• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اطہر اقبال

آموں کا موسم جب آیا تو باغ میں خوب آم لگے۔ مالی کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ باغ کی دیکھ بھال کرتا، جب پھل آتے تو انہیں توڑکر ایک جگہ جمع کرتا ۔ پھر پیٹیوں میں بھر کر شہر لے جاتاتھا۔باغ میں آموں کے علاوہ دوسرے پھلوں کے بھی درخت تھے جن پر مختلف موسم کے حساب سے پھل لگتے اور مالی انہیں بھی توڑ کر ایک جگہ جمع کرتا اور شہر لے جا کرفروخت کر دیتا۔ آموں کا یہ باغ ایک بہت بڑے زمیندار کا تھا اور مالی اس باغ کی حفاظت، اس کے پیڑ پودوں کی نشو نما اور دیکھ بھال کے کاموں پر مامور تھا۔ 

باغ کے نزدیک ہی کچھ شرارتی بچوں کا گروپ رہتا تھا جن کا لیڈر جمال تھا۔ ایک دن جمال نے اپنے سب شرارتی دوستوں کو جمع کیا اور کہنے لگا ’’دوستوں آم کا موسم ہے اور باغ میں درختوں کی شاخوں پرآم لدے ہوئےہیں کیوں نہ ان آموں کو ہم توڑ کر لے جائیں۔‘‘’’مگر وہ مالی … اس نے دیکھ لیا تو خیر نہیں _’’ ایک دوست نے خدشہ ظاہر کیا۔’’ارے بدھو ہم اس وقت آم توڑیں گے جب مالی گہری نیند سو رہا ہو گا ‘‘ ۔جمال نے کہا اور اس کے دوستوں نے تالیاں بجا کراس کی رائے سے اتفاق کیا۔

ایک دن شام کو جب مالی گہری نیند میں تھا، جمال اور اس کے دوست باغ میں داخل ہوئے۔ ان کے پاس بڑے بڑے ٹوکرے تھے۔ انہوں نے سارے آم توڑلیے اورانہیں ٹوکروں میںبھر کر لے گئے۔ جمال اور اس کے دوستوں کے جانے کے کچھ دیر بعد ہی زمیندار وہاں آنکلا ۔ جب وہ باغ میں پہنچا تواس نے آم کے درختوں پر نظر ڈالی جو پھلوں سے خالی تھے۔اس نے مالی کو تلاش کیاجو ایک درخت کے نیچے خراٹے لے رہا تھا۔ زمیندار نے غصے سے مالی کوجگایا۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اب جواس کی نظر زمیندار اور آم سے خالی درختوں پر پڑی تو وہ بہت ہی گھبرایا۔

’’آم کہاں گئے ؟’’ زمیندار نے غصے سے پوچھا،سرکار …سرکار… مجھے پتہ نہیں ،میں تو بس کچھ دیر کے لئے … سو گیا تھا ۔‘‘ مالی نے گھبراتے ہوئے کہا ۔‘‘ ہوں، میندار نے غصے۔ سے کہا ’’چرانے والے آم چرا کر لے گئے اور تم ’’گھوڑے بیچ کر سوتے رہے ‘‘ ۔مالی بے چارہ کبھی مالک کو دیکھتا اور کبھی آم کے درختوں کو جن پر سے آم غائب ہو چکے تھے۔