• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ: آئندہ مالی سال کا 1477 ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش


وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے منگل کو صوبائی اسمبلی کے فلور پر 329 ارب 30 کروڑ 3 لاکھ روپے کے ترقیاتی پورٹ فولیو کے ساتھ 14 سو 77 ارب 90 کروڑ روپے کے خسارے کا بجٹ پیش کیا۔

اپنی بجٹ تقریر کے دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ آئندہ بجٹ 22-2021 کے حجم کا تخمینہ 1477.903 ارب روپے لگایا گیا ہے جس کے مقابلہ میں وفاقی و صوبائی منتقلی سمیت کل وصولیاں 1452.168 ارب روپے ہوں گی جس میں 25.738 ارب روپے کا خسارہ ظاہر ہوا۔

اپنی تقریر کے آغاز میں وزیراعلیٰ سندھ نے پیپلز پارٹی کی حکومت پر اعتماد بحال کرنے پر صوبے کے عوام کا شکریہ ادا کیا اور ان کی توقعات پر پورا اترنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ جب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی ہے عوام نے ہمیشہ ترقیاتی پروگرامز کی حمایت کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے عوام نے پے درپے انتخابات میں گورننس حکمرانی کو ہمارے ہاتھ میں سونپ کر صوبے کے لیے ہماری خدمات کو تسلیم کیا، خاص طور پر 2018 کے عام انتخابات میں جہاں ہم نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں اور ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ خدمات کرنے کا موقع ملا۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہماری کامیابیوں کی تعمیر ہماری پالیسیوں کا تسلسل ہے، ہم نے صحت کے شعبہ کی توسیع و پھیلاؤ کے لیے ایک مفصل لائحہ عمل پر کام کیا۔

انھوں نے بتایا کہ اگلے مالی سال میں ہم درج ذیل کارگزاریاں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

  • آئندہ مالی سال 22-2021 کے لیے صوبے کا کل بجٹ 1477.903 ارب روپے ہے۔
  • مالی سال 22-2021 کے لیے صوبائی بجٹ میں 19.1 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
  • آج سندھ اسمبلی میں 1477.903 ارب روپے کا خسارے کا بجٹ پیش کیا، خسارے کا تخمینہ 25.738 ارب روپے لگایا گیا۔
  • آئندہ مالی سال 22-2021 کے لیے صوبے کی اپنی وصولیاں 329.319 ارب روپے متوقع ہیں۔
  • آئندہ مالی سال 22-2021 کیلئے اس صوبے کے متواتر اخراجات 1089.372 ارب روپے ہیں۔ 
  • صوبے کے آئندہ مالی سال کے لیے ترقیاتی اخراجات 329.033 ارب روپے متوقع ہیں۔
  • رواں مالی سال کے مقابلہ میں آئندہ مالی سال کے دوران ترقیاتی اخراجات میں 41.3 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔
  • آئندہ مالی سال 22-2021 میں صوبائی اے ڈی پی کے لیے 222.500 ارب روپے مختص کیے گئے، صوبائی اے ڈی پی میں 43.5 فیصد اضافہ کیا گیا،  ضلع اے ڈی پی کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، آئندہ مالی سال 22-2021 میں ضلعی اے ڈی پی میں 100 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
  • آئندہ مالی سال 22-2021 میں صحت کی خدمات کے لیے 172.08 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جس کے بجٹ میں 29.5 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ 
  • بالخصوص وبا سے نمٹنے کے لیے 24.72 بلین روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں، جبکہ رسک الاؤنس بھی شامل کیا گیا ہے۔
  • صحت کے شعبہ میں مختلف سطح کی 964 اسامیاں تخلیق کی جائیں گی۔
  • ادویات کی خریداری کے لیے 18.32 بلین تجویز کیے گئے ہیں۔
  • کوروناکے تناظر میں پی سی آر اور پی پی ای کی کٹس کی خریداری کیلئے 2بلین روپے رکھے گئے ہیں، جس کا مجموعی تخمینہ 20.822 بلین روپے ہے۔
  • پی پی ایچ آئی کے لیے بجٹ میں 26 فیصد اضافے کے ساتھ 8.2 ارب روپے کردی گئی ہے۔
  • انڈس ہسپتال کو سالانہ گرانٹ 2.5 ارب روپے رکھی گئی ہے، اس کے علاوہ انڈس اسپتال کی توسیع کے لیے 2 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
  • ایس آئی یو ٹی کو دی جانے والی گرانٹ میں 27 فیصد اضافہ کرکے 7.12 ارب روپے کیا گیا ہے۔
  • آئندہ مالی سال 22-2021 میں صحت کے لیے ترقیاتی بجٹ میں 18.50 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
  • صوبے میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے آئندہ مالی سال 22-2021 میں 119.97 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
  • سندھ انفیکشن ڈیزیز اسپتال کراچی میں بائیو سیفٹی لیب III کا قیام کیا جائے گا۔
  • سندھ کے بڑے اسپتالوں میں آکسیجن جنریشن /میڈیکل گیس پلانٹ کی تنصیب و فراہمی کی جائے گی۔
  • سندھ انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کورنگی نمبر 5 کا قیام کیا جائے گا۔
  • ایکسیڈنٹ ایمرجنسی سینٹرز کو قائم کیا جائے گا، ایکسیڈنٹ ایمرجنسی سینٹرز کی دو اسکیمیں ہے، ایک موٹروے تھانہ بولا خان انٹر چینج اور دوسرا ہاکس بے کراچی میں بنایا جائے گا۔
  • سندھ ہیومن کیپٹل پراجیکٹس سندھ 1000 ڈیز پلس پروگرام ہے،  یہ پروگرام مستحکم ہیلتھ کیئر سروسز اور یونیورسل ہیلتھ کیئر کوریج پر مشتمل ہے اس کا مجموعی تخمینہ 400 ملین امریکی ڈالر ہے۔
  • اسٹیٹ آف دی آرٹ کی طرز کا مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ کیئر سینٹر قائم کیا جائے گا، اس سینٹر کی لاگت کا مجموعی تخمینہ 4.789 بلین روپے ہے، یہ چائلڈ ہیلتھ کیئر سینٹر جائیکا کی گرانٹ کے تحت قائم کیاجائے گا۔
  • صوبے کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
  • آئندہ مالی سال کے لیے کم سے کم اجرت 17500 روپے سے بڑھا کر 25000 روپے کردی گئی ہے۔
  • مجموعی تنخواہوں اور کم سے کم اجرت یعنی 25000 روپے کے درمیانی فرق کو ختم کرنے کے لیے سندھ حکومت ملازمین کیلئے (ماسوائے پولیس کانسٹیبلز، گریڈ 01 سے گریڈ 05 تک) ذاتی الاؤنس متعارف کرایا گیا ہے۔
  • آئندہ مالی سال 22-2021 کے لیے مستحق افراد کی معاونت اور معیشت کی بحالی کے سلسلے میں 30.90 ارب روپے کے غریب افراد کے سماجی تحفظ اور معاشی استحکام پیکیج کو دوبارہ بجٹ میں رکھا گیا ہے۔
  • زراعت کے شعبے کی بحالی کے لیے 3.00 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
  • شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے 16.00 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
  • تعلیم کے شعبے کے لیے 3.20 ارب روپے رکھے گئے ہیں، آئی ٹی سیکٹر کی بحالی کے لیے 1.70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
  • ایس ایم ایز کے توسط سے صنعتی ترقی کے لیے 3 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ 
  • کم لاگت کی ہاؤسنگ کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
  • لائیو اسٹاک اینڈ فشریز کی معاونت کے لیے ایک ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
  • زراعت سے وابسطہ خواتین کے لیے 500 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ 
  • اسپشل چلڈرن فنڈ کیلئے 500 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
  • صوبے میں تعلیم کے شعبے کے لیے بجٹ میں 14.2 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور اس شعبے کے لیے 277.56 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
  • اسکولز کے لیے فرنیچر کی خریداری کے سلسلے میں 6.623 روپے مختص کیے گئے ہیں، صوبے میں اسکولوں کی تزئین و آرائش کے لیے 5.00 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
  • صوبے میں کالجز کی مرمت اور بحالی کے لیے 425 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
  • آئندہ مالی سال 22-2021 میں تعلیم کے شعبے کے لیے ترقیاتی بجٹ کی مد میں 26 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
  • بلدیات کے بجٹ میں 31.3 فیصد اضافہ کرکے 10.48 ارب روپے کیا گیا ہے،  اس کے علاوہ مقامی کونسلز کے فنڈز کے لیے 82.00 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
  • بلدیاتی اداروں کے ترقیاتی بجٹ کے لیے 25.500 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
  • پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے لیے مختص شدہ رقم میں 7.52 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
  • محکمہ سوشل ویلفیئر کے لیے 18.61 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
  • آئندہ مالی میں محکمہ ری ہیبلیٹیشن کے لیے 60.9 فیصد اضافے کے ساتھ 1.840 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
  • محکمہ وومین ڈیولپمنٹ کے لیے مختص شدہ رقم کو 64.1 فیصد اضافے کے ساتھ 571.97 ملین روپے کردی گئی ہے۔
  • محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ کے لیے مختص شدہ رقم کو 15 فیصد اضافے کے بعد 7.64 ارب روپے کردیا گیا ہے، کیونکہ 250 ڈیزل ہائبرڈ الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی۔
  • ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ کی اے ڈی پی میں آئندہ مالی سال کے لیے 8.2 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
  • اس کے علاوہ 20.59 ارب روپے غیر ملکی منصوبوں کی معاونت کیلئے بھی مختص کیے گئے ہیں۔
  • آئندہ مالی سال میں محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے لیے 16.03 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
  • آئندہ مالی سال میں ورکس اینڈ سروسز کے ترقیاتی بجٹ کے لیے 30 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

اپنی تقریر کے دوران وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال میں تعلیمی شعبے کے لیے بجٹ کا سب سے بڑا حصہ رکھا گیا ہے، اس کے بعد صحت اور بلدیات کا حصہ ہے۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنا شروع کیا تو اپوزیشن کی جانب سے شور مچایا جانے لگا، اسمبلی ہال میں سیٹیاں بجائی جانے لگیں، نعرے لگائے جانے لگے۔

اپوزیشن کے شور شرابے کے باعث اسمبلی ہال مچھلی بازار کا منظر پیش کرنے لگا اور کان پڑی کوئی آواز نہیں سنائی دے رہی تھی۔

سندھ کا بجٹ پیش کرنے والے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے شور سے بچنے کے لیے کانوں پر ہیڈ فون لگا لیئے اور شور شرابے کے باوجود بجٹ تقریر جاری رکھی۔

اسپیکر سندھ اسمبلی کی جانب سے اپوزیشن کے اس رویّے پر شدید ناراضی کا اظہار کیا گیا۔

قومی خبریں سے مزید