہ افغان حکومت میں اشرف غنی جنوب کے پشتو بیلٹ کی اور عبداللہ عبداللہ شمال میں فارسی بیلٹ کی نمائندگی کرتے ہیں اور دونوں رہنمائوں کے آپس میں شدید اختلاف ہیں۔افغان طالبان کا یہ مشہور جملہ یا محاورہ بہت کچھ سوچنے پر مائل کرتا ہے کہ ’’امریکا کے پاس گھڑی ہے اور ہمارے پاس وقت۔‘‘

طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے ٹوئیٹ پیغام میں کہا کہ جب تک غیرملکی فوجی افغانستان سے چلے نہیں جاتے ہم مذاکرات نہیں کریں گے۔ اس ٹوئیٹ سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی انخلاء کے بعد طالبان مزید بات چیت کے خواہاں ہیں۔ اگر ایسا ہے تو یہ بہت مناسب اور مثبت اقدام ہوگا کیونکہ افغانستان کو گزرے بیس برسوں کی تباہی، بربادی اور انتشار کے بعد تعمیرنو کی فوری ضرورت ہے۔ 

افغان طالبان رہنما اگر غیرملکی فوجیوں کی واپسی کے بعد امریکہ، یورپی یونین، روس، پاکستان، چین اور بھارت سے مدد طلب کرتے ہیں اور پوری توجہ افغانستان میں انفرا اسٹرکچر کی تعمیر، اسکولوں، اسپتالوں کی تعمیر پر خرچ کرتے ہیں تو یہ قوم کی عظیم خدمت ہوگی۔ اس سچائی سے کیسے نظریں چرائی جاسکتی ہیں کہ جنوبی ایشیا اور بالعموم دُنیا میں افغانستان زندگی کے ہر شعبے میں سب سے نچلے پائیدان پر کھڑا ہے۔ 

تعلیم، صحت، خواتین کے حقوق، معیشت، انصاف کی فراہمی، شہری حقوق، امن و امان ان تمام شعبوں میں دن رات کام کر کے افغانستان کو جدید دُنیا کی صف میں کھڑا کرنا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ طالبان میں بعض گروپ اعتدال پسند اور بعض گروپ انتہاپسند مذہبی ہیں۔ ایسے میں بیش تر معاملات پر اتفاق رائے نہیں ہو پاتا۔ طالبان کے جو بھی گروہ ہیں انہیں اپنے ملک اور ملک کے سوا تین کروڑ عوام کے بارے میں آنے والی نسلوں کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ اپنے بارے میں اپنے نظریاتی گروہ کے بارے میں چالیس پچاس برسوں میں دیکھ لیا ہے کہ کیا نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

یورپی یونین نے چند برس قبل یورپی ڈونر کمیٹی برائے افغانستان تشکیل دی ہے جو تقریباً ایک اَرب ڈالر سالانہ کی امداد افغانستان کو فراہم کرتی ہے۔ اس طرح امریکا اور یورپ اب تک افغانستان کو اُنیس اَرب ڈالر کی امداد برائے تعلیم، صحت اور انفرا اسٹرکچر فراہم کر چکے ہیں۔ امریکا یورپی یونین اور دیگر افغان ہمدرد ممالک افغانستان کو مزید امداد دینے کے لئے راضی ہیں بس ان کا مطالبہ ہے کہ ملک میں امن و امان قائم کرو اور ترقیاتی منصوبہ بندی پر کام کرو۔

اگر اب بھی ان حالات میں بعض انتہاپسند عناصر اپنی روش تبدیل کرنے پر راضی نہیں ہوتے ہیں تو پھر کیا کہا جا سکتا ہے۔ دُنیا ان کی مدد کر رہی ہے اورمزید مدد کے لئے تیار ہے۔ پڑوسی ملک پاکستان نے اپنی مالی حیثیت سے زیادہ افغانیوں کی مدد کی، لاکھوں افغان پناہ گزینوں کو ملک میں پناہ دی جس کے نتیجے میں پاکستان کا اعتدال پسند رواں دواں معاشرہ مذہبی انتہا پسندی، ملکی تنگ نظری، اسلحہ کی فراوانی اور منشیات فروشوں کا معاشرہ بن گیا۔ اس حوالے سے اَسّی اور نوّے کی دہائیوں میں جو کچھ ہوا وہ سب پر عیاں ہے۔ 

بعض حلقوں کی رائے میں افغانستان کا مسئلہ مذہبی انتہاپسندی کا ہے بعض رُجعت پسند گروہ ملک کو قرون وسطیٰ کے دور میں لے جانے کے دَرپے ہیں۔ بعض حلقوں کی رائے میں بڑی طاقتیں اور خطّہ کے بعض ممالک یہاں پراکسی وار کو فروغ دے رہے ہیں۔ ان آراء میں کچھ سچائی ہو سکتی ہے مگروہ زیادہ تر خفیہ اداروں کی رپورٹس کے مطابق افغانستان کے مختلف قبائل کے سردار وار لارڈز افغانستان میں پوست کی کاشت، افیون کی پیداوار پھر ہیروئن کی تیاری اور فروخت سے تین سے پانچ ارب ڈالر سالانہ کما رہے ہیں۔

ٹوکیو، ہانگ کانگ، لندن، پیرس، نیویارک، دوبئی، دوحہ اور دیگر بڑے شہروں میں جدید، حلال ریسٹورنٹس، بوتیک شاپس، فرنیچر مارٹ، کارپٹس شاپس شورومز اور دیگر کاروبار ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ افغانستان میں ایک قلیل مگر انتہائی طاقتور طبقہ ملکی سیاست، معاشرت اور مذہبی گروہوں کو یرغمالی یا اپنے سحر میں گھیرے بیٹھا ہے۔ 

اگر افغانستان میں امن قائم ہو جاتا ہے، عوام کو اپنی حکومت منتخب کرنے کا حق مل جاتا ہے تو پھر مفادپرست بااثر گروہ کے مفادات کو زِک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اس لئے امن مذاکرات میں تعطل پیدا کیا جاتا ہے۔ نئی نئی شرطیں ڈالی جاتی ہیں۔ ابھی ترکی میں امن مذاکرات کا شیڈول طے ہو رہا تھا اور ترکی کی حکومت اس کانفرنس کی میزبانی کر رہی تھی مگر طالبان نے وہاں مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔

غیرملکی مبصرین امریکوں سے یہ سوال بار بار پوچھ رہے ہیں کہ صدر بائیڈن نے اچانک افغانستان کے حوالے سے اتنا بڑا فیصلہ کیسے کر لیا۔ امریکی مبصرین ان سوالات پر کہتے ہیں کہ امریکا انخلاء کی بات دس بارہ سال سے کرتا آیا ہے۔ 11ستمبر کو فوجیوں کا مکمل انخلاء ہو جائے گا ایک طرح سے امریکا کا یہ علامتی انخلاء ہے مگر امریکا پوری طرح افغانستان پر نظر رکھے گا۔ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے وہ ہر صورتحال سے نمٹ سکتا ہے۔ دُوسرے یہ کہ اب طالبان کو بھی احساس ہو چکا ہے کہ ان کی ریاست کا اَسّی فیصد سے زائد بجٹ بیرونی امداد سے پورا ہوتا ہے کہ اگر ملک میں پھر بدامنی اور انتہاپسندی کا راج ہوا تو غیرممالک امداد نہیں کریں گے اور افغانستان کو سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 

تاہم امریکی صدر نے فیصلہ صادر کرنے سے قبل افغان حکومت سمیت دیگر اہم ممالک اور فریقین سے بات کر لی ہے۔ امریکا اور روس نے بھارت کو بھی افغانستان کے مسئلے میں شریک کر لیا ہے جس پر پاکستان کے تحفظات ہیں مگر یہ طے ہو چکا ہے۔ البتہ ان ممالک میں پاکستان کی ذمہ داریاں زیادہ ہیں۔ پاکستان ابتدا سے طالبان سے رابطہ میں رہا۔ لاکھوں افغان مہاجرین نے پاکستان میں پناہ حاصل کی۔ پھر تاریخی، علاقائی اور ثقافتی رابطے بھی پرانے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کس طرح اپنی ذمہ داری نبھائے گا یہ دیکھنا ہوگا۔ تمام حالات کا دارومدار طالبان کی آئندہ حکمت عملی پر منحصر ہے۔ بالخصوص افغان خواتین خوفزدہ ہیں۔ عام آدمی بھی غیریقینی حالات کا شکار ہے۔ نوّے کی دہائی کے تجربات سب کے سامنے ہیں۔ پھر جو علاقے فی الفور طالبان کے کنٹرول میں وہاں حالات مخدوش ہیں ان اسباب سے عام آدمی گھبرایا ہوا ہے۔

طالبان کو اصل ذمہ داری نبھانی ہے۔ عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہے۔ عصری تقاضوں کے مطابق پالیسی سازی کرنا ہوگی۔ ہر طبقے کو ریاستی امور میں نمائندگی دینا ہوگی۔ آئین کا احترام کرنا ہوگا۔ افغانستان کو جہادی گروپوں کی حکومت نہیں عوامی حکومت کی ضرورت ہے جو عوام کی نمائندگی کر سکے۔ امن قائم کر سکے اور عوام کی بنیادی ضروریات کو پورا کر سکے۔

افغانستان کا دُنیا کے دس غریب پسماندہ ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں فی کس سالانہ آمدنی صرف چھ سو ڈالر ہے۔ امریکا جو بہتر کر سکتا تھا کر چکا ہے نیم جمہوری حکومت، انتخابات افغان فوجیوں اور سول افسران کی تربیت، مالی امداد، فوجی امداد وغیرہ اب افغانستان کے عوام اور سیاسی و مذہبی رہنمائوں کو اپنا مثبت کردار ادا کر کے دکھانا ہے۔