• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سرکاری محکموں کی کھینچا تانی ، رنگ روڈ پراجیکٹ سرخ فیتے کا شکار

راولپنڈی(راحت منیر/اپنے رپورٹر سے)باخبر ذرائع کے مطابق سیاسی ہاتھیوں کے ساتھ ساتھ سرکاری محکموں کی کھینچا تانی نے راولپنڈی کے میگا پراجیکٹ رنگ روڈ کو سرخ فیتے کا شکار کردیا ہےاور منصوبہ جس کے سنگ بنیاد رکھنے کی تاریخیں طے کی جارہی تھیں مفادات کی جنگ میں دفن ہوتا جارہا ہے۔جس کا اولین نقصان پی ٹی آئی کی سیاسی کامیابی کو ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق رنگ روڈ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے اپنی انکوائری تقریبا مکمل کرلی ہےاور امکان ہے کہ دس روز گزرنے کے بعد آج کل میں رپورٹ اعلی حکام کو بھجوادی جائے گی۔ذرائع کے مطابق موجودہ کمشنر گلزار حسین شاہ نے بطور پراجیکٹ ڈائریکٹر انکوائری سے قبل ہی رنگ روڈ منصوبہ کیلئے بڈنگ کا عمل منسوخ کردیا تھا۔ذرائع کے مطابق انکوائری میں سابق کمشنر و پراجیکٹ ڈائریکٹر کیپٹن ریٹائرڈ محمد محمود ،لینڈ ایکوزیشن کلکٹر وسیم تابش کا موقف نہیں سنا گیاجبکہ ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر ایم عبداللہ استعفی دے کر جاچکے ہیں۔ سی ایم کی سربراہی میں قائم پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ بورڈ نے ڈاکٹر سلمان شاہ کی قیادت میں قائم پراجیکٹ ریویو کمیٹی کو رنگ روڈ کی بڈنگ اور ریکوسٹ فار پرپوزل کیلئے ہدایت کی تھی جس میں پراجیکٹ ڈایریکٹر سابق کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ محمد محمود شامل نہیں تھے۔اسی بڈنگ پراسیس کو بعد میں منسوخ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق انکوائری میں ایک ہاوسنگ سوسائٹی جس کو انکوائری میں پن پوائنٹ کیا گیا تھا کو چھوڑ کر بڑے اداروں این ایچ اے،سی ڈی اے کے ساتھ ساتھ پراجیکٹ کنسلٹنٹ نے بھی شامل ہونے کے باوجود منصوبہ کو عملی شکل دینے کے طریقہ کار اور عملی پرفارمنس کے حوالے سے منفی رائے دی ہےجس کے بعد اب منصوبہ موجودہ شکل میں برقرار رکھنے اورفوری شروع کرنے کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں۔ذرائع کے مطابق منصوبہ کے حوالے سے سب سے اہم کردار نیسپاک کا بن چکا ہے۔جس کا 2021اور2017کی تجاویز میں اہم حصہ ہے۔ نیسپاک نے انکوائری میں ٹیکنیکل پوائنٹس پر دفاع کیا تاہم قانونی پیچیدگیوں کے حوالے سے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکا۔ایم ایس زیرک نے بھی مخالفت کی ہے۔ جن پوائنٹس پر انکوائری کرائی جارہی ہے ان کا منصوبہ میں سرکاری خزانے کے ساتھ کوئی براہ راست تعلق نہیں جس سے تاثر مل رہا ہے کہ کسی نادیدہ ہاتھ نے منصوبہ کا کریڈٹ پی ٹی آئی حکومت کو ملنے کے خلاف سازش کی ہے۔پی ٹی آئی کے مقامی منتخب ارکان جو منصوبہ کے سنگ بنیاد کی تاریخیں دیتے رہے ہیں اور سیاسی بیان بازیوں میں صف اول میں تھےوہ بھی منصوبہ ٹھپ ہونے پر پراسرار خاموشی کا شکار ہیں۔ بعض ارکان ایسے بھی ہیں جن کو نوازنے کا الزام ہے لیکن وہ بھی چپ بیٹھ کر تماشا دیکھ رہے ہیں مگراس کے برعکس عوام اور کاروباری و تجارتی حلقے پریشانی کا شکار ہیں اور ان کی متفقہ رائے ہے کہ منصوبہ کو دفنادیاگیا ہےجس کا نوٹس وزیر اعظم عمران خان،وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے سنجیدہ حلقوں کو لینا چاہیےاور سیاسی کریڈٹ چھننے والے عناصر کو بے نقاب کرنا چاہیے۔
اسلام آباد سے مزید