• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیلم بیگم

"میں اپنے الفاظ واپس لیتا / لیتی ہوں۔"ایسے فقرے عموماً سننے کو مل ہی جاتے ہیں۔

کبھی کبھی دورانِ گفتگو ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنے کہے ہوئے الفاظ واپس لینا چاہتا ہے۔۔

کل بھی ایک دوست سے بات کے دوران یہی سننے کو ملا کہ میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں۔ لیکن کیا کہہ دینے سے الفاظ واپس ہوجاتے ہیں؟ کیا ان کا وہ اثر زائل ہو سکتا ہے جو انہوں نے کسی کے ہونٹوں کی گنگناہٹ اور کسی کی سماعت میں ساز بن کر پیدا کیا ہوتا ہے۔ میں نے کہا ،نہیں یہ ممکن نہیں ۔۔ الفاظ تو کبھی واپس ہو ہی نہیں سکتے۔۔ دلیل پیش کی گئی۔۔ کہ اگر یہ ممکن نہ ہوتا تو پہاڑ کیوں الفاظ کو واپس لوٹاتے؟

لیکن پہاڑ الفاظ لوٹاتے ہی کب ہیں۔۔؟ وہ تو صرف بازگشت سُنواتے ہیں۔۔۔ کہ اور سُنو۔۔ سُنو اور محسوس کرو۔۔۔ محسوس کرو اور سوچو کہ تم نے کیا کہہ دیا۔۔ اپنا کہا ہوا جب اپنی ہی سماعتوںسے ٹکراتاہے تو انسان ایک بار سوچتا ضرور ہے کہ میں نے جو کہا وہ درست ہے یا نہیں۔۔ یہی تو زندگی ہے۔۔ ہم جو کہتے ہیں، جو کرتے ہیں،وہ اس دُنیا کے در و دیوار سے ٹکرا کر کبھی نہ کبھی ہماری جانب ضرور لوٹتا ہے، تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم کیا کہتے اور کرتے رہے۔۔ اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ہمیں اپنا احتساب کرنا ہوتا ہے۔

آپ بھی اپنا احتساب کریں۔ بولنے سے پہلے سوچیںکہ میرے کسی لفظ سے کسی کی دل آزاری تو نہیں ہوگی۔