• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شام کے صدر بشار الاسد نے حالیہ انتخابات میں94 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کر کے دُنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے ، یہ ان کی چوتھی ٹرم تھی۔ امریکی ذرائع نے ان عام انتخابات کو جعلی اورفراڈ کہہ کر مسترد کر دیا ہے، مگر سچ یہ ہے کہ عام انتخابات کے دُوسرے دن صبح ہی سے دمشق کے پبلک پارک کے اطراف ہزاروں افراد کا ہجوم جمع ہو چکا تھا جو نتیجہ سننے کا منتظر تھا۔ رات گئے جب تک نتیجہ عام ہوا دمشق کی سڑکوں اور گلی کوچوں میں لاکھوں افراد جمع ہوگئےتھے۔ نتیجہ کے اعلان کے بعد ہجوم پرجوش نعرے لگاتا ،رات بھر سڑکوں پر ہی رہا۔

شام کی مجموعی آبادی ایک کروڑ پچھتر لاکھ کے قریب ہے،ان میں 13.5ملین ووٹر رجسٹرڈ ہیں۔ اس عام انتخابات کے وقت شامی میڈیا کے مطابق ووٹرز کا ٹرن آئوٹ غیرمعمولی رہا۔ لگتا تھا ہر رجسٹرڈ ووٹر ووٹ ڈالنے کے لئے بے چین ہے۔ معروف تجزیہ کار، کریم بٹرا کے مطابق سال 2011ء سے شام میں سیاسی بے چینی تھی جو دیکھتے دیکھتے سول وار میں بدل گئی۔ یہ خوفناک سلسلہ 2020ء کے بعد بھی جاری رہا جس میں لاکھوں شامی افراد بے گھر، بے خانماں ہوئے۔ ہزاروں ہلاک ہوگئے۔ شام کا ہر شہر کھنڈر بن کر رہ گیا۔ اس کے باوجود صدر بشارالاسد اور ان کی بعث پارٹی نے عام انتخابات کا سلسلہ ٹوٹنے نہیں دیا۔

شام میں 2011ء کی عرب اسپرنگ نوجوانوں کی تحریک کے بعد سے حالات بگڑتے گئے۔ دیگر عرب ممالک مصر، لیبیا، تیونس اوریمن میں آمرانہ حکومتیں ایک کے بعد ایک ڈھیر ہوگئیں مگر شام میں صدر بشارالاسد نے تحریک کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا۔ شام کے جنوبی شہر ڈیرہ میں طلبہ کا بڑا جلوس نکلا جو صدر بشارالاسد سے استعفے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ جلوس کے شرکاء کو شامی پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔

اس تمام واقعہ کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔ اس وقت سوشل میڈیا ان ممالک میں زیادہ عام نہیں تھا مگر کم عمر طلبہ پر اس بہیمانہ تشدد کو دیکھ کر عوام کی اکثریت گھروں سے نکل آئی اور تقریباً شام کے چھوٹے بڑے سب ہی شدید عوامی احتجاج کی زد میں آ گئے،مگر بشارالاسد کا ایک ہی خیال تھا کہ مظاہرین پر تشدد اور مزید تشدد۔ ایسے میں شام کی افواج کا ایک حصہ بھی بشارالاسد کے مخالفین سے آ ملا۔ اب شامی باغی فوجی، مسلح جہادی گروپ اور احتجاج کرنے والوں نے بشارالاسد کی حکومت کے خلاف شدید احتجاج اور غم و غصہ کا اظہار شروع کر دیا۔ حالات بگڑتے ہی گئے۔ شام میں خانہ جنگی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے القاعدہ، حزب اللہ، داعش اور شیعہ ملیشیا نے بھی اپنے قدم جمانے شروع کر دیئے۔ 

ہر جہادی گروپ کا اپنا ایجنڈا تھا۔ داعش نے اپنی تنظیم بھی منظم کرنا شروع کر دی، مقصد تھا کہ شام کے کسی شہر پر مکمل قبضہ جما کر اسلامی خلافت کا پرچم لہرا دیا جائے۔ حزب اللہ اور شیعہ ملیشیا ایران کی معاونت سے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے تھے۔ القاعدہ اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لئے کوشاں تھی۔ دُوسری طرف امریکہ، برطانیہ، فرانس اور اسرائیل کا مشن تھا کہ کسی طرح سوشلسٹ بعث پارٹی اور اس کے آخری رہنما بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ ہو جائے۔ اس مشن میں مغربی قوتوں کے ساتھ سعودی عرب زیادہ سرگرم تھا۔

