• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی بجٹ میں عام آدمی کے لیے کیا ہے؟

یکم جولائی سے وفاقی سرکاری ملازمین کو 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا جائے گا، پنشن میں بھی10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ کم از کم اجرت 20 ہزار روپے ہو گی، بجٹ دستاویز کے مطابق زرعی آلات اور 850 سی سی تک کاروں کی درآمد کو ود ہولڈنگ ٹیکس سے بھی استثنیٰ دیا جا رہا ہے۔

موبائل فونز کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز رکھی گئی ہے، 3 منٹ سے زائد فون کال پر ایکسائز ڈیوٹی لگائی جارہی ہے، انٹرنیٹ کے استعمال اور ایس ایم ایس پر ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ کا بھی فیصلہ کیا گيا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یکم جولائی سے وفاقی سرکاری ملازمین کو10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا جائے گا، یکم جولائی سے پنشن میں بھی 10 فیصد اضافہ ہو گا، کم از کم اجرت 20 ہزار روپے ہو گی۔

شوکت ترین نے کہا کہ بجٹ دستاویز کے مطابق کرونا ویکسین کی درآمد پرایک ارب 10 کروڑ ڈالر خرچ کیے جائیں گے، جون 2022 تک 10 کروڑ پاکستانیوں کو ویکسین لگائی جائے گی۔

بجٹ دستاویز کے مطابق بینک ٹرانزیکشن، پاکستان اسٹاک ایکسچینج ٹرانزیکشن، ایئر ٹریول سروسز ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کے ذریعے بین الاقوامی ٹرانزیکشنز پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کتابوں رسالوں زرعی آلات اور 850 سی سی تک کاروں کی درآمد کو ود ہولڈنگ ٹیکس سے بھی استثنیٰ دیا جا رہا ہے۔

بجٹ دستاویز کے مطابق چھوٹے کاروبار کو سہولت دینے کے لیے سالانہ ٹرن اوور کی حد ایک کروڑ کی جارہی ہے۔

پی آئی اے کے لیے20 ارب روپے اور اسٹیل ملز کے لیے 16 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے فاٹا کے اضلاع کی ترقی کے لیے 54 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

بجٹ دستاویز کے مطابق تین منٹ سے زائد جاری رہنے والی موبائل فون کال پر ایکسائز ڈیوٹی نافذ کی جا رہی ہے۔

انٹرنیٹ کے استعمال اور ایس ایم ایس پر بھی ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ موبائل فونز کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

قومی خبریں سے مزید