• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلوچستان میں اپوزیشن کا احتجاج، اہم شاہراہیں بند


بلوچستان میں اپوزیشن کی جانب سے بجٹ میں نظر انداز کیئے جانے کے خلاف صوبے بھر میں احتجاج جاری ہے، متعدد اہم شاہراہوں کو بند کر دیا گیا جبکہ ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہے۔

آئندہ بجٹ میں نظر انداز کیئے جانے پر اپوزیشن اراکینِ اسمبلی کا کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی کے باہر احتجاجی کیمپ آج تیسرے روز بھی جاری ہے۔

احتجاجی کیمپ میں اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے بعض اراکین موجود ہیں۔

اپوزیشن اراکینِ اسمبلی نے احتجاجی کیمپ آئندہ بجٹ میں نظر انداز کیئے جانے کے خلاف 2 روز قبل شروع کیا تھا۔

اپوزیشن اراکین اسمبلی کا گِلا ہے کہ آئندہ بجٹ کے حوالے سے انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

اپوزشن جماعتوں کی جانب سے اسی معاملے پر آج صوبے بھر کی اہم شاہراہیں بھی بند کر دی گئی ہیں۔

چمن میں بجٹ میں حزبِ اختلاف کو نظر انداز کرنے پر متحدہ اپوزیشن نے ہڑتال کرتے ہوئے کوژک ٹاپ اور سید حمید کراس پر دھرنا دے دیا۔

کوئٹہ چمن شاہراہ پر ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہو گئی اور گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے خانو زئی، مسلم باغ، قلعہ سیف اللّٰہ میں بھی دھرنا دے کر کوئٹہ ژوب شاہراہ کو بند کر دیا گیا۔

مظاہرین نے لورا لائی ڈی جی خان، ژوب ڈی آئی خان قومی شاہراہیں آمدورفت کے لئے بند کر دی ہیں۔

کوئٹہ ، ہرنائی، زیارت اور دکی کی قومی شاہراہیں بھی بند ہیں اور ان پر بھی ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہے۔

مستونگ میں بھی بجٹ میں حزبِ اختلاف کو نظر انداز کرنے پر اپوزیشن جماعتوں نے دھرنا دے دیا، جس کے باعث کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ تفتان قومی شاہراہیں بند ہو گئیں۔

ان قومی شاہراہوں کی بندش سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

قومی خبریں سے مزید