• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ جوان ہیں، حوصلے بلند، ہمت مضبوط اور توانا ہیں۔ بازوئوں میں قوت، آنکھوں میں چمک ہے،تو اپنے راستے کی ہر ٹھوکر مار کر آگے بڑھ سکتے ہیں۔اپنا راستہ خود متعین کر سکتے ہیں۔ اس عمر میں ناقابل یقین کارنامے کرنے کی صلاحتیں عروج پر ہوتی ہیں۔ لہٰذا وقت کی قدر و قیمت سے آگاہ ہونا اور اسے بہتر طریقے سے استعمال کرنا ہی کسی فرد یا قوم کی ترقی کا پیمانہ ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ نسلِ نو انتھک محنت اور کاوشوںسے ملک و قوم کی ترقی اور خوش حالی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ 

تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت روز روشن کی مانند ہم پر عیاں ہو جاتی ہے کہ نوجوانوں ہی نے قوموں کی ڈوبتی ہوئی نائو کو بچانے کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ آج پاکستان کو قائم ہوئے نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن وطن عزیز کی ترقی میں من حیث القوم ہمارا کردار ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ 

عوام آزادی کے ثمرات سے آج تک فیض یاب نہیں ہو سکے۔ قوم کو شاہراہ ترقی پر گامزن کرنے کے لئے ایک مرتبہ پھر نوجوانوں کو تحریک پاکستان جیسے جذبے اور جاں فشانی سے کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس بات میں کچھ شک نہیں ہے کہ ہمارے نوجوانوں نے پوری دنیا کو اپنی خداداد صلاحیتوں اور بے پناہ ذہانت سے متاثر کیا ہے ۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ شمع جب تک خود نہ جلے اجالا نہیں ہوتا۔ اگر نوجوان قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیں تو تعمیر ملت کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ عبور ہو سکتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ نوجوان جس کام کا بیڑہ اٹھاتے ہیں اس کو پایۂ تکمیل تک پہنچا کر ہی دم لیتے ہیں۔ جہالت کی مخالفت کر کے علم کو عام کرنے کی سعی کرنی ہو گی۔ اپنے کانوں سے موسیقی کی دھن کا نام و نشان مٹا کر قوم کے درد کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کرنا ہو گا۔ اس بات کو تسلیم کرنا ہو گا کہ ہم اکیلے کچھ بھی نہیں قوم ہے تو ہم ہیں۔ 

کل کو سنوارنے کے لئے آج کو بہتر بنانا ہے۔ کھیل کا میدان ہو یا صحافت کا شعبہ، سیاست ہو یا علمی معرکے، فنون لطیفہ کا میدان ہویا دیگر شعبے سب میں نوجوانوں کی شمولیت ضروری ہے۔ نوجوانوں کو اگر قوم کی اکائی کہا جائے تو بے جانہ ہو گا۔ یہ نوجوان ہی ہیں جو مختلف علوم و فنون میں دوسرے ممالک کے نوجوانوں کا مقابلہ کر کے اپنے ملک کی تعمیر میں حصہ لیتے ہیں۔ وہ بے حساب صلاحیتوںکے مالک ہوتے ہیں، مگر جب تک ان کی صلاحیتوں کو صحیح راہ پر گامزن نہیں کیا جاتا ان کی طاقت کسی کام نہیں آتی۔ باکردار اور بہتر تعلیم و تربیت سے مزین نوجوان ہی قوموں کی ترقی کا زینہ ثابت ہوتےہیں۔ 

با ہمت، باشعور ، متحرک، پر جوش اور پر مغز نوجوان ہی اپنی قوم کی بہتر رہنمائی کرکے اس کو منزل مقصود تک پہنچا سکتے ہیں۔ وہ اقوام خوش نصیب ہوتی ہیں جنکے نوجوان فولادی ہمت اور بلند عزم واستقلال سے سرفرازہوتے ہیں۔باشعور نوجوان ہی شعور یافتہ معاشرے کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اُن میں احساس ذمہ داری ہی معاشرے کی ترقی میں بنیادی حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ وہ اقوام آگے بڑھتی ہیں جن کے نوجوان جہد مسلسل کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ محنت کے سمندر میں غوطہ زن ہو کر ہی کامیابی کے لعل و گوہر کو پایا جا سکتا ہے۔ عزم و ہمت کے صحرا میں آبلہ پائی کرنے سے ہی کامیابی کے نخلستان تک رسائی مل سکتی ہے۔ 

جستجو کے میدان میں خیمہ زن ہو کر ہی سر بلندی کے راز کو پایا جا سکتا ہے۔ نوجوان نسل کو غربت کے خاتمے اور تعلیم کی افادیت کے حوالے سے خصوصی ٹاسک دے کر ملک کو ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان نے ترقی کے فروغ اور آبادی کی بہبود کے حوالے سے عالمی سطح پر نوجوانوں کی ہی وجہ سے اپنا لوہا منوایا ہے۔ اگر کھیلوں کے میدان کی بات کی جائے تو ایک طویل عرصے تک اسکوائش کے کورٹس میں پاکستانی نوجوانوں کا نام گونجتا رہا۔ اسی طرح کرکٹ، اسنوکر اور دیگر کھیلوں میں نوجوانوں نے بہترین کھیل پیش کر کے دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔

ترقی کی بات کی جائے تو پاکستانی نوجوان کمپیوٹر سافٹ ویر کے میدان میں نت نئی تھیوریز پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ الغرض ہر شعبہ میں پاکستانی نوجوانوں نے اپنا لوہا منوایااور ملک میں امن قائم کرنے کے لئے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالا ۔ ان قابل فخر نوجوانوں میں ملالہ یوسف زئی، اعتزاز حسن شہید، علی معین نوازش، ارفع کریم، اور دیگر قابل ذکر ہیں۔ نوجوان کچھ کر دکھانے کی صلاحیتوں سے لبریز ہونے کے ساتھ اپنی غلطیوں سے سیکھنا بھی جانتے ہیں۔ ان کے فکر و آگاہی سے مزین مثبت اقدامات کا ردعمل قوم کی موثرتعمیر ہے۔ اگر نوجوانوں کی زندگی سے ہدف مٹ جائیں تو زندگی رائیگاں، اور دلچسپی کے امور ناتمام ہو جائیں۔ 

وقت قیمتی ترین چیز ہے۔ اسی وقت میں ہر نوجوان اپنی امنگوں کے بیج بو کر اپنے اہداف حاصل کرتا ہے۔ آج ہمارا معاشرہ جمود کا شکار نظر آتا ہے۔ نوجوان بیگانگی او ربیزاری کا شکار نظر آتےہیں۔ ان میں فولادی عزائم کا فقدان نظر آتا ہے۔ ان کی اجتماعی سوچ پر انفرادی سوچ غالب اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کی سکت نظر نہیں آتی ہے اور نہ ہی آگے بڑھنے کی لگن اور حوصلہ دکھائی دیتا ہے۔ منشیات کی لت اور بیروزگاری نے نوجوانوں کو حالات کے رحم وکرم پر لا کھڑا کیا ہے۔ احساس کمتری کا شکار نوجوانوں میں احساس ذمہ داری کا فقدان نظر آتا ہے۔ 

اگر نوجوان عیش پرستی، بے راہ روی، گمراہی اور بغاوت کے علمبرداری بن جائیں تو غلامی کی طویل زنجیریں ان کے گلے کا طوق بن جائیں اور غلامی اس قوم کا مقدر جس کے آنگن میں ایسے بے حس نوجوان پلتے ہوں۔ نوجوانوں کی تربیت کے اہم عناصر میں خاندان کو سب سے زیادہ فوقیت حاصل ہے جن میں والدین کی حیثیت کلیدی ہوتی ہے۔ خاندان کی تربیت کا اثر افراد پر زندگی بھر رہتا ہے۔ اگر خاندان اپنا کام بخوبی انجام دیں تو معاشرے کو سلجھے ہوئے با کردار افراد میسر آسکیں گے، جو کسی بھی معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خاندان کے بعد اہم کردار تعلیم اداروں کا ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں زیادہ تر تعلیمی اداروں میں تربیت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ 

وہ تعلیم و تربیت سے زیادہ وقت گزارنے اور پیسہ کمانے میں مصروف عمل ہیں۔ جہاں پر چند گھنٹے گزارنے کے بعد بچہ چند رٹائے ہوئے اسباق کے ساتھ گھر کی راہ لیتا ہے۔ استاد اور شاگرد کا وہ مثالی رشتہ بھی اب ناپید ہو چکا ہے۔ نہ استاد اپنی ذمہ داریوں کو نیک نیتی سے نبھانے کو تیار اور نہ ہی شادگر اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کےتمنی اس کےعلاوہ۔ معاشرے کی ترقی اور نوجوانوں کی تربیت میں سیاسی اور سماجی تنظیموں کا کردار بھی اہمیت کا حامل ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے وہ بھی اپنے فرائض سے غافل نظر آتےہیں۔ صرف اقتدار کا حصول ہی ان کی اولین ہوتاترجیح ہے۔ جب کہ ماضی میں کسی بھی سیاسی اور سماجی تنظیم کی پہلی ترجیح نوجوانوں کی اخلاقی اور علمی تربیت ہوتا تھا لیکن آج یہ تنظیمیں شخصیت پرستی کے سحر میں مبتلا ہو چکی ہیں۔ 

آج نظریے کی نہیں بلکہ شخصیات کی پیروی کی جاتی ہے۔ نوجوانوں کی تربیت اور کردار سازی کو حرز جاں بنا کر ہی ہم معاشرے میں تبدیلی لانے کے اہل ہو سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو متحرک بنا کر ہی تحریک کی ابتدا کی جا سکتی ہے۔ حوصلہ مند اور باصلاحیت نوجوان ہی طوفان کا دھارا تبدیل کر سکتے ہیں۔ جامعات اور دیگر درسگاہوں میں زیر تعلیم نوجوان کسی بھی معاشرے میں باشعور طبقے کے طور پر ذہن میں آتے ہیں اور معاشرے میں ہونےوالی تبدیلیوں پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ 

اگر یہی نوجوان طلبا تعلیمی اور تعمیری سرگرمیوں کے ذریعے معاشرے پر اثر انداز ہوں تو معاشر ہ سماجی، اقتصادی اور معاشرتی امن و توازن برقرار رکھ سکے گا لیکن اگر نوجوان منفی طور پر معاشرے پر اثر انداز ہو ں گےیقیناً معاشرے میں بے یقینی اور انارکی کی فضاہو۔ آج تعلیمی درس گاہوں سے نکلنے والے بعض نوجوان طلباء انتہا پسندی اور شدت پسندی کی طرف مائل ہیں، انتہا پسندی نے ہمارے معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے، افسوسناک امر یہ ہے کہ ان انتہا پسندسوچ کے حامل افراد کی دسترس اب صرف گلی کوچوں تک محدود نہیں رہی بلکہ معاشرے کے پڑھے لکھے اور تعلیم یافتہ لوگوں تک بآسانی رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ 

ان کا نشانہ نوجوان نسل بالخصوص درس گاہوں میں زیر تعلیم طلبا و طالبات ہیں۔ ان تمام واقعات میں تعلیم یافتہ طلباء و طالبات کا ملوث ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اب معاشرے کا باشعور نوجوان طبقہ بھی انتہا پسندی، تخریب کاری، اورشدت پسندی کی جانب مائل ہو رہا ہے۔ شدت پسندوں نے بھی اس کی ترویج کے لئے نوجوانوں، طلباء اور پڑھے لکھے طبقے کا رخ کیا۔ اس کے سدباب کے لئے سب سے بنیادی چیز بہترین تعلیم کا حصول ہے۔ 

بہترین تعلیم کا مطلب مہنگے اور مشہور تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنے وسائل اور استعداد کے مطابق جہاں بھی تعلیم حاصل کریں، وہاں آپ کا ایک ایک لمحہ سیکھنے کے عمل میں استعمال ہو۔تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ کوئی ہنر بھی سیکھنے کی کوشش بھی ضرور کریں۔ نوجوانوں کو اپنی تاریخ سے بھی باخبر اور مستقبل میں کیا ہوتا نظر آ رہا ہے اس سے بھی باخبر رہنا چاہیے۔ اس لیے کہ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ماضی کی غلطیاں کیا تھیں جنہیں اب نہیں دھرانا اور بہتر مستقبل کےلئے موجودہ وسائل اور ایجادات کا کیسے استعمال کرنا ہے۔ 

کتابیں پڑھنے کی عادت ڈالیے۔اچھی اور علمی صحبت تلاش کیجئے، انٹرنیٹ کی سہولت سے مثبت طور پر استفادہ حاصل کیجئے۔ فیس بک، واٹس اپ ،یو ٹیوب یہ سب چیزیں وقت ضائع کرنے کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔ اور ان سے فائدہ بھی اٹھایا جا سکتا ہے لہٰذا ان سے فائدہ اٹھانے والے بنئے۔ نوجوانوں آپ کو اپنے ارد گرد رہنے والے انسانوں اور ان کے مسائل سے بھی باخبر رہنا ہو گا تاکہ ایک دن جب آپ ڈاکٹر، ،جج، وکیل ،صحافی، استاد یا کسی بھی پیشے کی حیثیت میں عملی طور پر مصروف عمل ہوں تو معاشرے میں موجود نسلی ،لسانی اور طبقاتی اونچ نیچ سے بالاتر ہو کر ان ناانصافیوں کو دور کرنے کا باعث بننے والے ہوں۔ 

جس معاشرے میں انصاف ہوتا ہے وہی معاشرہ ترقی کرتا ہے اور پھر اجتماعی طور پر وہ پوری قوم ہی ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہے۔ آپ کو اپنی زندگی میں نظم و ضبط اور اپنے کام میں حسن اور ترتیب بھی ضرور پیدا کرنی ہو گی۔ آپ کتنی ہی محنت سے کوئی کام کریں لیکن اگر اس میں بے ترتیبی ہو گی تو نتیجہ وہ نہیں حاصل ہو گا جو محنت کے بعد حاصل ہونا چاہئے۔ آپ کو اپنی ذات کو بھی ایک اچھے نمونے میں ڈھالنے کی ضرور کوشش کرنی ہو گی۔ گھر کے اندر اور باہر آپ کا اخلاق ایسا ہو کہ لوگ آپ سے خوش ہوں اور آپ کی صحبت میں رہنا پسند کریں۔

قوم کی تعمیر اور آپ کے اخلاق خاص طور پر گھر کے اندر آپ کے اخلاق میں کیا نسبت ہے اس کو اس طرح سمجھئے کہ ایک گھر میں رہنے والے افراد ہی سے تو معاشرہ بنتا ہے اور معاشرے کے افراد مل کر ہی ایک قوم تشکیل دیتے ہیں۔ لہٰذا اس ماحول کو بدلنے کی کوشش کرنی ہے۔ ایک بیٹا یا بیٹی یا بہن یا بھائی کی حیثیت سے اپنے گھر میں،طالب علم اور دوست کی حیثیت سے اپنے گھر میں، اپنے تعلیمی ادارے میں اور اپنے محلے کے افراد کے ساتھ معاملات میں آپ کی ذات لوگوں کےلئے سکون اور خوشی کا باعث ہو، آپ تلخیوں اور غلط فہمیوں کو دور کرنے والے ہوں نہ کہ ان کو بڑھاوا دینے والے۔، اگر ہم میں سےہر شخص خاص طور پر نوجوان اگر اپنی ذات سے اس چیز کی ابتدا کر دیں تو کچھ وقت تو ضرور لگے گا۔ 

