• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بجٹ میں غریب پہلی ترجیح ہوگا، وزیر خزانہ

وزیر خزانہ شوکت ترین نے پری بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اللّٰہ کا شکر ہے کہ کورونا کنٹرول میں آگیا ہے اور معیشت نے ریکوری کرنا شروع کردی ہے، بجٹ میں غریب پہلی ترجیح ہوگا۔

اسلام آباد میں پری بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا کہ پچھلے سال حکومت نے خود کہا کہ ہماری گروتھ 2اعشاریہ1 ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ اس سال فروری میں کورونا نے پھر سے سر اٹھایا، حکومت نے جو فیصلے لیے، مراعات دی گئیں اس سے لارجر اسکیل مینوفیکچرنگ نے بڑے پیمانے پر گروتھ دکھائی،لارجرا سکیل مینوفیکچرنگ نے9 فیصد گروتھ دکھائی۔

شوکت ترین نے کہا کہ اس وقت ترسیلات زر26 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہیں،ترسیلات زر 29 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے،کورونا کی وجہ سے معیشت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ترسیلات زر ثابت کرتی ہیں کہ اوورسیز کا عمران خان سے تعلق ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ترسیلات زر29 فیصد سے گروتھ کررہی ہیں، ترسیلات زر کو ہمارے لیے اللّٰہ تعالیٰ نے فرشتہ بنا کر بھیج دیا،کرنٹ اکاؤنٹ ہمارا سرپلس چل رہا ہے،زرمبادلہ کے ذخائر جو پہلے 2018 ء میں 7ارب ڈالر تھے اب 16ارب ڈالرتک ہیں۔

شوکت ترین نے کہاکہ میں پیش گوئی نہیں کرسکتا کہ گرے لسٹ سے وائٹ میں آجائیں گے،ایمیزون نے ہمیں سیلر لسٹ میں شامل کرلیا ہے،تین چار ماہ سے ماہانہ گروتھ 50 فیصد سے زیادہ ہے،ہم نے بجٹ 5اعشاریہ 7 ٹریلین کا رکھا ہے۔

وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہاکہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں بہتر چل رہی ہیں،ٹیکس وصولیاں گزشتہ سال کے مقابلے میں 11 فی صد سے زیادہ ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ہم چاہ رہے ہیں مہنگائی روکنے کے لیے پیداوار بڑھائیں، ہم زراعت ، زراعت ، زراعت میں پیداوار کو بڑھائیں گے، زرعی شعبے میں کموڈیٹی اسٹوریج لارہے ہیں۔

شوکت ترین نے کہا کہ ہمارا 1اعشاریہ 7 ٹریلین قرض بڑھا ہے، جبکہ پچھلے سال 3اعشاریہ 7 ٹریلین قرضہ بڑھا تھا جو اب اس سال آدھا ہے، شرح سود 13اعشاریہ 2سے کم کرکے 7 فیصد تک لائی گئی ہے،صنعتوں میں 26 فیصد گروتھ آیا ہے۔

وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہاکہ عالمی سطح پر احساس پروگرام بہترین پروگرام ہے، احساس پروگرام کے تحت15 ملین افراد کو نقد امداد دی گئی، ریٹنگ کمپنیوں نے ہمیں کنفرم کیا، جو ایک مہر ہے، اب ہم استحکام کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

شوکت ترین نے بتایا کہ ہم گروتھ کو پانچ چھ سات فیصد تک لے کر جائیں گے، ہم نوجوانوں کو روز گار دلانے کے لیے گروتھ لائیں گے، ہم نے غریب کا خیال رکھنا ہے، غریب آدمی کے لیے اس مرتبہ بجٹ میں توجہ دی گئی ہے، بینک چھوٹے طبقے کو قرض نہیں دیتے۔


وزیر خزانہ کاکہنا ہے کہ ہم نے غریب کی زندگی آسان کرنی ہے، ان کے خواب کو پورا کرنا ہے، اس بجٹ میں غریب ہمارے لیے نمبر ون ترجیح ہوگا، ایس ایم ایز کو صرف 6 فیصد قرض ملتا ہے، یہ کہاں کا انصاف ہے، کامیاب جوان پروگرام سے اس وقت 9 ہزار کے قریب لوگ مستفید ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم 4 فیصد شرح نمو پر ہیں، 7 سے 8 فیصد شرح نمو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے،ہمارے کمرشل بینک کو نچلے طبقے کو قرضے دینے نہیں آتے، پائیدار شرح نمو کے دیرپا استحکام کے لیے اقدامات کریں گے، کارپوریٹ سیکٹر 75 فیصد قرض لے جاتا ہے، ہم ایس ایم ایز کے لیے ہم اقدامات کررہے ہیں۔

شوکت ترین نے بتایا کہ برآمدات میں نئے راستے تلاش کریں گے،آئی ٹی 50فیصد گروتھ کررہی ہے، اس کو 100فیصد پر لے جائیں گے،بھارت نے 10 سال میں آئی ٹی کو 100 گنا بڑھایا، کیا ہم آئی ٹی کو 50 فیصد مزید نہیں بڑھاسکتے؟ ہمیں اپنے ہاں ڈالر کے ان فلو کو بڑھانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے برآمدات کو بہتر کرنا ہے،روایتی برآمدات کے علاوہ بھی دیگر مصنوعات کی برآمدات بڑھائیں گے،ہمیں برآمدات اور براہ راست سرمایہ کاری بڑھانی ہے، ہماری کوشش ہے کہ گردشی قرضہ ختم ہو جائے۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ پاور سیکٹر ہمارے لیے بہت بڑا چیلنج ہے، سی پیک میں خصوصی اقتصادی زونز بناچکے ہیں، جب تک ڈالر نہیں کمائیں گے قرضے کیسے اتریں گے، ہم نے اپنے معاشرے کو سوشل سیفٹی نیٹ ورک دینا ہے، 91ء سے نوازشریف بھی کہتے رہے نجکاری کرنی ہے۔


قومی خبریں سے مزید