• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ: صحت کے شعبے کے لیے بجٹ میں 29.5 فیصد اضافہ

سندھ میں صحت کے شعبے کے لیے بجٹ میں  29.5 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور اس کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 172.08 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے منگل کو صوبائی اسمبلی کے فلور پر 329 ارب 30 کروڑ 3 لاکھ روپے کے ترقیاتی پورٹ فولیو کے ساتھ 14 سو 77 ارب 90 کروڑ روپے کے خسارے کا بجٹ پیش کیا۔

اس دوران وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوویڈ-19 کی وبا سے جہاں ایک طرف پوری دنیا کی صحت کے نظام کو متاثر کیا ہے، وہیں سندھ میں بھی صحت کی ضروری سہولیات کی متواتر فراہمی کو یقینی بنانا ایک چیلنج بنا رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں پورے صوبے سندھ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت اس وبا کا مقابلہ کامیابی سے کیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ اس دوران صحت کی دیگر سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا گیا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت عالمی وبا سے نمٹنے کیلئے اور صحت کی دیگر سہولیات کی فراہمی میں ایک توازن قائم رکھنے میں کامیاب رہی۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صحت کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کئی معاہدوں کی معیاد تکمیل کے قریب ہے، لیکن 22-2021 میں دوبارہ تشہیر کے ذریعے صحت کی فراہمی کے ایسے مزید معاہدے کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال 22-2021 میں صحت کی خدمات کے لیے 172.08 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جس کے بجٹ میں 29.5 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بالخصوص وبا سے نمٹنے کے لیے 24.72 بلین روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں، جبکہ رسک الاؤنس بھی شامل کیا گیا ہے۔

صوبے میں صحت کے شعبہ میں مختلف سطح کی 964 اسامیاں تخلیق کی جائیں گی۔ 

کوروناکے تناظر میں پی سی آر اور پی پی ای کی کٹس کی خریداری کیلئے 2 بلین روپے رکھے گئے ہیں، جس کا مجموعی تخمینہ 20.822 بلین روپے ہے۔

پی پی ایچ آئی کے لیے بجٹ میں 26 فیصد اضافے کے ساتھ 8.2 ارب روپے کردی گئی ہے۔

انڈس اسپتال کی سالانہ گرانٹ 2.5 ارب روپے رکھی گئی ہے، اس کے علاوہ انڈس اسپتال کی توسیع کے لیے 2 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

ایس آئی یو ٹی کو دی جانے والی گرانٹ میں 27 فیصد اضافہ کرکے 7.12 ارب روپے کیا گیا ہے۔

آئندہ مالی سال 22-2021 میں صحت کے لیے ترقیاتی بجٹ میں 18.50 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

سندھ انفیکشن ڈیزیز اسپتال کراچی میں بائیو سیفٹی لیب III کا قیام کیا جائے گا۔

سندھ کے بڑے اسپتالوں میں آکسیجن جنریشن /میڈیکل گیس پلانٹ کی تنصیب و فراہمی کی جائے گی۔

سندھ انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کورنگی نمبر 5 کا قیام کیا جائے گا۔

ایکسیڈنٹ ایمرجنسی سینٹرز کو قائم کیا جائے گا، ایکسیڈنٹ ایمرجنسی سینٹرز کی دو اسکیمیں ہے، ایک موٹروے تھانہ بولا خان انٹر چینج اور دوسرا ہاکس بے کراچی میں بنایا جائے گا۔

سندھ ہیومن کیپٹل پراجیکٹس سندھ 1000 ڈیز پلس پروگرام ہے، یہ پروگرام مستحکم ہیلتھ کیئر سروسز اور یونیورسل ہیلتھ کیئر کوریج پر مشتمل ہے اس کا مجموعی تخمینہ 400 ملین امریکی ڈالر ہے۔

اسٹیٹ آف دی آرٹ کی طرز کا مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ کیئر سینٹر قائم کیا جائے گا، اس سینٹر کی لاگت کا مجموعی تخمینہ 4.789 بلین روپے ہے، یہ چائلڈ ہیلتھ کیئر سینٹر جائیکا کی گرانٹ کے تحت قائم کیا جائے گا۔

قومی خبریں سے مزید