لیکن یہ بے سکونی اور جھنجلاہٹ کی فضا ضرور بدلے گی۔ جہد مسلسل و عزم مصمم انسان کو عزم و ارادے کی پختگی عطا کرتے ہیں۔ آج کے مادیت زدہ دور میں پاکستان کو علم و تحقیق اور فکر و آگہی کے میدانوں میں شہواروں کی ضرورت ہے جو اس ملک کی قیادت سنبھال کر دنیائے تحقیق میں،جدت کا علم بلند کریں تاکہ یہ ملک خوبصورت عنوانات کا ایسا گل دستہ بن سکے جس کی خوشبو پاکستان کے کونے کونے میں پھیل جائے۔ ملک و قوم کی اصل دشمن جہالت،بے راہ روی ،عدم برداشت، اور انا ہیں جن کو جڑوں سے اکھاڑ کر شائستگی ،تہذیب اور یگانگت کے بیج بونے ہوں گے، اسی میں ہماری ملی و حدت اور استحکام کے خزانے پوشیدہ ہیں۔ 

اس کے لئے ہماے نوجوانوںکو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔ نصاب تعلیم اور مفکرین کے افکار و نظریات کو شامل کیا جائے تاکہ نوجوان نسل صوفیاء کی امن و محبت کی تعلیمات سے مستفید ہونے کے ساتھ ساتھ گلی گلی محلے صدائے امن و محبت کو عام کرے ،میرٹ کو یقینی بنا کر گراس روٹ لیول پر منجمد ٹیلنٹ کو بھی قومی ترقی کے دھارے میں شامل کیا جائے تاکہ احساس محرومی بھی ختم ہو اور مساوات کی اقدار کی عملی عکاسی ہو سکے۔ قومیں اتحاد،انصاف اور بردباری سے اپنا مقام پیدا کرتی ہیں نہ کہ جہالت سے۔ 

تعلیمی نصاب موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ پاکستان کو مفکرین کی ضرورت ہے جو تخلیق اور ایجادات کر سکیں۔ ہمارے ہاں طبقاتی نظام تعلیم نے معاشرتی تفریق پیدا کر دی ہے، اگر نظام تعلیم یکساں نہ ہو تو سماجی اقدار اور اسلحہ ہے جو اپنی حفاظت خود کرتا ہے۔ تعلیم ہی مضبوط معیشت اور خوشحال پاکستان کی واحد ضمانت ہے، تعلیم سے ہی ہم بیروزگاری ،دہشت گردی اور ناانصافی کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔

ہر نوجوان دائیں بائیں اور پیچھے کی طرف دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا اور ہر ایک کیریئر کو بہتر سے بہتر بنانےکےلئے دن رات ایک کر دیتا ہے۔ وہ سماج میں رہنے والے دوسرے افراد سے ہی کیا وہ تو اپنے بغل میں رہنے والے ہمسائے سے بھی بے گانہ ہے کیوں کہ وہ اس خود ساختہ اصول پر عمل کرتا ہے کہ مجھے اپنے علاوہ کسی اور سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ اور نہ وہ اپنے علاوہ کسی اور کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ 

وہ چاند پر کمندیں ڈالنے کیلئے ہر وقت کوشاں رہتا ہے لیکن اپنے مقصد وجود سے نآاشنا ہے۔وہ قابل ذکر استاد کا حامل تو ہوتا ہے لیکن اس کے اندر دوسروں کے لئے حمایت اور ہمدردی کا جذبہ نہیں ہوتا۔ اندھی کیئریر پرستی ایک نوجوان کو سماج سے الگ تھلگ کر دیتی ہے۔ بہت ضروری ہوتا ہے کہ معاشرے کی اصلاح کےلئے نئی نسل کی اصلاح کی جائے، نوجوان نسل کی تربیت سے معاشرے میں مثبت اثرات مرتب ہوںگے۔اور انہی نوجوانوں میں سے بہت سے ایسے نوجوان بھی ابھر کر سامنے آئیں گے جو مستقبل میں اس معاشرے اور ملک کی رہبری کی ذمہ داری سنبھالیں گے ۔

