• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تعلیم صحیح معنوں میں خود شناسی ہے

ناخواندہ شخص لازمی نہیں کہ جاہل اور نادان ہو۔جاہل تو وہ ہے جو خود کو نہ پہچانے۔پڑھا لکھا شخص اگر فہم و دانش حاصل کرنے کے لیے محض کتابیات،وسیع معلومات یا مستند احکام کا سہارا لیتا ہے تو وہ محض احمق ہے۔دانش مندی صرف خود شناسی سے حاصل ہوتی ہے جو دراصل نفسیات کے مجموعی عمل سے واقف اور آگاہ ہوجانے کا نام ہے۔پس تعلیم صحیح معنوں میں خود شناسی ہے،کیونکہ ہم میں سے ہر ایک اپنے اندر ساری کائنات کا ذخیرہ جمع کیے ہوئے ہے۔آج کل جسے ہم تعلیم کہتے ہیں وہ تو محض کتابوں سے معلومات اور واقفیت کا اخذ کرنا ہے،جو ہر پڑھا لکھا شخص باآسانی سے کرسکتا ہے۔“ ( کتاب:’’تعلیم اور زندگی کی اہمیت‘‘ سے اقتباس)

کامیابی کے لیے کوئی شارٹ کٹ نہیں

آپ کبھی سیر کرنے نکلیں اور آپ کے پاس دو آپشن ہوں جنگل یا باغ ۔تو یقینا آپ باغ کو ترجیح دیں گے ۔ ایسا کیوں ہے ۔ جب کہ پرندے پودے درخت ہوا سبھی کچھ تو جنگل میں بھی ہے ہاں اگر کچھ نہیں جس کی وجہ سے آپ باغ کو پسند کر رہے ہیں وہ ہے ترتیب اور سلیقہ ۔ زندگی ترتیب اور سلیقے کا نام ہے ۔اسی وجہ سے انسان کی فطرت ہے کہ وہ کسی چیز کی خوبصورتی کا اندازہ اس کی ترتیب سلیقے وضع قطع سے لگاتا ہے ۔ اب ذرا یہ سمجھ لیجیے کہ ترتیب اور سلیقہ کیا ہے۔سب سے پہلے تو اپنی زندگی کے مقاصد کو سمجھیے چاہے وہ روحانی ہوں چاہے ظاہری۔

ہم سب اپنی اپنی جگہ محنت کرتے ہیں، مگر بے ڈھنگی محنت ہمیں زیادہ تھکا دیتی ہے اور معاوضہ کم پاتے ہیں ۔سب سے پہلے منزل کا تعین کیجیے ۔ پھر پلاننگ یعنی منصوبہ بندی کیجیے ۔، ٹائم ٹیبل بنائیے ،وقت ضائع نہ کیجیے ۔عجز و انکساری سے کام کیجیے ،اپنے کام میں ناغہ مت کیجیے ، اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے ہر کام ہر عمل کو شوق سے کیجیے ،دوسروں کی باتوں کو دل پر مت لیجیے ،البتہ اس میدان میں تجربہ کار بزرگوں کی نصیحت کو ضائع مت کیجیے ۔ آپ نے اپنے راہ کے جنگل کو خود باغ بنانا ہے اللہ نے آپ کو بہت سی صلاحیتوں سے نوازا ہے بہت سی نعمتیں عطا کی ہیں بس انہیں ترتیب اور سلیقے سے استعمال میں لانا ہے ۔

یاد رکھیے گا ہر بہتر میں بہترین کی گنجائش ہمیشہ موجودہ رہتی ہے۔ اپنی محنت کے معاوضے کے بہترین اور پہلے حقدار آپ خود ہیں نوجوان نسل کو باور کروانے کی ضرورت ہے کہ کامیابی و کامرانی محنت کے بغیر ممکن نہیں۔ نوجوان بھی محنت اوروقت کی قدر و قیمت کو نصب العین بنائیں گے۔کامیابی اور عظمت کے لیے کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ محنت اور محنت کا اصول ہی منزل مراد کی کلید ہے۔ (ڈاکٹر محمد اعظم رضا کی کتاب کامیاب زندگی سے اقتباس)

مستقبل کے امتحانی سوالات

‏:۔ پاکستان کے کسی ایک ایسے ادارے کا نام بتائیں جہاں میرٹ پر کام ہوتے ہوں؟

:- ایسے تین اداروں کے نام بتائیں جنہوں نے گزشتہ سال رشوت ستانی میں بالترتیب اوّل، دوئم، سوئم پوزیشنز حاصل کی ہوں ؟

:- پاکستان میں آخری بار کب شفاف الیکش ہوئے تھے ؟

:- آرٹی ایس کیسے فیل ہوتا ہے ؟؟

:- ایٹم بم کے فوائد اور تعلیمی اداروں کے نقصانات بیان کریں؟

:- تعلیم اور صحت کا بجٹ کم رکھنے کے فوائد بیان کریں ؟

:- سیاستدانوں کو کرپٹ ثابت کرنے کے پندرہ طریقے بیان کریں ؟

نوٹ تمام سوالات کے نمبر مساوی ہوں گے