• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

پنجاب میں آئندہ دِنوں سیاسی تبدیلیوں کا امکان

بجٹ ہر طبقے کے افراد کی دلچسپی اور امیدوں کا مرکز بنتا ہے، ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس کو ایسا ریلیف ملے کہ زندگی میں آسانیاں پیدا ہوں،خاص طور پر تنخواہ دار اور کاروباری طبقہ بڑی شدت سے آئندہ سال کے لیے بنائی جانے والی معاشی پالیسیوں کا انتظار کرتا ہے، خوش آئند بات یہ ہے کہ بزدار حکومت نے وفاق کے بعد پنجاب کا بھی متوازن بجٹ پیش کیا ہے۔ 

خاص بات یہ ہے کہ مزدور کی کم سے کم اجرت 20ہزار روپے مقرر کرنے سے ورک چارج دہاڑی دار طبقہ کو کچھ ریلیف ملے گا جبکہ سندھ حکومت نے کم سے کم اجرت 25 ہزار مقرر کرکے سیاسی برتری حاصل کر نے کی اچھی کوشش کی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اپوزیشن میں پھوٹ پڑی ہے،اس لئے بجٹ کی منظوری کا مرحلہ مکمل ہو جانے کے آثار نمایاں نظر آ رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ پنجاب سمیت ملک بھر میں بڑی اہم تبدیلیاں ہوتی نظر آ رہی ہیں، پنجاب میں کچھ تبدیلیاں ہو چکی ہیں اور بہت سی ہونے جاری ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے پاس ڈلیور کرنے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا ، اب زبانی جمع خرچ سے کام نہیں چلے گا، ہر صورت عوامی ریلیف کے منصوبے شروع کرنا ہونگے، جاری منصوبوں کو مکمل کرنا ہو گا اور نئے منصوبوں کو نہ صرف شروع کرنا بلکہ بروقت مکمل بھی کرنا ہونگا۔ 

لاہور سیاست کا گڑھ سمجھا جاتاہے، پی ٹی آئی کی حکومت نے پونے تین سالوں میں فرودس مارکیٹ انڈر پاس ، شیلٹر ہومز کے علاوہ کوئی ایسا خاص منصوبہ نہیں بنایا جس کو پرفارمنس کے طور پر آئندہ عام انتخابات میں عوام کے سامنے پیش کیا جا سکے،بہرحال لاہور کے ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنے کا سہرا ایل ڈی اے کے سر باندھا گیا، ڈی جی ایل ڈی اے احمد عزیز تارڑ نے بزدار سرکار کے ویژن کے مطابق ترقیاتی پراجیکٹس میں تیزی کردی ہے لاہور کا ماسٹر پلان سمیت کئی میگا پراجیکٹس شروع کردیئے ہیں، وائس چیئرمین ایل ڈی اے ایس ایم عمران نیاں پاکستان منصوبے کے تحت ایل ڈی اے سٹی 35ہزار افورڈ ایبل ایپارٹمنٹس پر اپنی پوری توجہ مرکوز رکھے ہیں ۔

وزیراعظم کے عام شہریوں کیلئے منصوبے نیا پاکستان ایل ڈی اے سٹی اپارٹمنٹس سمیت شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کیلئے سابق چیف انجینئر کو تبدیل کرکے منصوبوں کو معیاری اور بروقت مکمل کروانے کی صلاحیت رکھتے والے اچھی شہرت کے حامل اسپیڈی چیف انجینئر مظہر حسین خان کو چیف انجینئر ایل ڈی اے تعینات کرنے کا پنجاب حکومت کا اچھا فیصلہ ہے ۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ لاہور میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل بروقت اور معیاری کرانا ہو گی،پنجاب کے بجٹ میں لاہور میں ایک ہزار کمروں پر مشتمل نیا ہسپتال بنانے کامنصوبہ بھی پیش کیا گیا ہے،37 سال بعد شہر میں طبی سہولیات کے لیے باقاعدہ نیا ہسپتال بنانے کا فیصلہ خوش آئند ہے، اس منصوبے کے لیے بھی ذمہ دار افسران کا تقرر انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا، اس طرح رینالہ خورد سمیت پنجاب بھر میں وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق شروع کئے گئے سستے گھروں کی تعمیر کی تکمیل کرنا ہو گی۔ حکومتی ذرائع کا بتانا ہے کہ حکومت اس وقت پراجیکٹس مکمل کرنے کیلئے انتہائی سنجیدہ ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ اراکین اسمبلی کے حلقوں میں ڈویلپمنٹ کے لئے فنڈز مختص کیے گئے ہیں، صحت کارڈ بلا سود آسان قرضے، چھوٹی گاڑیوں میں ریلیف یہ سب عوام دوست بجٹ کی نشانی ہیں مگر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اب حکومت کو چاہئے کہ مہنگائی پر کنٹرول کو یقینی بنائے ورنہ آئندہ عام انتخابات میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہونگے یہ درست ہے کہ حکومت کے تقریباً 2 سال کورونا کے ساتھ لڑتے ہوئے گزر گئے ہیں، اب ملک بہتری کی طرف جانا شروع ہو چکا ہے۔ پنجاب میں بڑی سیاسی اور بیورو کریٹک تبدیلیوں کا موسم شروع ہونے والا ہے۔ 

سیاسی پنڈتوں کا بتانا ہے نظام میں بعض اہم تبدیلیاں ہونے جاری ہیں جو کہ سیاسی بھی ہو سکتیں ہیں اور بیوروکریٹک بھی۔ چیف سیکرٹری پنجاب کے تبدیل ہونے کی خبروں تیزی آچکی ہے اور نئے چیف سیکرٹری پنجاب کیلئے پرنسپل سیکرٹری سی ایم پنجاب طاہر خورشید کا نام موزوں ترین امیدوار کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس کی وجہ ان کی اچھی شہرت اور محنتی ہونے کے ساتھ بزدار کے وفادار ہونا ہے۔سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں بطور چیف سیکرٹری پنجاب طاہر خورشید پی ٹی آئی کی حکومت کیلئے بہترین چوائس ہوگی ۔ 

یہاں ایک خبر دیتا جائوں کہ تبدیل وہ لوگ ہونگے جو ڈلیور نہیں کر سکے ہیں خواہ وہ بہت اہم ہیں یا بہت طاقتور ہیں۔ ایسا ہونا ہے جو ابھی نظر نہیں آئے گا لیکن ہو گا کچھ ایسا کہ بہت زیادہ طاقتور ہو سکتا ہے کہ انتہائی کمزور ہو جائے اور بے اختیار بااختیار ہو جائے ۔ سیاسی پنڈتوں کا یہ بھی بتانا ہے کہ اب مقتدر حلقے نالائقیوں سے تنگ آچکے ہیں کرپٹ اور مال اکٹھا کرنے والے بھی ٹارگٹ پر ہیں، اگر یہ کہا جائے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کی بقا اب ڈلیور کرنے میں ہی ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ پی ٹی آئی کی حکومت کو درپیش مسائل میں بڑے روزگاری، کرپشن اور مہنگائی ہیں اس پر آئندہ چند روز میں حکومت کی نئی پالیسی سامنے آ جائے گی۔ 

اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے اندر موجود گروپوں کو وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے اپنی دوستانہ مخلصانہ حکمت عملی سے تقریباً ختم کر دیا ہے بلکہ یہ کہنا ٹھیک رہے گا کہ اب سب ٹھیک ہے، بہرحال عوام کو براہ راست ریلیف دینے والی پالیسیاں ضروری ہیں، دوسری صورت میں شدید ردعمل حکومت اور اتحادیوں سب کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید