• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

مثبت نتائج کیلئے فیڈریشنز صرف حکومت پر انحصار نہ کریں

مارشل آرٹ میں تائیکوانڈو کا کھیل اس وقت مقبولیت کی عروج پر ہے جس میں شریک کھلاڑی دنیا بھر میں شہرت حاصل کئے ہوئے ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جنوبی کوریا نے بہت محنت سے اس کھیل کو مقبول بنایا اور آج یہ کھیل ایشیا سے نکل کر یورپ اور دیگر بر اعظموں میں بھی لوگوں کی دل چسپی کا مرکز بنا ہوا ہے اس کھیل کی دو فیڈریشن ورلڈ تائیکوانڈو اور انٹر نیشنل تائیکوانڈو فیڈریشن کام کررہی ہے مگر اس کھیل کو ایشین گیمز، یورپین گیمز، اولمپکس گیمز تک رسائی دلانے میں ورلڈ تائیکوانڈو فیڈریشن نے اہم کردار ادا کیا۔ 

پاکستان میں بھی بے شمار کھلاڑی اس کھیل سے وابستہ ہیں پاکستان نے عالمی اور ایشیائی سطح پر میڈلز بھی حاصل کئے مگر حکومتی سر پرستی نہ ہونے سے یہ کھیل اور اس کے کھلاڑی پریشانی کا شکار ہیں ناتجربہ کاری اور سہولتوں کی عدم فراہمی کے باعث پاکستان اردن میں کھیلے گئے اولمپکس کوالیفائی راؤنڈ میں اچھی کار کردگی کا مظاہرہ کرنے کے باوجود اس کے کھلاڑی اپنے سخت جاں حریفوں کے خلاف پوائنٹس کی بنیاد پر ناکام ہونے کی وجہ سے ٹوکیو اولمپکس کا ٹکٹ حاصل نہ کرسکے۔ 

اس حوالے سے پاکستان تائی کوانڈو فیڈریشن کے نائب صدر،ساؤتھ ایشین تائی کوانڈوایسوسی ایشن کے صدر اور ہینکوک کے سی ای او عمر سعید نے جو ٹیم لیڈر کے طور پر ارد ن میں کھیلے گئے اولمپک کوالیفائی راؤنڈ میں کھلاڑیوں کے ساتھ تھے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس کھیل کا بہت زیادہ ٹیلنٹ موجود ہے مگر ہمارے پاس عالمی معیار کی سہولت موجود نہیں ہے کھلاری معاشی طور پر پریشان ہیں جس کی وجہ سے وہ کھیل پر اپنی بھرپور توجہ مرکوز نہیں کر پاتے ہیں۔ 

اردن میں ہارون خان، تیمور سعید، انیلہ عائشہ اسفار اور زویا صابرنے پاکستان کی نمائندگی کی جہاں ہارون خان نے58کے جی میں ایشین نمبر ایک تھائی لینڈ کے رمنارونگ ساویک کے خلاف اچھی فائٹ لڑی اور پوائنٹس پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اس ایونٹ کیلئے کورونا کی وجہ سے ہمارے کھلاڑی بہتر انداز میں ٹریننگ بھی نہیں کرسکے تھے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ہارون خان بہت زیادہ باصلاحیت کھلاڑی ہے ہم اسے مزید گروم کریں گے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ مالی مشکلات کی وجہ سے مستقل طورپر غیر ملکی کوچز پاکستان نہیں بلاسکتے ہیں دوسرے ممالک کی بات کریں تو سعودی عرب کی مثال ہمارے سامنے ہے جس کے کھلاڑی سال کے چھ ماہ برطانیہ میں قومی ٹیم کے ساتھ پریکٹس کرتے ہیں فیڈریشن کے صدر کرنل (ر) وسیم جنجوعہ کی ذاتی کاوشوں سے چھ ماہ کیلئے کورین کوچ ہن سن سو کو بلایا تھا اب بھی اگر حکومت ہمیں غیر ملکی کوچ کی خدمات حاصل کرنے کے لئے مالی مدد کرے تو ہم اپنے کھلاڑیوں کوانٹر نیشنل مقابلوں کے لئے زیادہ بہترطورپر تیار کر سکتے ہیں۔ 

وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہمیں زمین فراہم کریں توپاکستان تائی کوانڈو فیڈریشن انٹرنیشنل معیار کے مطابق مارشل آرٹ اکیڈمی بنانے کے لئے تیار ہے ،پاکستان اسپورٹس بورڈ ،حکومت کے علاوہ بعض ادادرں کو جگہ فراہم کرنے کے لئے خطوط بھی لکھے گئے مگرکوئی رسپانس نہیں ملا، ہماری وفاق سمیت چاروں صوبائی اورگلگت بلتستان کی حکومت سے ایک مرتبہ پھر درخواست ہے کہ وہ ہمیں اکیڈمی کے لئے جگہ فراہم کرے اسے عالمی معیار کی ہم خود بنالیں گے ،دنیا بھر میں فیڈریشنز اب حکومت کے ساتھ ساتھ خود بھی فنڈ کا بندو بست کرتی ہیں۔ 

پاکستان میں بھی فیڈریشنوں میں مار کیٹنگ اور میڈیا کے شعبے کو قائم اور فعال کرنا ہوگا، اسپانسرز موجود ہیں، فیڈریشن اور ان کے درمیان اعتماد کی کمی ہے ،ہم نے اپنے وسائل سے سات رکنی دستے کو اردن بھیجا، تائی کوانڈو فیڈریشن پی ایس ایل کی طرز پر ملک میں تائی کوانڈو کی عالمی لیگ کرانے کا ارادہ رکھتی ہے ، اکتوبر میں ایشین جی لیگ ایونٹ کی میزبانیکریں گے، جس کے لئے پاکستان آرمی نے اپنے تعاون کا یقین دلایا ہے اس ایونٹ میں ایشیائی ممالک بڑی تعداد میں پاکستان آئیں گے، ایونٹ اسلام آباد میں ہوگا اس سے ملک کے حوالے سے دنیا میں مثبت پیغام جائے گا،پاکستان میں صرف چار ادارے تائی کوانڈو کی ٹیمیں ہیں جن میں پاکستان آرمی، پاکستان واپڈا،ائیر فورس اور ایچ ای سی شامل ہیں ریلوے اور نیوی کی ٹیمیں بند ہوچکی ہیں۔

فیڈریشن کوشش کررہی ہے کہ اسپانسرز کی مدد سے مرد اور خواتین کھلاڑیوں کے ساتھ سالانہ بنیاد پر معاہدہ کیا جائے ،کھیلوں کی ترقی کے لئے حکومت، پی او اے اور پی ایس بی کو تمام فیڈریشنوں کے ساتھ ایک پیج پر آنا ہوگا جبکہ فیڈریشنوں کو بھی صرف حکومت پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے ذرائع سے بھی فنڈنگ حاصل کرنا ہوگی،جو فیدریشن میڈلز لارہی ہیں ان کے ساتھ حکومت کو زیادہ تعاون کرنا چاہئے حکومت کی سالانہ گرانٹ پر تو ہم صرف ایک عالمی یا ایشیائی ایونٹ میں بھی ٹیم کو نہیں بھیج سکتے ہیں میں اس بات کے حق میں ہوں کہ دیگر شعبوں کی طرح کھیلوں میں بھی احتساب کا عمل ہونا چاہئے۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید