• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چیونٹی اُن عام کیڑوں میں سے ایک ہے جو دُنیا کے ہر حصے میں پائی جاتی ہے پھر چاہے وہ جنگل ہو یا انسان کا گھر۔ دُنیا بھر میں چیونٹی کی 12ہزار سے زائد مختلف اقسام موجود ہیں، چیونٹیوں کو اُن کے سر پر لگےقدرتی دو ’اینٹیناز‘ اور مخصوص جسمانی ساخت کی بدولت پہچانا جاتا ہے۔

چیونٹی واقعی دلکش مخلوق ہے، آئیے چیونٹیوں کے بارے میں وہ دلچسپ حقائق جاننے کی کوشش کرتے ہیں جو شاید آپ کو آج سے پہلے معلوم نہ ہوں۔

چیونٹی کے بارے میں چند دلچسپ حقائق:

چیونٹی عام طور پر انسانی کھانا کھاتی ہے جیسے کوئی بھی میٹھی چیز جیسے چینی، چاکلیٹ، شہد، پھل یا کینڈی وغیرہ لیکن یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ چیونٹی کے دو معدے ہوتے ہیں، ایک معدے میں وہ اپنے لیے کھانا رکھتی ہے جبکہ دوسرے میں وہ اپنے ساتھیوں کے لیے کھانا رکھتی ہے۔

چیونٹی بہت طاقتور کیڑے مکوڑوں میں سے ایک ہے، یہ ایک وقت میں اپنے جسمانی وزن سے 20 گنا زیادہ وزن اُٹھاسکتی ہے، اسی وجہ سے اس کیڑے کو طاقتور کہا جاتا ہے۔

چیونٹی کے کان نہیں ہوتے ، وہ اپنے ساتھیوں کی پیروں کی آہٹ سے اُنہیں محسوس کرتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ان کے سر پر موجود اینٹیناز بھی اس کام میں اُن کی بہت مددکرتے ہیں۔

چیونٹیوں کے پھیپھڑے نہیں ہوتے، ان کے جسم میں آکسیجن چھوٹے سوراخوں کے ذریعے داخل ہوتی ہے جبکہ پیڑ پودوں سے ملنے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ ایک ہی سوراخ کے ذریعے ان کے جسم میں داخل ہوتی ہے۔

چیونٹی کی زندگی کی بات کریں تو ان میں سے کچھ چیونٹی کئی سال زندہ رہ سکتی ہیں اوراُن کے لاکھوں بچےبھی ہوتے ہیں، طویل عرصے تک زندہ رہنے والی چیونٹی کو ’ملکہ‘ کا درجہ دیا جاتا ہے۔

دوسری جانب چیونٹی کی موت کی وجہ جہاں انسان بنتے ہیں تو وہیں بہت سی چیونٹیاں آپس میں لڑائی جھگڑے کرتے ہوئے بھی مرجاتی ہیں۔

ایک مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چیونٹیاں کیڑے مکوڑوں میں سب سے قدیم ہیں، ان کا تعلق ڈائناسورز کے زمانے سے ہے، اسی لیے انہیں قدیم کیڑے کہا جاتا ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید