• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما و سابق وفاقی فیصل واؤڈا کی دہری شہریت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن آف پاکستان نے درخواست گزاروں کو آئندہ سماعت پر دلائل دینے کا آخری موقع دے دیا۔

الیکشن کمیشن میں سابق وفاقی وزیر فیصل واؤڈا کی دہری شہریت سے متعلق کیس کی ممبر پنجاب الطاف ابراہیم کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔

درخواست گزار رشید اے رضوی کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی وجہ سے الیکشن کمیشن میں پیش نہیں ہوئے جبکہ فیصل واؤڈا کے وکیل اور قادر مندوخیل کا جونیئر وکیل کمیشن میں پیش ہوئے۔

ممبر پنجاب الطاف ابراہیم نے کہا کہ جو شخص ایوانِ زیریں سے ایوانِ بالا چلا گیا تو ضمنی انتخابات پر آنے والا خرچہ کروڑوں کا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون سازی ہونی چاہیئے کہ فیصل واؤڈا کی نشست پر ضمنی انتخابات میں اتنا خرچہ ہوا، کوئی حل نکالا جائے۔

فیصل واؤڈا کے وکیل نے اپنے مؤکل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اتنے دبنگ ہیں اس لیئے انہیں ایوانِ زیریں سے ایوانِ بالان میں لایا گیا، وہ کرپشن کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فیصل واؤڈا نے جھوٹا بیانِ حلفی جمع کرایا، سعدیہ عباسی کو بھی اسی طرح نا اہل کیا گیا۔

الیکشن کمیشن کے پنجاب سے رکن الطاف ابراہیم کا کہنا تھا کہ ہر کیس کی نوعیت الگ ہوتی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سینیٹر فیصل واؤڈا نے اپنی تنخواہ اور سہولتیں جمع نہیں کرائیں۔

فیصل واؤڈا کے وکیل نے کہا کہ درخواست گزار کی جانب سے ہمیں ابھی تک جواب کی کاپی مہیا نہیں کی گئی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کیس کی سماعت 15 جون تک ملتوی کردی۔

قومی خبریں سے مزید