• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الماس روحی

جویریہ ایک اچھی لڑکی تھی۔ وہ روز اسکول جاتی تھی۔ اسے جھولا جھولنے کا بہت شوق تھا۔ وہ جلیبی، پھلوں کا رس ، جامن اور جیلی پسند کرتی تھی۔ جون ، جولائی کی چھٹیوں میں تفریح کی غرض سے اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ جھیل کی سیر کے لیے جاتی۔ وہاں اسے آبی پرندے، جن میں بگلے، راج ہنس، مرغابی نظر آتے جو سطح آب پر تیرتے ہوئے انتہائی بھلے لگتے۔ جویریہ انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوتی تھی۔ 

اس کا گھر بہت چھوٹا تھا، جب سب سوجاتے تو وہ رات کو دیر تک پڑھتی رہتی۔ پڑھتے پڑھتے کھڑکی سے آسمان کو جو دیکھتی تواسے جگ مگ ،جگ مگ کرتے ستارے بہت اچھے لگتے، وہ اکثر سوچتی کے کاش وہ ان تاروں کو چھو سکتی۔ جاڑے کی ایک رات اس نے آسمان کو دیکھا تو جگنو اڑتے نظر آئے، جن سے پھوٹنے والی روشنی تاریک ماحول میں اجالا کررہی تھی۔ وہ دل میں سوچنے لگی کہ کاش وہ ان میں سے کوئی جگنو پکڑ کر اپنے گھر کمرے میں رکھ سکتی جس سے بکھرتی روشنی میں وہ اپنی پڑھائی کرسکتی۔ ابھی وہ انہی خیالوں میں گم تھی کہ ایک جگنو اس کے پاس آبیٹھا اور بولا:

جاتے سمے کی بھاشا ہے

جو مجھ کو گنوائے گا

وہ بعد میں پچھتائے گا

تم جگنو ہو دھرتی کی

یہ کہہ کر جگنو اُڑ جائے گا

جو اچھے کام کر جائے گا

وہ دھرتی کا جگنو بن جائے گا

جویریہ کو جگنو کی نصیحت آمیز گفتگو بہت اچھی لگی۔ وہ خود بھی بڑوں کا ادب کرتی تھی جب کہ چھوٹوں سے محبت اور پیار سے پیش آتی تھی۔جمعرات آتی تو دادی کے ساتھ بازار اور جمعہ کو امی ابو کے ساتھ سیر کو جاتی تھی۔ گھر میں ہوتی تو جھاڑو لگاتی، گھر کی ہر چیز اپنی جگہ پر رکھتی۔ اگر کوئی چیز ٹوٹ جاتی تو اسے جوڑ دیتی۔ اسکول کی جرابیں دھوتی اور جوتوں پر پالش کرتی۔ 

اذان ہوتے ہی وہ پاک صاف جگہ پر جائے نماز بچھاتی اور نماز پڑھتی سب کے لیے دعا کرتی۔ دادا جان اسے دیکھ کر بہت خوش ہوتے، ڈھیروں دعائیں دیتے۔ جویریہ ایک ذہین لڑکی تھی لیکن جگنو کی نصیحت اس نے اپنے پلے سے باندھ کر رکھی ہوئی تھی۔ ماہ و سال گزرتے رہے۔ وہ امتحانات پاس کرتے ہوئے اعلیٰ جماعتوں میں آگئی جس کے بعد وہ ڈاکٹر بننے کے لیے جہاز میں بیٹھ کر اسکالر شپ پر جاپان جارہی تھی۔

ائیر پورٹ پر اسے الوداع کہنے کے لیے آنے والے اس کے امی ، ابو، داد، دادی اور دیگر رشتہ دار دعائیں دے رہے تھے۔ جہاز نے جب اڑان بھری تو نیچے اسے جگنو جگ مگ کرتے ،اڑتے نظر آئے، اسے یوں لگا جیسے وہ بھی اسے مسکراتے ہوئے الوداع کہہ رہے ہوں۔