• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
محمود شام (15اپریل 2021) ’کوئی بھوکا نہ سوئے‘۔ نعرہ یا پائیدار منصوبہ؟

آپ نے ایک اہم اور سلگتے ہوئے موضوع پر قلم اٹھایا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انکم سپورٹ پروگرام یا کھانا فراہم کرنے کے منصوبے عوام کی بھوک تو ختم کر سکتے ہیں لیکن ان سے عوام کے حقیقی مسائل ختم نہیں ہوتے بلکہ اس کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے اور پالیسیاں تشکیل دینے کی ضرورت ہےتاکہ ملک سے غربت کے عفریت کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔(عمر فاروق منان، کراچی)

حامد میر (19اپریل 2021) یہ گڈے گڈی کا کھیل

جناب بدقسمتی سے ہمارے ملک کے سیاست دانوں کی سیاست صرف اپنے ذاتی مفادات کے اردگرد گھومتی ہے جس کے باعث ہمارے ملک اور معاشرے کو ہمیشہ اس قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آج پوری قوم کو اس مضر تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ (صابر زمان۔ کوہاٹ)

مظہر عباس (21اپریل 2021) قلم کا مسافر

مظہر صاحب آپ نے بھی قلم کا حق ادا کر دیا۔ آئی اے رحمٰن صاحب پر یوں تو بہت سے مضامین پڑھنے کو ملے مگر ان کی جدوجہد کو جس ڈھنگ سے آپ نے بیان کیا ہے‘ اس کی تعریف نہ کرنا سراسر زیادتی ہو گی۔(قلب عباس، لاہور)

یاسر پیرزادہ (18اپریل 2021) ہماری اموات اتر پردیش سے زیادہ کیوں ہیں؟

جناب جہاں تک مجھے لگتا ہے‘ہمارے ہسپتالوں میں میڈیکل کیئر اچھی نہ ہونے کی وجہ بھی شرح اموات میں زیادتی کا باعث ہے۔ پورے وارڈ میں دو نرسز کی ڈیوٹی ہوتی ہیں‘ وہ کہاں تک مریضوں کی دیکھ بھال کر سکتی ہیں؟ (شاہین محمود)

ارشاد بھٹی (22اپریل2021) کیا لکھوں

جناب بھٹی صاحب یہ بات نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ عوام مشکل میں ہیں۔ اگر حکومت مہنگائی کم کر لے تو اب تک کی تمام کارگردگی پر یہ کام سبقت لے جائے گا۔ اور عوام کی بحیثیت قوم عزت نفس مجروح ہونے کی بجائے بحال ہو جائیگی ورنہ ہم بحیثیت قوم پستی کی طرف جا رہے ہیں۔ (عبدالشکور۔ وہاڑی)

بلال الرشید (18 اپریل 2021) ورچوئل زندگی

بلال صاحب، آپ نے اس کالم میں معاشرے کی بہترین منظر کشی کی ہے۔ ہماری نوجوان نسل اور بڑے اس موذی مرض کا شکار ہو چکے ہیں اور اب ان کا علاج ناممکن ہے۔ (شاہینہ۔ کراچی)

مظہر برلاس (20 اپریل 2021) حالات کا نوحہ

جناب آپ نے بالکل درست فرمایا ہے۔ پڑھ کر دل کو شدید دکھ ہوا۔ پاکستان کی اس بربادی میں ہمارے حکمرانوں کا کیا اور کتنا کردار ہے؟ اس پر کیا بحث کریں لیکن اس میں ہم عوام کا کتنا کردار ہے‘ یہ نہیں بھولنا چاہیے۔ ( مظہر عتیق)

رضا علی عابدی (23اپریل 2021) کتابیں مر بھی جاتی ہیں

جناب آپ کا کالم دل کو چھو جانے والا تھا، آپ نے جو الفاظ استعمال کیے اور اس کو لمبا چوڑا کرنے کے بجائے مختصر الفاظ میں بہت کچھ بیان کر دیا ہے‘ جناب آپ کے کالمز سے علم کی حفاظت اور لائبریری کی افادیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس یاد دہانی کا بہت شکریہ۔ (راجیش راج۔ شکار پور)

وجاہت مسعود (20اپریل 2021) آئی اے رحمان:سائبان نہ رہا

جناب آپ کا کالم پڑھ کے انتہائی رنج سے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ کوئی شک نہیں کہ ہمارے ملک کا ایک بہترین دماغ رخصت ہو گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت نصیب فرمائے۔ بلاشبہ انسان فانی ہے۔ بس ہمارے سروں پر اللہ کا سائبان ہمیشہ رہے۔ (محمد انور خان)

عمار مسعود (21اپریل 2021) بیٹا ہو تو سلیم صافی جیسا

محترم مسعود صاحب بہت اچھی تحریر، ماں تو ماں ہوتی ہے۔ جناب سلیم صافی انتہائی فرمانبردار بیٹے ہیں۔ ان کی والدہ کی وفات کی خبر سن کر انتہائی دکھ ہوا۔ ﷲ تعالی والدہ مرحومہ کے درجات بلند فرمائیں اور تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے‘ آمین۔ (سید اقبال احمد، کوئٹہ)

سیدہ تحسین عابدی (18اپریل 2021) سیاست اور جمہوریت۔ پی پی پی کی پی ڈی ایم سے علیحدگی

محترمہ میں آپ کے لکھنے کے انداز سے بہت متاثر ہوا لیکن اس سے اتفاق نہیں کرتا، کیونکہ پی ڈی ایم نے ایک نقطے کو حتمی شکل دینے کے لئے بہت سارے مواقع فراہم کیے جو کہ بدعنوانی، خراب معاشی صورتحال کے خلاف کھڑے ہونا ہے۔ لیکن تاریخ کے مطابق پی پی پی سندھ حکومت کی قربانی نہیں دے سکتی۔ (رانا نعیم)