نوجوان وہ طاقت ہیں جو کسی بھی قوم کے عروج کا باعث بنتی ہے۔وہ آج اگر اپنی زندگیوں کے اندر انقلاب پیدا کر لیں تو انشاء اللہ پوری دنیا میں انقلاب پیدا ہو سکتا ہے۔ علم وعمل، اخلاص،تقویٰ و کردار میں مسلمان جب تک کامل رہے تب تک پوری دنیا پر غالب رہے۔ ایک فرد معاشرے کی اکائی ہے۔ اگر تمام اکائیاں درست ہو جائیں تو معاشرہ درست ہو جائے گا۔ 

یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کو بیدار ہو کر پوری محنت، سنجیدگی، دلجمعی اور دلجوئی سے محنت کرنی اور پورے معاشرے کی اصلاح کےلئے راہ ہموار کرنی چاہئے۔ اپنے اندر تبدیلی لائیں اگر آپ نے معاشرے کو سدھارنے کا ارادہ کر لیا ہے تو خدارا اپنے آپ کو بدل ڈالو، اپنے دلوں میں عشق رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار اور صفات کی شمع روشن کر لو ۔

قوموں کے عروج وزوال کی داستانیں نوجوانوں کے کردار سے مشروط ہوتی ہیں، نوجوان قوموں کی تقدیریں بدل دیتے ہیں، پاکستانی نوجوانوں کو بھی آگے بڑھنا ہو گا۔ ہمارے ملک میں تعلیم کے معیار کو درست کرنے کیلئے نوجوانوں کی بلند حوصلہ اور ایثار پسندی اس سلسلے میں مفید ثابت ہو سکتی ہے کہ وہ غیر تعلیم یافتہ افراد کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کےلئے آگے بڑھیں اور اپنی کاوشوں سے تعلیم کا معیار بلند کریں اور تعلیم بالغاں کے سلسلے میں اپنی صلاحیتوں کو برئوے کار لائیں۔ 

پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ موجودہ ترقی یافتہ دور میں تعلیم اور علم کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں۔ اگر ہم نے تعلیم اور علم کی قدر نہ کی تو زمانہ ہم سے روٹھ جائے گا اور ہم خس و خاشاک کی طرح بحر زندگانی میں بے یارو مددگار بہتے رہیں گے۔ عزت وہی پائیں گے جو زیادہ تعلیم یافتہ ہوں گے۔،پاکستان کے نوجوانوں کو چاہئے کہ اپنے آپ کو پکے مسلمان اور سچے پاکستانی بنائیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومتیں نوجوانوں کی فلاح وبہبود کےلئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں اور اس سلسلے میں موثر پالیسیاں بنائی جائیں۔ ایک واضح خاکہ اور منصوبہ بندی ایسی ہو کہ نوجوان کو اپنی صلاحیتیں استعمال کرتے ہوئے ملک وقوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ معاشرے میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کو روکنے کےلئے تحمل اور برداشت کو فروغ دینے کےلئے نصاب میں اخلاقی ، سماجی اور معاشرتی اقدار کو شامل کر کےطلبا و طالبات کے مابین ایک بھرپور مباحث اور مکالمے کے کلچر کو فروغ دیاجانا چاہیے۔ 

سوک ایجوکیشن اور سماجی علوم کی ترویج، طلبہ میں نصابی سرگرمیوں اور کھیلوں کا فروغ، امن رواداری کے حوالے سے درس گاہوں کی سطح پر کتب بینی کے کلچر کا فروغ، طلبا یونین کا قیام ضروری ہے، یہ اقدامات کسی حد تک معاشرے میں شدت پسندی اور انتہا پسندی پر قابو پا کر نوجوانوں کو پر امن فضا فراہم کی جا سکتی ہے، انہیں دور جدید ے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، بالخصوص انفاریشن ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا ضروری ہے۔