• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دِیا خان بلوچ، لاہور

ببلو نے ایک پیارا سا بلا پالا، جس کا نام اُس نے چینٹو رکھا۔ چینٹو بھی ببلو کی طرح گول مٹول سا سفید رنگ کا بلا تھا، جس کی آنکھیں سبز رنگ کی تھیں، گلے میں سبز رنگ کا پٹا اور ساتھ میں سیاہ موتیوں کی مالا۔ چینٹو ،ببلو کے لاڈ پیار سے بہت بگڑ چکا تھا۔اُسے اپنی سفید رنگت پر بہت ناز تھا جس کی وجہ سے وہ بہت مغرور ہوگیا تھا۔ 

ببلو ہر روز اُسے پارک لے کر جاتا اور وہاں اُس کے ساتھ خوب مزے سے کھیلتا۔ چینٹو کبھی تو ببلو سے ہار جاتا لیکن کبھی جیت جاتا۔ ببلو اپنی خوبصورتی کی وجہ سے پارک میں بہت مشہور تھا، پارک میں موجود سب بچوں کی خواہش ہوتی کہ چینٹو اُن کے ساتھ کھیلے لیکن جب بھی کوئی بچہ چینٹو کے قریب آنے کی کوشش کرتا ،وہ غصےسے شور کرنے لگتا۔

ایک بار توچینٹو نے حد کر دی، پارک میں دوڑ کے دوران اُ س نے ایک چھوٹے بچے کو زور سے ٹکر ماری۔ ٹکر لگنے سے بچے کو چوٹ آئی ،چینٹو تو ڈر کر ایک کونے میں چھپ گیا۔ پھرجیسے ہی اُسے ببلو آتا ہوا نظر آیا وہ فوراً اُس کے پاس پہنچ کر اُس کے ارد گرد گھومنے لگا۔ ببلو جانتا تھا کہ چینٹو کی وجہ سے بچے کو چوٹ آئی ہے لیکن وہ چینٹو کو سمجھانے کے بجائے اُسے جلدی سے گھر لے آیا۔دن گزرتے رہے، اب بچوں نے بھی چینٹو کو توجہ دینا کم کر دی۔ اب کوئی بھی چینٹو کے پارک میں آنے پر خوش نہیں ہوتا، بچے اپنے کھیل میں مصروف رہتے۔ 

کچھ دنوں سے اُن کے پارک میں ایک نیا بچہ آرہا تھا جس کا نام عزیر تھا، وہ اپنے ساتھ روئی کے گالوں جیسا بلا لاتا۔ اس کا بلا بہت اچھا تھااُس کا نام جمپی تھا۔ جب کوئی بچہ اسے پیار کرنے اُس کے قریب آتا تو وہ آرام سے اس کے ساتھ لگ کر بیٹھ جاتا۔ اب تو کوئی بھی چینٹو کو اہمیت نہ دیتا۔ جس سے چینٹو اور بھی غصے کا اظہار کرتا۔ وہ بچوں کو ڈرانے کے لیے غرانے لگتا۔ بچے اب اُس سے ڈر نے لگے تھے جہاں چینٹو ہوتا وہاں کوئی بھی بچہ نہ جاتا۔

ایک بار ایسا ہوا کہ چینٹو کو سڑک پار کرنی تھی۔ ببلو نے چینٹو کو سمجھایا تھا کہ وہ اُ س کا انتظار کرے وہ تھوڑی دیرتک واپس آجائے گا، لیکن چینٹو ببلو کی بات کو بھلاکے سڑک کی طرف آگیا۔ پہلے وہ مزے سے یہاں سے وہاں گھومتا رہا، تب تک ہری بتی جلتی رہی اور تیز رفتار گاڑیاں گزر رہی تھیں۔ چینٹو سرخ بتی کے جلنے کا انتظار کرنے لگا۔ چینٹو کو سڑک کے کنارے دیکھ کر کچھ بچے اُس کے پاس آئے اور اُس کی مدد کرنے کی کوشش کی تو اُس نے بچوں کو پنجے مارے، بچے چیختے ہوئے اس سےدور بھاگ گئے۔بچوں کو ڈرا کراُسے بہت مزا آیا، اتنی دیر میں سرخ بتی بجھ چکی تھی اور سبز بتی پھر سے جلنے لگی تھی، لیکن چینٹو نے غور کیے بنا ہی سڑک پار کرنا شروع کر دی۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ سڑک کے درمیان کھڑا تھا، اُس کے آس پاس زور زور سے ہارن بجاتی گاڑیاں گزر رہی تھیں، شور سے گھبرا کر اُس کی سمجھ میںنہ آیا کہ وہ کیا کرے۔ وہ نہ تو آگے بڑھ سکتا تھا اور نہ ہی پیچھے جا سکتا تھا۔تب ہی ایک گاڑی نے اُسے ٹکر ماری اور وہ اُچھل کر سڑک کے کنارے جا گرا۔بے ہوش ہونے سے پہلے اُس نے ببلو کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا تھا۔ببلو اسے اٹھا کر اسپتال لے گیا۔چینٹو کی دائیں ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ پلاسترچڑھنے کے بعدببلو اسے اسپتال سے گھر لے آیا۔ 

ببلو اب بہت اُداس رہنے لگا تھا اب تو وہ چینٹو سے باتیں بھی نہیں کرتا تھا۔ چینٹونے بھی ببلو کا بدلا ہوا رویہ محسوس کر لیا تھا۔ اگلے روز جب ببلو چینٹو کے پاس آیا تو وہ رونے لگا۔ ببلو کو اپنے پیارے سے چینٹو پر بہت پیار آیا اس نے چینٹو کو گلے لگا لیا۔ ببلو سوچ رہا تھا کہ اگر میں نے چینٹو کو سمجھایا ہوتا اور اسے بگاڑا نہ ہوتا توآج ہم دونوں پارک میںیوں اکیلے نہ ہوتے۔باقی سارے بچے تو پارک میں دانیال کے ساتھ بہت خوش ہیں، بس ہم دونوں ہی۔۔۔ یہ سوچ کر ببلو خود بھی رونے لگا۔ اتنے میں ببلو کے پاس اُن کے مالی بابا آئے اور بتایا کہ ببلو کے دوست آئے ہیں۔ ببلو سوچنے لگا کہ اس کے کس دوست نے آنا تھا جب اُسے کچھ یاد نہ آیا تو وہ باہر آیا۔

باہر آنے پر جو منظر اُ س نے دیکھا ،اسے یقین ہی نہ آیا۔پارک میں کھیلنے والے سارے بچے ہاتھوں میں رنگ برنگے غبارے پکڑے، چینٹو کے لیے Get Well Soon کے کارڈ اُٹھائے کھڑے تھے۔ عزیر کے ساتھ اس کا بلا جمپی بھی آیا تھا۔ یہ سب دیکھ کر ببلو بہت خوش ہوا،وہ اِن سب کو چینٹو کے پاس لے گیا۔

چینٹو کو بھی شدید حیرت ہوئی لیکن سب بچے پیار سے اُس کے بال سہلاتے رہے۔ آج چینٹو نے کسی بھی بچے نہ تو ڈرایا اور نہ نخرے دکھائے۔ کیوں کہ آج اُس کی سمجھ میں آگیا تھا کہ غرور کرنے سے صرف نقصان ہوتا ہے، جب کہ اگر سب کے ساتھ پیار سے رہا جائے تو سب ایک دوسرے کا نہ صرف خیال رکھتے ہیں بلکہ خوش بھی رہتے ہیں۔ جس طرح آج چینٹو اِن سب بچوں کے ساتھ بہت خوش تھا۔