• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

 نبیلہ شہزاد

تاریخ شاہد ہے اور حال اس کا ثبوت کہ جس سمت نوجوان اپنا رخ متعین کر لیتے ہیں حالات کا دائرہ کار بھی اسی طرف موڑ لیتے ہیں، جس فکر کی حمایت میں نوجوان اٹھ جائیں اسے ناکام بنا نہیںسکتا اور جس کے خلاف یہ برسرِ پیکار ہو جائیں، اسے منزل مراد تک کوئی لے جا نہیں سکتا۔ اسی لیے تو دشمن جب کسی قوم کو تباہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو سب سے پہلے وہاں کے نوجوانوں کی نظریاتی حس کو کمزور کر کے انہیں اپنے من پسند تفکرات میںجکڑتا ہے۔ انہیں ان کی روایات وثقافت سے دور کر کے، ترقی و جدیدیت کا جھانسہ دے کر بغاوت کا زہریلا ٹیکہ لگاتا ہے۔ 

اس کام کے لیے دشمن اپنا وقت، پیسہ سب کچھ لگاتا ہے اور جب ان کے دماغوں کو اپنی مٹھی میں لے لیتا ہے تو پھر ان نوجوانوں کے ذریعے حکومتوں کے تخت تک الٹا دیتا ہے۔ جو نوجوان دشمن کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں وہ اپنے ہی ملک و قوم کا نقصان کرکے دشمن کو کامیاب کروا دیتے ہیں۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے نوجوانوں کو شاہین سے تشبیہ دی ہے ۔ وہ اقبال کے شاہین ہی تھے، جنہوں نے حصول پاکستان کے لیے گھر گھر روشنیوں کے چراغ روشن کیے اور وقت آنے پر اپنی جانوں کے نذرانے دے کر پاکستان کی صورت میں آنے والی نسلوں کا نصیب بنا دیا۔

شاہین 15 ہزار فٹ کی بلندی پر آسانی سے اڑان بھر سکتا ہے۔ اس پہلو سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہمارے نوجوانوں کو اپنی مثبت، بلند سوچ و افکار کے ساتھ اپنا مقصد زندگی متعین کرنا چاہیے، وہ بری صحبت سے گریز کریں ،ایسی صحبت سے تنہائی بہتر ہے، اُنہیں اپنا مقصد حیات حاصل کرنے کے لیے، کامیابی کے راستے میں پیش آنے والی مشکلات کا ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔شاہین آندھی و طوفان میں دوسرے پرندوں کی طرح گھونسلوں میں چھپ کر بیٹھنے کی بجائے طوفان سے لطف اندوز ہوتاہے اور طوفان کی مخالف سمت کو مزید اونچائی پر اڑتا ہے۔ 

 اسی طرح نوجوان بھی مشکلات کے طوفانوں سے دلبرداشتہ ہونے کی بجائے اسے اپنے تجربے و علم میں اضافے کا ذریعہ بنا لیں۔ دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی محنت کے بل بوتے پر اپنے لیے رزق کے ذرائع پیدا کریں،اس طرح مایوسی و پسماندگی کے سائے بھی ان سے دور ہوں گے۔ 

ہر جدید علم مٹھی میں ہونا چاہیے۔ نئی نئی تحقیقات و ایجادات ان کا شیوہ بن جانا چاہیے۔ لیکن افسوس ہمارے ملک میں اقبال کے شاہین کس رخ پر سفر کر رہے ہیں؟ مغربی تعلیم نوجوانوں کو اپنی قومی تاریخ و روایات سے بیگانہ کرکے مغربی طرزِ حیات کا دلدادہ بنا رہی ہے۔ وہ اپنی فطری حریت ، شجاعت اور بلند پروازی کو چھوڑ کر احساس ِ کمتری کا شکارہورہےہیں۔ 

بیشتر نوجوان اپنی مذہبی، مشرقی و ثقافتی روایات کو بھول کر اغیار کی تقلید میں اندھا دھند سرپٹ دوڑ رہے ہیں۔ عصر حاضر کا نوجوان دوہرے معیار میں بٹ چُکا ہے۔ وہ اپنے ملک میں نئے زمانے نئے صبح و شام پیدا کرنے کی بجائے اغیار کی نوکری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو بلندنگاہی و بلند مقاصد سے گرا کر صرف کھانے پینے اور اچھی ملازمت کے حصول تک محدود کررہے ہیں۔ آپس میں محبت و ایثار کی بجائے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں آسانی سمجھتے ہیں۔

یہ فیصلہ نے کرنا ہے کہ اُنہیں کس راستے کا انتخاب کرنا ہے، شاہین یا گرگس کا؟ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں میں شاہینی صفات بیدارکیے جائیں انہیں کرگس اور شاہین کا فرق سمجھایا جائے۔ ان کے سامنے ان کا مقصد واضح ہو، اگر کوئی مقصد ہی نہیں ہوگا تو پھر زندگی انھیں بہت پیچھے چھوڑ جائے گی ۔

آج پاکستان اوراُمت مسلمہ جن مصائب کا شکار ہے ان سے نکلنے کےلیے اقبال کے شاہینوں کو ایک بار پھر میدان عمل میں آنے کی ضرورت ہے۔ بس ضرورت اس امر کی ہے کہ امید کے دیے روشن رکھیں ۔