• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان سمیت دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ملیریا سے بچائو کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ اس بیماری پر قابو پانے کی عالمی کوششوں کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔ اس حوالے سے مختلف تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے جن میں عوام کو ملیریا کے بارے میں آگاہی اور شعور فراہم کیاجاتا ہے۔ 

اس مرض کی درست تشخیص نہ ہونے سے دنیا بھر میں ہر سال 20کروڑ سے زائد جبکہ پاکستان میں 10لاکھ سے زائد افراد ملیریا کا شکار ہوتے ہیں جبکہ ہر سال دنیا میں 4لاکھ افراد اس بیماری کی وجہ سے لقمۂ اجل بن جاتے ہیں، جن میں دو تہائی تعداد 5 سال سے کم عمر بچوں کی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں پھیلنے والی یہ دوسری عام بیماری ہے۔ اسی وجہ سے اس کا شمار ملیریا کے حوالے سے دنیا کے حساس ترین ممالک میں کیا جاتا ہے۔

ملیریا کا پھیلاؤ

ملیریا اینو فلیس (Anopheles) نامی مادہ مچھر کے ذریعے پھیلنے والا متعدی مرض ہے، جس کا جراثیم انسانی جسم میں داخل ہو کر جگر کے خلیوں پر حملہ آور ہوتا ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو مادہ مچھر سے پھیلنے والا ملیریا کسی کی بھی جان لے سکتا ہے۔ ملیریا ایک قسم کے پیراسائٹ ’پلازموڈیم‘ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ 

جب مچھر کاٹتا ہے تو پلازموڈیم انسان کے خون میں شامل ہوجاتا ہے، جو جسم میں ملیریا پھیلنے کا باعث بنتا ہے۔ خون میں شامل ہونے کے بعد یہ جگر کے خلیوں میں پہنچتا ہے، جہاں اس کی تعداد بڑھ کر پھٹ جاتی ہے اور پھر یہ خون کے سرخ خلیات کو ختم کرنے لگتا ہے۔

علاج شروع نہ ہونے تک خون میں پیراسائیٹ کے پھیلنے کا عمل جاری رہتا ہے۔ ویسے تو پلازموڈیم کی 100اقسام ہیں لیکن انسان کو صرف پانچ اقسام ہی متاثر کر سکتی ہیں، جن میں سے دو اقسام زیادہ جان لیوا ہیں۔ پہلا پیراسائٹ جراثیم پلازموڈیم فالسی پیرم (Plasmodium Falciparum) ہے جبکہ دوسرا پلازموڈیم وائیویکس (Plasmodium Vivax)ہے، جو تین سال جگر میں رہ کر انسان کو بار بار ملیریا میں مبتلا کرکے بستر مرگ پر لاسکتا ہے۔ مختلف اقسام کے پیراسائیٹ سے لاحق ہونے والے ملیریا کی پیچیدگیاں بھی مختلف ہوسکتی ہیں۔

ملیریا کی بیماری براہ راست ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل نہیں ہوسکتی۔ تاہم، بیماری سے پاک مچھر اگر ملیریا سے متاثرہ شخص کو کاٹ لے تو اس مچھر میں بھی وہ بیماری آجاتی ہے۔ اس طرح جب وہ کسی دوسرے شخص کو کاٹتا ہے تو ملیریا کے جراثیم اس میں منتقل ہوجاتے ہیں۔ البتہ حمل کے دوران ملیریا سے متاثرہ ماں کے ذریعے اس بیماری کے بچے میں منتقل ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ خون دینے یا استعمال شدہ سرنج کے ذریعے بھی یہ بیماری ایک سے دوسرے شخص کو منتقل ہو سکتی ہے۔

علامات

ملیریا کی ابتدا میں سردی، چھینکیں، بخار، کپکپی، بار بار پسینہ آنا، کمر اور جوڑوں میں درد، سر درد، شدید تھکن، متلی، قے، کھانسی اور نزلے جیسی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ کبھی تو یہ فوری ظاہر ہوجاتی ہیں اور کبھی ان کے ظاہر ہونے میں 48سے 72گھنٹے لگتے ہیں۔ علامات ظاہر ہونے کا دورانیہ پلازموڈیم کی اقسام پر منحصر ہے۔ اس کے علاوہ جِلد پر خارش اور سرخ دھبے بھی ملیریا کی نشانیوں میں شامل ہیں۔ 

ان علامات کے ظاہر ہوتے ہی فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ ملیریا کی بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ مرض جان لیوا ہوسکتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ صفائی ستھرائی کا مناسب خیال رکھنے اور احتیاطی تدابیر اختیارکرنے سے ملیریا سے بچاؤ ممکن ہے۔

حفاظتی تدابیر

٭ نمی والی جگہیں مچھروں کی افزائش کو دعوت دیتی ہیں۔ مچھروں سے حفاظت کے لیے سب سے پہلے پانی کے برتن ڈھانپ کر رکھیں اور جہاں پانی جمع ہو اسے صاف کریں۔ چھوٹی چھوٹی اشیا سے لے کر بڑے بڑے ڈرموں میں موجود پانی کا ذخیرہ مچھروں کی افزائش کا ایک بڑا ذریعہ ہوتا ہے۔

٭ صفائی ستھرائی کا مکمل خیال رکھیں اور گھر میں پانی جمع نہ ہونے دیں۔

٭ گھر اور دفاتر میں مچھر مار دوائی کا اسپرے کریں۔

٭ دروازوں، کھڑکیوں اور روشن دانوں پر جالی لگائیں۔

٭ ملیریا سے بچائو کے لیے ایسی مچھردانی استعمال کریں جو چاروں طرف سے بند ہو۔

٭ سورج نکلنے اور غروب ہونے کے وقت جسم کے کھلے حصوں کو ڈھانپ لیں اور لمبی آستین والی قمیض پہنیں۔

٭ جسم کے کھلے حصوں جیسے بازو اور منہ پر مچھر بھگانے والا لوشن بھی لگایا جاسکتا ہے۔

٭ سیاہ رنگ کے کپڑے پہننے سے گریز کریں اور نہ ہی سیاہ چیزیں پاس رکھیں۔

٭ کمرے میں پنکھا چلائیں تاکہ مچھر بھاگ جائیں۔

٭ ایسی جگہوں پر نہ جائیں جہاں پانی جمع ہو یا جھاڑیاں ہوں کیونکہ وہاں مچھر انڈے دیتے اور منڈلاتے رہتے ہیں۔

٭ چند پودے جیسے لیمن گراس مچھر کی افزائش کی روک تھام کے لیے بہترین سمجھے جاتے ہیں۔

٭ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ملیریا سے سب سے زیادہ بچے،حاملہ خواتین اور ایسے افراد متاثر ہوتے ہیں جن کی قوت مدافعت کم ہوتی ہے، لہٰذا ان کا خصوصی خیال رکھا جائے۔