• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دو روز قبل جب یہ خبر سامنے آئی کہ کینیڈا میں ایک پاکستانی نژادمسلمان خاندان کو ایک کینیڈین شخص نے جان بوجھ کے ٹرک تلے کچل کر اُس خاندان کی تین نسلوں کو ایک دہشت گردانہ حملے میں قتل کر دیا اور 9سالہ فیض کو اسپتال پہنچا دیا تو مجھے میرے کزن خرم، جو کینیڈا میں ہی رہتے ہیں، کا فون آیا، چونکہ میں بھی آج کل کینیڈا میں موجود ہوں، وہ مجھے احتیاط کی تاکید بھی کر رہے تھے اور اِس واقعہ پر افسوس کا اظہار بھی کر رہے تھے۔ خرم نے ایک بڑی دلچسپ بات کی، اُس کا کہنا تھا کہ بلاشبہ اِس واقعہ نے ہم سب کو پریشان کر دیا ہے اور اِس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے لیکن یہاں کمیونٹی میں یہ بات بھی ہو رہی ہے کہ اگر یہ واقعہ کوئی پاکستانی کسی کینیڈین خاندان کے ساتھ کرتا تو ہمارے لئے کتنا زیادہ مشکل وقت آ جاتا۔

یہ وہ سوچ اور خوف ہے جس کے ساتھ 9/11کے بعد سے تمام مسلمان رہ رہے ہیں۔ مسلمانوں کو آج بھی بالخصوص مغربی ممالک میں عموماً شک کی نگاہ سے ہی دیکھا جاتا ہے اور اُن کی پروفائلنگ بھی کی جاتی ہے۔ چاہے ایئرپورٹ پر جانا ہو، ویزا کے لئے اپلائی کرنا ہو یا امیگریشن حکام کے سامنے پیش ہونا ہو، ایک انجانا سا خوف ہر ایک کے دِل میں موجود ہوتا ہے کہ اب کیا ہوگا۔ یہ خوف بھی ہوتا ہے کہ جو اِس بیچارے پاکستانی خاندان کے ساتھ ہوا ہے، کہیں ہمارے ساتھ بھی نہ ہو جائے۔

مغرب یا ترقی یافتہ ممالک میں کینیڈا کی حیثیت اور جگہ تھوڑی مختلف ہے۔ کینیڈا کو ایک ترقی پسند ملک مانا جاتا ہے جہاں پر انسانی حقوق کی بالادستی ہے اور دوسرے ممالک، تہذیب اور مذاہب کے لوگوں کا خوش دِلی سے استقبال کیا جاتا ہے۔ چونکہ یہاں کینیڈا میں امیگرینٹس کی ضرورت بھی ہے اِس لئے باہر سے آنے والوں کو اُس بری نظر سے نہیں دیکھا جاتا جیسا کہ کچھ اور ممالک میں دیکھا جاتا ہے۔ کینیڈا کے لوگ بھی بہت سے مغربی ممالک سے زیادہ کھلے دل کے مالک ہیں اور یہاں نسل پرستی بھی کم پائی جاتی ہے لیکن اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کینیڈا کا اِن معاملات میں رپورٹ کارڈ سو فیصد ہے۔ کینیڈا میں بھی ایک ٹرمپ جیسا وزیراعظم اسٹیفن ہارپر رہ چکا ہے۔ کینیڈا وہ ملک ہے جہاں پر یہاں کے آبائی لوگوں کے ساتھ بھی بہت زیادتیاں ہوئیں، اُن کے بچوں کی لاشیں آج بھی یہاں دفن مل رہی ہے۔ کینیڈا کے صوبے کیوبِک میں ایک مسجد پر فائرنگ بھی ہوئی لیکن کینیڈا اور باقی ممالک میں شاید فرق یہ ہے کہ کینیڈا اپنی غلطیوں اور اپنے ماضی سے چھپتا نہیں، اُن کا سامنا کرتا ہے اور اصلاح کی کوشش بھی۔

کینیڈا کے وزیراعظم نے پارلیمنٹ کے اندر اِس واقعے کو ایک دہشت گردانہ حملہ قرار دیا۔ عمومی طور پر مغرب میں اُنہی واقعات کو دہشت گردی کہا جاتا ہے جن میں مجرم مسلمان ہوتا ہے اور دوسری طرف اگر ایسے ہی کسی واقعے میں مقامی باشندہ ملوث ہو تو اُس کے جرم کو نفرت یا ذہنی مرض کہہ دیا جاتا ہے۔ پھر جب اِس واقعہ کی مذمت میں اُس علاقے کی مسجد کے سامنے ہزاروں لوگ اکٹھے ہوئے تو صوبائی حکومت نے خاص قانون پاس کرکے کورونا کی وبا کے لاک ڈاؤن میں بھی اُس اجتماع کی اجازت دے دی۔ اِس جگہ کینیڈا کی تمام بڑی سیاسی پارٹیوں کے لیڈر بھی اکٹھے ہوئے جن میں وزیراعظم جسٹن ٹروڈو بھی شامل تھے، سب نے تقاریر بھی کیں اور یہ پیغام بھی دیا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

9/11کے بعد سے دنیا میں اسلامو فوبیا اور مسلمانوں سے نفرت پھیلتی گئی لیکن آج ہم ایسی جگہ کیسے پہنچے کہ اب اِس طرح دن دہاڑے دو بچوں، اُن کے والدین اور ان کی دادی کو ایک شخص جان بوجھ کر ٹرک کے نیچے دے دے۔ اس میں ایک بہت اہم کردار نظاماتی اسلامو فوبیا کا بھی ہے جس کے تحت مسلمانوں کو پروفائل کرکے ایئرپورٹ میں الگ لائن میں کھڑا کیا جاتا ہے، ویزا میں زیادہ سیکورٹی چیک کیا جاتا ہے اور مغرب میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جب ایک شخص کوئی دہشت گردانہ حملہ کر دیتا ہے تو اُس کا ملبہ سب مسلمانوں کو اجتماعی طور پر اٹھانا پڑتا ہے۔ آج کوئی یہ تو نہیں کہہ رہا کہ سارے گورے انتہا پسند ہیں یا سارے گورے دہشت گردی کرتے ہیں لیکن مسلمانوں کے معاملے میں رویہ یکسر مختلف ہوتا ہے، جرم کوئی ایک کرتا ہے، سزا سب بھگتتے ہیں۔

دوسری طرف سوشل میڈیا اور فیک نیوز کا بھی شدت پسندی کے اضافے میں بڑا کردار ہے۔ پہلے کسی کو بھی شدت پسندی کی طرف مائل ہونے کے لئے گھر سے باہر نکلنا پڑتا تھا، اب گھر میں بیٹھے ہی، کسی کے اثر میں آئے بغیر ہی لوگ شدت پسندی اور دہشت گردی کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ دنیا میں دہشت گردی واحد وجہ اب صرف مذہبی عقائد ہی نہیں بلکہ یہ کئی اور وجوہات کی بنیاد پر شروع ہو گئی ہے، اس نئی شدت پسندی کے خلاف اقدام کرنا بھی اب ضروری ہوتا جا رہا ہے۔

میں نے شروع میں لکھا تھا کہ کینیڈا باقی مغربی ممالک سے منفرد ہے لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں کہ یہاں اسلامو فوبیا نہیں ہے مگر مسئلے کے موجود ہونے یا نہ ہونے سے زیادہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کا کیا حل نکالا جا رہا ہے؟ جسٹن ٹروڈو نے بھی کل مسجد کے سامنے کھڑے ہو کر کہا کہ اگر کوئی کہتا ہے کہ کینیڈا میں نفرت نہیں ہے تو پھر آج ہم سب یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟ یہاں نفرت کا وجود ہے تو ہم یہاں کھڑے ہیں۔ اس وقت دنیا بالخصوص مغربی ممالک میں ایک تبدیلی کی فضا ہے جہاں اقلیتوں، مختلف نسلوں اور مذاہب کے لوگوں کے حقوق اور انصاف کے لئے آواز بلند ہو رہی ہے اور لوگ اِس آواز کو سن بھی رہے ہیں۔ یہ ایک طویل سفر ہے جس کا آغاز ہوتا نظر آرہا ہے۔ کچھ لوگ اِن اقدامات کے حوالے سے سوشل میڈیا پر تنقید کر رہے ہیں کہ یہ صرف سیاسی اسٹنٹ ہیں لیکن اگر سیاسی اسٹنٹ بھی ہیں تو کچھ نہ ہونے سے اتنا ہونا ہی بہتر ہے۔ اپنے ہاں تو ہم اقلیتوں کے ساتھ پیش آنے والے ایسے واقعات پر سیاسی اسسٹنٹ بھی نہیں کرتے۔ دنیا میں اس وقت کورونا کے ساتھ ساتھ نفرت کی وباء بھی پھیلی ہوئی ہے اور شاید کورونا سے نجات نفرت سے نجات سے آسان ہو۔ نفرت نہ صرف کینیڈا میں ہے بلکہ ہمارے ہاں بھی موجود ہے۔ ہمیں ہر جگہ اِس نفرت کیخلاف کھڑا ہونا پڑے گا ورنہ ہم آہستہ آہستہ اپنی انسانیت کھو دیں گے۔

تازہ ترین