• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ میں آم کی مجموعی پیداوار میں کمی کا خدشہ


آم کی فصل پر بیماری کے حملے کے بعد اس سال سندھ بھر میں آم کی مجموعی پیداوار میں 15 فیصد تک کمی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

سندھ بھر میں مجموعی طور پر 21 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر آم کے باغات موجود ہیں، 30فیصد باغات صرف میرپورخاص ضلع میں ہیں، تاہم ابتدائی دنوں میں ہی باغات پر بیماری کے حملے سے اس بار آم کی مجموعی پیداوار میں 15 فیصد تک کی کمی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

سندھ میں لگ بھگ 154 سے زائد کاشتکار اس لذیز پھل کی کاشت اور پیداوار میں مصروف ہیں، ان میں سے 40 فیصد کاشت کاروں کا تعلق میرپورخاص ضلع سے ہے۔

آم کے یہ کاشتکار اپنے باغات میں لگنے والی بیماری کا اب تک علاج سامنے نہ آنے پر فکرمند ہیں۔

سندھ ہارٹی کلچر ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ذرائع کے مطابق آم کے باغات میں لگنے والی بیماری پر ماہرین کی تحقیق جاری ہے، بہت جلد بیماری کی تدارک سے متعلق پیش رفت اور ہدایات سے کاشتکاروں کو آگاہ کردیا جائے گا۔

خاص رپورٹ سے مزید