2011 ء سے 2015 ء تک کے عرصے میں روس نے تمام صورت حال کا بغور جائزہ لے کر اندازہ کیا اگر روس نے شام میں مداخلت نہ کی تو پھر شام کی بندرگاہ بسطاکیہ کے ساتھ واقع روسی بحری اڈّہ ہاتھ سے نکل جائے گا ،کیونکہ بحیرۂ روم کے اہم ترین خطّے میں روس کے پاس یہ واحد بحری اڈّہ تھا۔ ایسے میں 2015 ء میں روس نے ’’داعش بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے‘‘ کے نعرے کے ساتھ شام میں مداخلت کا آغاز کر دیا، جس پر بیش تر ممالک بھی حیران تھے۔ روسی بمبار طیاروں نے بشارالاسد مخالف قوتوں پر بمباری شروع کر دی۔ روس کی مداخلت نے شام کی خانہ جنگی کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ ایسے میں بھلا ترکی کیسے پیچھے رہ سکتا تھا۔ ترکی نے جواز تلاش کرلیا کہ شام کے شمال مشرقی علاقے میں کردوں نے محاذ آرائی شروع کر دی ہے جس کی وجہ سے شامی آبادی ترکی کی سرحد پر جمع ہو رہی ہے، اس لئے کردوں کی سرکوبی ضروری ہے۔

واضح رہے کہ دُوسری عالمی جنگ کے بعد یورپی استعمار پسند قوتوں نے دیگر اقوام کے ساتھ جو غیرانسانی اقدام روا رکھے تھے ان میں ایک بڑا جرم یہ تھا کہ کردوں کی جرأت اور حریت پسندی سے خوف زدہ ہو کر اس قوم کو کرد ریاست کو چار حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک حصہ ترکی، دُوسرا ایران، تیسرا شام اور چوتھا حصہ عراق کو سونپ دیا۔ ستم ظریفی یہ کہ ان چاروں ممالک نے کردوں کے ساتھ تاحال وہ سلوک روا رکھا ہے جو برطانیہ اور فرانس نے روا رکھا تھا،البتہ ترکی، شام اور عراق میں دو تین کرد تنظیمیں فعال ہیں اور اپنی آزادی کی جدوجہد کرتی رہتی ہیں۔ یہ بھی غور طلب بات ہے کہ سلطان صلاح الدین کرد نے بیت المقدس فتح کر کے مسلمانوں کو دیا تھا۔

شام میں خانہ جنگی تاحال جاری ہے۔ بشارالاسد کی حکومت بھی قائم ہے۔ شام کے بعض قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کے مخالفین اکثر یہ سوچ کر پریشان ہو جاتے ہیں کہ اس پر کس بزرگ کی بلیسنگ ہے کہ یہ ہر مشکل سے نکل آتا ہے اور ہر بار جیت بشارالاسد کی ہوتی ہے۔ مثلاً ان ذرائع کا کہنا ہے کہ حافظ الاسد کی پانچ اولادیں تھیں چار لڑکے اور ایک لڑکی ،چار لڑکوں میں راسل الاسد بڑا لڑکا اور باپ کا جانشین تھا، مگر اچانک ایک کار حادثے میں ہلاک ہوگیا۔ دُوسرا بیٹا بشارالاسد ہے جو حیات ہے صدر بھی ہے۔ 

تیسرا بیٹا ماجدالاسد ذہنی بیماری کا شکار ہو کر جاں بحق ہو گیا۔ چوتھا بیٹا مہرالاسد فوج میں کمانڈر تھا، کہا جاتا ہے بہت طاقتور اور شارٹ ٹمپر افسر تھا۔ دمشق کے قریب بمباری میں زخمی ہو کر بستر کا ہوگیا۔ بشارالاسد صحت مند، ہر حادثہ سے محفوظ اور چوتھی بار بھی صدر بن گیا۔ ضعیف الاعتقاد لوگ اس کی مختلف تاویلیں گھڑتے رہتے ہیں۔ قصہ یہ ہے کہ بشارالاسد ذہین، باخبر اور خود پسند رہنما ہے جو اپنی حفاظت ،صحت ،حکومت کا خیال رکھتا ہے۔

اس کےعلاوہ اہم بات یہ ہے کہ شام میں الواتی قبیلہ جس کی تعداد چودہ فیصد کے قریب ہے،جس سے بشارالاسد کے خاندان کا تعلق ہے، وہ بشارالاسد کی مکمل حمایت کرتے ہیں، دُوسری طرف زیدی شیعہ مسلک کی بڑی آبادی ہے یہ بھی بشارالاسد کی حمایت کرتی ہے۔ فوج کا وفادار دھڑا اور دیگر اسد حامی افرادبھی بشارالاسد کی حمایت کرتے ہیں۔صدر بشارالاسد نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک بہترین ٹیم ترتیب دی تھی جس میں ماہرین معاشیات، تعلیم، صحت عامہ، انتظامیہ کے افراد شامل تھے۔ ان کا مقصد شام کو نئے حالات کے مطابق ترقی کی راہ پر گامزن کر سکیں، مگر اندرونی اور بیرونی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے یہ ٹاسک فورس ناکام رہی۔ 

