• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم کی بجٹ پیشی پر وزیر خزانہ کی ستائش اور شاباش

اسلام آباد (فاروق اقدس،نامہ نگار خصوصی) وزیراعظم عمران خان اپنی حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کئے جانے کے موقع پر تمام وقت ایوان میں موجود رہے اور مختلف مواقعوں پر اشاروں کنایوں سے وزیر خزانہ شوکت ترین کی نہ صرف ستائش کرتے رہے بلکہ نماز کے وقفے میں انہیں بعض ہدایات بھی دیں۔

 وزیر خزانہ کی طویل بجٹ تقریر کا دورانیہ کم وبیش 90 منٹ پر محیط تھا لیکن شوکت ترین نے پورے اعتماد کے ساتھ اپنی بجٹ تقریر کی اور کسی موقع پر بھی ان کی جانب سے اعدادوشمار میں ابہام یا لہجے میں تھکن کا اظہار نہیں ہوتا تھا۔

 اور انکے اسی طرز عمل نے تقریر کے دوران مسلسل احتجاج کرنے والے اپوزیشن کے ارکان کو بری طرح تھکا دیا تھا جنہوں نے تقریر کے آغاز پر بڑے جوش وخروش سے نعرہ بازی، احتجاج اور سیٹیاں بجائیں اور بجٹ کی دستاویزات ڈیسک پر بجا بجا کر تقریر میں مسلسل خلل ڈالنے کی کوشش کی۔

 لیکن 68 سالہ شوکت ترین کے مقابل اپوزیشن میں انکے کئی ہم عمر احتجاج کرنے والے ارکان جلد ہی ہانپ کر اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے اور کئی معمر ارکان تو نشستوں سے اٹھے ہی نہیں بلکہ جبکہ کئی نوجوان بھی جن میں خواتین بھی شامل تھیں نڈھال ہوگئی۔

لیکن حکومتی بنچوں پر بھی صورتحال کچھ زیادہ مختلف نہیں تھی ،اپوزیشن کے احتجاج میں دبی ہوئی وزیر خزانہ کی تقریر چونکہ حکومتی ارکان کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی اس لئے انہیں یہ بھی نہیں پتہ چل رہا تھا کہ ’’ ستائشی ڈیسک‘‘ کب بجانے ہیں۔

 خود اگلی نشستوں پر موجود وزراء جن میں شبلی فراز بھی شامل تھے ،اس تجسس میں مبتلا تھے کہ تقریر کے کتنے صفحے باقی رہ گئے ہیں اور یہ تقریر کی طوالت کی ہی وجہ تھی کہ خود وزیراعظم بھی وزیر خزانہ کی تقریر کے آخری لمحات میں یہ سمجھ کر کہ تقریر ختم ہوگئی ہے۔

 اپنی نشست سے اٹھ کر باہر کی طرف چل دیئے تاہم احساس دلائے جانے پر وہ دوبارہ اپنی نشست پر آگئے اور خصوصی طور پر وزیر خزانہ کی نشست کے سامنے رکے اور ایک بار پھر ان کو شاباش دی اور شکریہ بھی ادا کیا، ایوان میں موجود تمام وقت وزیراعظم نے ایک مرتبہ بھی اپوزیشن بنچوں کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔

 وزیراعظم اور حکومتی اراکین اجلا س میں ٹھیک چار بجے پہنچ گئے تھے، پہلے سے موجود ارکان نے وزیراعظم کا پرتپاک استقبال کیا، جبکہ بلاول بھٹو اور شہباز شریف ’’ون آن ون‘‘ میٹنگ کے بعد ایک ساتھ ایوان میں داخل ہوئے۔

 اس موقع پر اپوزیشن بنچوں نے اس منظر کی بھرپور انداز میں پذیرائی کی اور بلاول بھٹو اپوزیشن لیڈر کی نشست تک ان کے ساتھ آئے۔ 

اس طرح اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کے قائدین نے بجٹ اجلاس سے آئندہ کیلئے ساتھ چلنے کا پیغام دیا، شاہد خاقان عباسی جو بجٹ اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے۔

 انہوں نے کچھ دیر کیلئے اجلاس میں شرکت کی’’ پارلیمنٹ ہائوس کی غلام گردشوں میں قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے خلاف پیش کی جانے والی عدم اعتماد کی تحریک کے حوالے سے یہ بات بھی گردش کر رہی تھی کہ اپوزیشن کوشش کر رہی ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک کو ہر صورت کامیاب بنانا ہے۔

 یاد رہے کہ پیر اور جمعرات کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈپٹی سپیکر کی حیثیت سے قاسم سوری نے یہ ریکارڈ قائم کیا تھا کہ مجموعی طور پر 31 بل منظور کرائے گئے تھے جو پارلیمانی تاریخ کا بھی ریکارڈ ہے۔

ملک بھر سے سے مزید