عرب ریاستوں کے حکمراں اور مغربی رہنما مشرق وسطیٰ میں صدر بشارالاسد کی حکومت کو آخری کانٹا تصوّر کرتے تھے کہ اس کو نکال باہر کریں گے تو پورا خطہ صاف ہو جائے گا۔ دراصل سوشلسٹ بعث پارٹی اور اس کے عرب قوم پرستانہ پروگرام سے سب ہی خائف تھے۔مصر کے جمال عبدالناصر اور عراق کے صدام حسین کےبعد یہ آخری مورچہ تھا جو اسد مخالف عناصر کی آنکھوں میں کھٹکتا رہتا ہے۔ حالانکہ صدر بشارالاسد نے عرب قوم پرستی یا سوشلسٹ پروگرام کے حوالے سے کوئی اہم اقدام نہیں کیا، پھر بھی اطراف کی ریاستیں مخالفت پر آمادہ ہیں۔

بعض عرب تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر اسد ایران اور روس کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔ ان ممالک کو شام کی ترقی سے زیادہ اپنے مفادات ضروری ہیں، خصوصاً ایران نے اپنی جہادی تنظیموں کو شام سمیت، عراق، یمن اور لبنان میں متحرک کر رکھا ہے۔ روس بحیرۂ روم اور مشرق وسطیٰ میں اپنی موجودگی کو اہم تصور کرتا ہے۔ اس طرح شام سال 2011 سے خانہ جنگی اور پراکسی وار کا محور بنا ہوا ہے۔

جہاں تک صدر بشارالاسد کی ذاتی صلاحیتوں کا تعلق ہے ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے میڈیسن میں اعلیٰ سند حاصل کی ہے،پھر وہ شامی فوج میں ڈاکٹر کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ بعدازاں انہیں فوجی کمانڈر کا عہدہ بھی تفویض کیا گیا جو صدر بننے کےبعد ترک کر دیا۔ وہ ایک اچھے طبیب، انتظامی افسر، ذہین شخصیت کے مالک ہیں، البتہ ان کی صاف گوئی کی عادت کو بیش تر لوگ انہیں منہ پھٹ اور گرم دماغ سمجھتے ہیں۔

حال ہی میں اپنی حالیہ فتح پر بشارالاسد نے اپنی ترجیحات کا اعلان کیا تھا اس میں ملکی معیشت کی بحالی کو اولین ترجیح دی ہے، مگر بڑا مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے شام پر مختلف اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ عرب ریاستیں یوں بھی مخالف ہیں، روس کی اپنی اقتصادی حالت بہت کمزور ہے۔ ایران پہلے ہی سے اقتصادی پابندیوں میں جکڑا ہوا ہے۔ ایسے میں شام کی مدد کرنے والوں کی تعداد بہت محدود ہے جبکہ شام کو سب سے پہلے اپنے انفرا اسٹرکچر کو درست کرنے کے لئے کئی بلین ڈالرز کی ضرورت ہوگی، اس کے بعد دیگر شعبہ جات ہیں ان میں بھی بہت بڑی رقم صرف کرنا ہوگی۔ ان حالات میں یہ کیسے ممکن ہے۔ یہ سوال شامی میڈیا میں بھی زیر گردش ہے۔

اقوام متحد اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شروع ہی سے شام کو ہدف تنقید بنا رکھا ہے۔ خصوصاً 2011ء کے بعد شام کو انسانی حقوق کی پامالی میں پہلا بدترین ملک قرار دیا تھا۔ اب بھی یہ مسئلہ باقی ہے۔ اسرائیل اپنا سب سے بڑا دُشمن شام کو تصوّر کرتا ہے۔ یوں بھی اسرائیل نے ماضی کی دو جنگوں میں شام کی گولان پہاڑیوں کے بڑے حصہ پر قبضہ جمایا ہوا ہے۔ 

مشرق وسطیٰ میں حقیقی طور پر اسرائیل کا دُشمن ملک شام ہے۔ باقی عرب ممالک نے اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے، مگر اب شام کے عوام کی بڑی تعداد نے صدر بشارالاسد کو چوتھی بار جو بھاری مینڈیٹ دیا ہے اس کے اثرات نمایاں ہوں گےفی الفور صدر اسد کو نرم گوشہ حاصل ہو چکا ہے مگر دُوسری جانب مغربی طاقتیں ریشہ دوانیوں میں مصروف ہیں۔